Tafsir As-Saadi
59:18 - 59:21

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سے اور چاہیے کہ دیکھے (ہر) نفس کیا آگے بھیجا ہے اس نے کل کے لیے؟ اور ڈرو تم اللہ سے، بلاشبہ اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو (18) او ر نہ ہو تم مانند ان لوگوں کے جنھوں نے بھلا دیا اللہ کو، پس بھلوا دیے اللہ نے ان کو ان کے نفس یہی لوگ فاسق ہیں(19) نہیں برابر آگ والے(جہنمی)اور باغ والے (جنتی) جنتی ہی کامیاب ہیں (20) اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر تو دیکھتا تو اس (پہاڑ) کو جھکنے والا پھٹنے والااللہ کے خوف سے اور یہ مثالیں ہیں، ہم بیان کرتے ہیں ان کو لوگوں کے لیے، شاید کہ وہ غور و فکر کریں (21)

[18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ان امور کا حکم دیتا ہے جن کا ایمان موجب ہے اور کھلے چھپے تمام احوال میں التزام تقویٰ کا تقاضا کرتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ ان اوامر و حدود کی رعایت رکھیں جن کا اللہ نے انھیں حکم دیا ہے اور اس بات پر غور کریں کہ ان کے فرائض کیا ہیں اور ان کے لیے عنایات کیا ہیں اور انھوں نے کون کون سے اعمال کیے جو انھیں قیامت کے روز نفع یا نقصان دیں گے۔ کیونکہ جب وہ آخرت کو اپنا نصب العین اور اپنے دلوں کا قبلہ بنا لیں گے اور اس میں قیام کا اہتمام کریں گے تو وہ کثرت اعمال کی کوشش کریں گے جو اس نصب العین تک پہنچاتے ہیں اور ایسے قواطع طریق سے اس کو پاک کرتے ہیں جو انھیں سیر و سلوک سے روکتے ہیں یا انھیں باز رکھتے ہیں یا ان کا رخ بدل دیتے ہیں۔جب انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی خبر رکھنے والا ہے ان کے اعمال اس سے چھپے ہوئے نہیں ہیں، ان کے اعمال اس کے ہاں ضائع ہوتے ہیں نہ بیکار جاتے ہیں تو یہ چیز ان پر جدوجہد کو واجب کرتی ہے۔یہ آیت کریمہ بندے کے لیے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی بنیاد ہے۔ وہ یہ کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا معائنہ کرے۔ اگر وہ اپنے اندر کوئی لغزش دیکھے تو اس کو ختم کر کے، خالص توبہ کے ذریعے سے ، ان امور سے منہ موڑ کر اس کا تدارک کرے جو اس لغزش کا باعث ہیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کے بارے میں اپنے آپ میں کوئی کوتاہی دیکھے تو اپنی پوری کوشش صرف کر دے، اس کی تکمیل و اتمام اور اس کی اچھی طرح تعمیل کے لیے اپنے رب سے مدد مانگے، اپنی ذات پر اللہ تعالیٰ کی عنایات و احسانات اور اپنی تقصیر کے مابین موازنہ کرے۔ یہ چیز لا محالہ اس کے لیے حیا کی موجب ہو گی۔
[19] یہ ہر لحاظ سے حرماں نصیبی ہے کہ بندہ اس معاملے میں غافل رہے اور ان لوگوں کے مشابہ ہو جائے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا اور اس کے ذکر سے اور اس کے حق کو ادا کرنے سے غافل ہو گئے۔ وہ اپنے حظوظ نفس اور اس کی شہوات کی طرف متوجہ ہو گئے، پس وہ کامیاب ہوئے نہ کوئی فائدہ حاصل کر سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ان کے مصالح کو فراموش کرا دیا اور ان کو ان مصالح کے منافع سے غافل کر دیا۔ ان کا معاملہ افراط و تفریط کا شکار ہو گیا، تب وہ دنیا و آخرت کے خسارے کی طرف لوٹ گئے اور ایسے نقصان میں پڑ گئے کہ جس کا تدارک ممکن ہے نہ اس کی اصلاح کیونکہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے رب کی اطاعت سے نکل کر اس کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو گئے۔
[20] پس کیا وہ شخص جو تقویٰ کی حفاظت کرتا ہے اور اس چیز پر نظر رکھتا ہے جو اس نے کل کے لیے آگے بھیجی ہے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا، یعنی نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ نعمتوں بھری جنت اور تکدر سے سلامت زندگی کا مستحق ہوا۔ اور وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہوا، اس نے اس کے حقوق فراموش کر دیے پس وہ دنیا میں بدبخت ٹھہرا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہوا۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ نہیں، یقینا نہیں۔ پہلی قسم کے لوگ کامیاب ہیں اور دوسری قسم کے لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں۔
[21] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حقائق کو واضح کر دیا اور اس نے اپنی کتاب عزیز میں اپنے بندوں کو اوامر و نواہی عطا کیے تو یہ چیز اس بات کی موجب تھی کہ وہ اس کی طرف سبقت کرنے میں جلدی کرتے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان کو دعوت اور ترغیب دی، خواہ وہ قساوت اور صلابت قلبی میں مضبوط پہاڑوں کی مانند ہی کیوں نہ ہوتے۔اگر یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی نازل کر دیا جاتا تو آپ اسے خشیت الٰہی سے عاجز اور ٹکڑے ٹکڑے ہوا پاتے۔ یعنی اس کا سبب دلوں میں اس کی کمال تاثیر ہے۔ کیونکہ قرآن کے مواعظ علی الاطلاق سب سے بڑے مواعظ ہیں۔ اس کے اوامر و نواہی، حکمتوں اور مصالح پر مشتمل ہیں، یہ نفوس کے لیے سب سے زیادہ سہل اور ابدان کے لیے سب سے زیادہ آسان ہیں، یہ ہر قسم کے تکلف سے خالی ہیں، ان میں کوئی تناقض ہے نہ اختلاف، ان پر عمل کرنے میں کوئی صعوبت ہے نہ بے راہ روی، یہ اوامر و نواہی ہر زمان و مکان کے لیے درست اور ہر شخص کے لائق ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حرام اور حلال واضح کرتا ہے تاکہ وہ اس کی آیات میں تفکر و تدبر کریں، کیونکہ آیات الٰہی میں تفکر، بندے کے لیے علم کے خزانوں کے منہ کھول دیتا ہے، اس کے سامنے خیر اور شر کے راستوں کو واضح کر دیتا ہے اور اس کو مکارم اخلاق اور محاسن عادات کی ترغیب دیتا ہے اور برے اخلاق سے اسے روکتا ہے۔ پس بندے کے لیے قرآن میں تفکر اور اس کے معانی میں تدبر سے بڑھ کر کوئی چیز فائدہ مند نہیں۔