Tafsir As-Saadi
10:101 - 10:103

آپ کہہ دیجیے! دیکھو (اور غور کرو اس میں ) جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور نہیں فائدہ دیتیں نشانیاں اور تنبیہات ان لوگوں کو جو نہیں ایمان لاتے (101) پس نہیں انتظار کرتے وہ مگر مثل ایام ان لوگوں کے جو گزر چکے ہیں ان سے پہلے، کہہ دیجیے! پس انتظار کرو تم، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ ہوں انتظار کرنے والوں میں سے (102) پھر نجات دیتے ہیں ہم اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے، اسی طرح، حق ہے ہم پر (یہ کہ) نجات دیں ہم مومنوں کو (103)

[101] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین میں غور کریں اور اس سے مراد یہ ہے کہ تفکر اور عبرت کی نظر سے آسمان کو دیکھیں ، ان میں جو کچھ موجود ہے اس میں تدبر کریں اور بصیرت حاصل کریں ۔ ان میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں اور اہل ایقان کے لیے عبرت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود محمود ہے، وہی صاحب جلال واکرام اور عظیم اسماء و صفات کا مالک ہے۔ ﴿وَمَا تُغۡنِي الۡاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور کچھ کام نہیں آتیں نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو ایمان لانے والے نہیں ‘‘ کیونکہ یہ لوگ اپنے اعراض اور عناد کی وجہ سے آیات الٰہی سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
[103,102]﴿فَهَلۡ يَنۡتَظِرُوۡنَ اِلَّا مِثۡلَ اَيَّامِ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’پس وہ لوگ صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کررہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ۔‘‘ یعنی یہ لوگ جو آیات الٰہی کے واضح ہو جانے کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کو بھی اسی طرح عذاب بھیج کر ہلاک کر دیا جائے، جیسے ان کے پہلوں کو عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا۔ ان کے اعمال بھی وہی تھے جو ان کے اعمال ہیں اور سنت الٰہی اولین و آخرین میں جاری و ساری ہے۔ ﴿قُلۡ فَانۡتَظِرُوۡۤا اِنِّيۡ مَعَكُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! پس انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔‘‘ عنقریب تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کا انجام اچھا ہے، دنیا اور آخرت میں نجات کس کے لیے ہے اور یہ نجات صرف انبیاء و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے لیے ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ثُمَّ نُنَجِّيۡ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’پھر ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کو (دنیا و آخرت کی تکالیف اور شدائد سے) نجات دیتے ہیں۔‘‘ ﴿كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَيۡنَا ﴾ ’’اسی طرح ہمارے ذمہ ہے۔‘‘ یعنی ہم نے اپنے اوپر واجب ٹھہرایا ہے۔ ﴿ نُنۡجِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾ ’’کہ ایمان والوں کو نجات دیں گے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ، مومن بندوں میں جذبۂ ایمان کی مقدار کے مطابق، ان کا دفاع کرتا ہے اس سے انھیں تکلیف دہ امور سے نجات ملتی ہے۔