Tafsir As-Saadi
58:8 - 58:9

کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جو روکے گئے تھے سر گوشی کرنے سے، پھر وہ لوٹتے ہیں طرف اس چیز کی کہ روکے گئے تھے وہ اس سے، اور وہ سرگوشیاں کرتے ہیں گناہ کی اور زیادتی کی اور نافرمانی ٔ رسول کی اور جب وہ آتے ہیں آپ کے پاس تو وہ دعا دیتے(سلام کہتے) ہیں آپ کو ساتھ اس (کلمے) کے کہ نہیں دعا دی آپ کو ساتھ اس کےاللہ نے، اور وہ کہتے ہیں اپنے نفسوں میں، کیوں نہیں عذاب دیتا ہمیں اللہ بوجہ اس کےجو ہم کہتے ہیں؟ کافی ہے ان کو جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس برا ہے وہ ٹھکانا(8) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب سرگوشی کرو تم، تو نہ سرگوشی کرو گناہ کی اور زیادتی کی اور نافر مانی ٔرسول کی اور سرگوشی کرو تم نیکی اور تقوے کی اور ڈرو تم اللہ سے، وہ کہ اسی کی طرف اکٹھے کیے جاؤ گے تم(9)

[8، 9]﴿ النَّجۡوٰى﴾ دو یا دو سے زیادہ آدمیوں کا آپس میں سرگوشی کرنا ۔کبھی سرگوشی بھلائی کے معاملے میں ہوتی ہے اور کبھی برائی کے معاملے میں ہوتی ہے پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ نیکی کے معاملے میں سرگوشی کیا کریں۔(اَلْبِرُّ) نیکی اور اطاعت کے ہر کام اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے قیام کے لیے ایک جامع نام ہے۔ ﴿ التَّقۡوٰى﴾ تمام محارم اور گناہ کے کاموں کو ترک کر دینے کے لیے جامع نام ہے پس بندۂ مومن اس حکم الٰہی کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے، اس لیے آپ اسے صرف اسی چیز کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے پائیں گے جو اللہ تعالیٰ کے قریب اور اس کی ناراضی سے دور کرتی ہے۔ (اَلْفَاجِر) اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو ہیچ اور حقیر سمجھتا ہے، جو گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے لیے سرگوشی کرتا ہے، جیسے منافقین، جن کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہی حال اور وتیرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِذَا جَآءُوۡكَ حَيَّوۡكَ بِمَا لَمۡ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ﴾ ’’اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو اس کلمے سے سلام کرتے ہیں جس کے ساتھ اللہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔‘‘ یعنی آپ کو سلام کرنے میں سوء ادبی کا مظاہرہ کرتے ہیں ﴿ وَيَقُوۡلُوۡنَ فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ یعنی وہ اپنے دل میں ایک قول کو چھپاتے ہیں جس کا ذکر غیب و شہادت کا علم رکھنے والی ہستی نے کیا ہے اور وہ ان کا یہ قول ہے: ﴿ لَوۡلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوۡلُ﴾ ’’اللہ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا۔‘‘ اور مطلب اس کا یہ ہے کہ وہ اس کو حقیر اور ہیچ سمجھتے ہیں، اور ان پر جلدی عذاب نہ آنے سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں باطل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ وہ (مجرموں کو) مہلت دیتا ہے، مہمل نہیں چھوڑتا۔ ﴿ حَسۡبُهُمۡ جَهَنَّمُ١ۚ يَصۡلَوۡنَهَا١ۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی ان کے لیے جہنم کافی ہے، جس میں ان کے لیے ہر قسم کا عذاب اور بدبختی جمع ہے۔ جہنم ان کو گھیر لے گا اور جہنم میں ان کو عذاب دیا جائے گا۔ ﴿ فَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’پس وہ بہت بری لوٹنے کی جگہ ہے۔‘‘ یہ لوگ جن کا (ان آیا ت کریمہ میں)ذکر کیا گیا ہے، یا تو منافقین میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ سے اس خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہوتے تھے، جس سے وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ اس خطاب سے ان کا ارادہ بھلائی ہے حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹے تھے۔ یا اہل کتاب میں سے وہ لوگ تھے جو رسول اللہ ﷺ کو سلام کرتے ہوئے کہا کرتے تھے۔ (السَّامُ عَلَیْکَ یَامُحَمَّدُ)اور وہ اس سے موت مراد لیتے تھے۔