اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب کہا جائے تم سے، کشادگی کرو تم مجلسوں میں تو کشادگی کرو تم، کشادگی کرے گا اللہ تمھارے لیے، اور جب کہا جائے، اٹھ کھڑے ہو تم تو کھڑے ہو جایا کرو تم، بلند کرے گا اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے تم میں سے اور ان لوگوں کو جو دیے گئے علم، درجوں میں اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے (11)
[11] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ادب کی تعلیم ہے کہ جب وہ کسی مجلس میں اکٹھے ہوتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ یا آنے والے دیگر لوگ مجلس میں کشادگی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، پس یہ آداب مجلس کا حصہ ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کی خاطر مجلس میں کشادگی پیدا کریں، یہ چیز کشادگی کرنے والے کو کوئی نقصان نہیں دیتی، لہٰذا اس کو ضرر لاحق ہوئے بغیر اس کے بھائی کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے، اس لیے جو کوئی اپنے بھائی کے لیے کشادگی پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے کشادگی پیدا کر دیتا ہے، جو کوئی اپنے بھائی کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے۔ ﴿ وَاِذَا قِيۡلَ انۡشُزُوۡا﴾ جب کسی ضرورت کے تحت یہ کہا جائے کہ اٹھ جاؤ اور اپنی مجالس کو چھوڑ دو ﴿ فَانۡشُزُوۡا﴾ تو اس مصلحت کے حصول کی خاطر فوراً اٹھ جایا کرو۔ کیونکہ اس قسم کے معاملات کا لحاظ رکھنا، علم اور ایمان کا حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل علم و ایمان کے، ان کے علم و ایمان کے مطابق درجات بلند کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ہر اس عمل سے جو تم کرتے ہو، خوب خبردار ہے۔‘‘ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو ان کے عمل کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہو گا تو بری جزا ہو گی۔اس آیت کریمہ میں علم کی فضیلت کا اثبات ہے، نیز یہ کہ علم کی زینت اور اس کا ثمرہ اس کے آداب کو اختیار کرنا اور اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا ہے۔