وہ اللہ، وہ ذات ہے کہ نہیں کوئی معبود (برحق) سوائے اس کے، جاننے والا ہے غیب اور حاضر کا، وہ رحمن ہےرحیم ہے (22) وہ اللہ، وہ ذات ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر وہی، بادشاہ ہے، نہایت پاک، سالم تمام عیبوں سے، امن دینے والا، نگہبان، زبردست، زور آور، بڑائی والا، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (23) وہ ہے اللہ، خالق، موجد، صورت گر، اسی کے لیے ہیں اسمائے حُسنیٰ، تسبیح کرتی ہے اسی کی جو چیز آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ غالب خوب حکمت والا ہے (24)
[22] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف عالیہ پر مشتمل اور عظمت شان اور بے مثال برہان کی حامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کیونکہ وہ عظیم کمال، سب کو شامل احسان اور تدبیر عام کا مالک ہے، اس کے سوا ہر معبود باطل ہے اور عبادت کا ذرہ بھر کے مستحق نہیں، کیونکہ وہ محتاج، عاجز اور ناقص ہیں، وہ اپنے لیے اور کسی دوسرے کے لیے کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وصف بیان کیا ہے کہ اس کا عمومِ علم ہر اس چیز کو شامل ہے جو مخلوق کی نظروں سے اوجھل ہے اور جس کا وہ مشاہدہ کرتی ہے، اس کی رحمت عامہ ہر چیز پر سایہ کناں اور ہر زندہ ہستی تک پہنچتی ہے۔
[23] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عموم الوہیت اور اس میں متفرد ہونے کا بتکرار ذکر کیا، نیز یہ کہ وہ تمام ممالک کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی اور ان میں رہنے والے سب اللہ تعالیٰ کے مملوک، محتاج اور اس کے دستِ تدبیر کے تحت ہیں۔﴿ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ﴾ یعنی وہ مقدس، ہر عیب و نقص سے سلامت، معظم اور بزرگی والا ہے۔ کیونکہ صفت ’’قدوس‘‘ ہر عیب و نقص سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ، اس کے اوصاف و جلال میں اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے ﴿الۡمُؤۡمِنُ﴾ یعنی وہ اپنے انبیاء و رسل کی اور جو کچھ وہ لے کر آئے ہیں، اس کی براہین قاطعہ اور واضح دلائل کے ساتھ تصدیق کرتا ہے (اور انھیں اپنی حفاظت اور امان میں رکھتا ہے) ۔﴿ الۡعَزِيۡزُ﴾ جس پر غالب آیا جا سکتا ہے نہ اس کے سامنے رکاوٹ بنا جا سکتا ہے، بلکہ وہ ہر چیز پر غالب اور ہر چیز اس کے سامنے فروتن و سرافگندہ ہے ﴿ الۡؔجَبَّارُ﴾ جو تمام بندوں پر غالب ہے اور تمام مخلوق اس کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ جو ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا اور محتاج کو بے نیاز کرتا ہے۔ ﴿ الۡمُتَكَبِّرُ﴾ جو عظمت و کبریا ئی کا مالک، ظلم و جور اور تمام عیوب سے منزہ ہے۔ ﴿ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ﴾ یہ تنزیہ عام ہے، ہر اس وصف سے جس سے شرک کرنے اور عناد رکھنے والے اس کو موصوف کرتے ہیں۔
[24]﴿ هُوَ اللّٰهُ الۡؔخَالِـقُ﴾ جو تمام مخلوقات کا خالق ہے ﴿ الۡبَارِئُ﴾ جو تمام کائنات کو نیست سے ہست (عدم سے وجود) میں لاتا ہے ﴿ الۡمُصَوِّرُ﴾ وہ تمام صورت رکھنے والوں کی صورت گری کرتا ہے۔ یہ تمام اسمائے حسنیٰ تخلیق و تدبیر اور تقدیر سے متعلق ہیں، ان تمام اوصاف میں اللہ تبارک و تعالیٰ متفرد ہے اور کوئی اس میں شریک نہیں ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰؔى﴾ یعنی اس کے بہت زیادہ نام ہیں جن کو کوئی معلوم کر سکتا ہے نہ شمار کر سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے تمام نام اچھے ہیں، یعنی اس کے تمام نام صفات کمال ہیں بلکہ یہ اسماء کامل ترین اور عظیم ترین صفات پر دلالت کرتے ہیں، جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی نقص نہیں۔ ان اسماء کا حسن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے اور وہ اس شخص کو بھی پسند کرتا ہے جو ان اسماء کو پسند کرتا ہے ۔وہ اپنے بندوں سے اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اس کو پکاریں اور ان ناموں کے واسطے سے اس سے سوال کریں۔یہ اس کا کمال ہے کہ وہ اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کا مالک ہے، نیز یہ کہ آسمانوں اور زمین میں رہنے والے دائمی طور پر اس کے محتاج ہیں، اس کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں، اس سے اپنی تمام حوائج کا سوال کرتے ہیں۔ وہ اپنے فضل و کرم سے انھیں وہ سب کچھ عطا کرتا ہے جس کا تقاضا اس کی رحمت اور حکمت کرتی ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ یعنی وہ جس چیز کا بھی ارادہ کرتا ہے وہ ہو جاتی ہے، اور جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتا ہے۔