اور البتہ تحقیق بھیجا ہم نے نوح کو طرف اس کی قوم کی (اس نے کہا) بے شک میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں ظاہر (25)یہ کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، بلاشبہ میں ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک درد ناک دن کے (26) پس کہا ان وڈیروں نے جنھوں نے کفر کیا اس کی قوم میں سے، نہیں دیکھتے ہم تجھے مگر بشر اپنے ہی جیسا اور نہیں دیکھتے ہم تجھے کہ اتباع کیا ہو تیرا مگر ان لوگوں نے کہ وہ کم ترین ہیں ہم میں سے، سرسری رائے سےاورنہیں دیکھتے ہم واسطے تمھارے اوپر اپنے کوئی فضل بلکہ ہم تو گمان کرتے ہیں تمھیں جھوٹا (27) نوح نے کہا، اے میری قوم! دیکھو تو! اگر ہوں میں اوپر واضح دلیل کے اپنے رب کی طرف سے اور اس نے دی ہو مجھے رحمت (نبوت) اپنے پاس سے ، پھر پوشیدہ کر دی گئی ہو وہ (دلیل) تم پر تو کیاہم (زبردستی) چپکا دیں تم پر اس (پر ایمان لانے) کو، جبکہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو؟ (28)اور اے میری قوم! نہیں مانگتا میں تم سے اس (تبلیغ) پر کوئی مال، نہیں ہے میر اجر مگر اوپر اللہ کےاور نہیں ہوں میں دھتکارنے والا ان لوگوں کو جو ایمان لائے، بے شک وہ ملنے والے ہیں اپنے رب سے لیکن میں دیکھتا ہوں تمھیں ایسے لوگ کہ جہالت کرتے ہو تم (29) اور اے میری قوم! کون مدد کرے گا میری اللہ (کے عذاب) سے اگر دھتکار دوں میں انھیں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (30) اور نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہ میں کہتا ہوں ( یہ کہ) بے شک میں فرشتہ ہوں اور نہ میں کہتا ہوں واسطے ان لوگوں کے جنھیں حقیر دیکھتی ہیں آنکھیں تمھاری کہ ہرگز نہیں دے گا انھیں اللہ بھلائی، اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، (اگر میں نے کہا تو) بلاشبہ میں اس وقت البتہ ظالموں سے ہوں گا (31) انھوں نے کہا، اے نوح! تحقیق جھگڑا کیا تو نے ہم سے اور خوب کیا تو نے جھگڑا ہم سے ، پس لے آ تو ہم پر وہ (عذاب) جس کاوعدہ دیتا ہے تو ہمیں ، اگر ہے تو سچوں میں سے (32) نوح نے کہا، یقینا لائے گا تم پر وہ (عذاب) اللہ ہی، اگر اس نے چاہااور نہیں تم (اسے) عاجز کرنے والے (33) اور نہیں نفع دے گی تمھیں نصیحت میری اگر چاہوں میں یہ کہ نصیحت کروں میں تمھیں ، اگر ہو اللہ چاہتا گمراہ کرنا تمھیں وہی رب ہے تمھارا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (34) کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے خود گھڑا ہے اس (قرآن) کو؟ کہہ دیجیے! اگر خود گھڑا ہے میں نے اسے تو مجھ ہی پر ہے جرم میرااور میں بری ہوں اس سے جو تم جرم کرتے ہو (35) اور وحی کی گئی طرف نوح کی یہ بات کہ ہرگز کوئی نہیں ایمان لائے گا تیری قوم میں سے سوائے اس شخص کے جو ایمان لا چکا ہے (پہلے)، پس مت غم کھا بوجہ اس کے جو وہ کر رہے ہیں (36) اور تو بنا ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق اور مت گفتگو کرنا مجھ سے ان لوگوں کی بابت جنھوں نے ظلم (کفر) کیا بلاشبہ وہ غرق کیے جائیں گے (37) اور بناتا تھا نوح کشتی اور جب گزرتے اس کے پاس سے وڈیرے اس کی قوم کے تو وہ مذاق کرتے اس سے نوح نے کہا، اگر تم (آج) مذاق کرتے ہو ہم سے تو بے شک ہم بھی (ایک روز) مذاق کریں گے تم سے جس طرح تم مذاق کرتے ہو (38) پس عنقریب تم جان لو گے کون شخص ہے کہ آتا ہے اس پر ایساعذاب جو رسوا کر دے گا اس کو (دنیا میں ) اور اترے گا اس پر عذاب دائمی (آخرت میں )(39) حتی کہ جب آیاہمارا حکم اورجوش مارا تنور نے تو ہم نے کہا، سوار کر لے اس کشتی میں ہر قسم سے جوڑا (نر، مادہ ہر ایک سے) دو اوراپنے گھر والوں کو سوائے اس شخص کے کہ پہلے گزر چکا اس کی بابت حکم اور ان کو بھی جو ایمان لا چکے ہیں اور نہ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ مگر تھوڑے لوگ (40) اور نوح نے کہا، سوار ہو جاؤ اس کشتی میں ساتھ نام اللہ کے ہے چلنا اس کا اور ٹھہرنا اس کا، بلاشبہ میرا رب البتہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے (41) اور وہ (کشتی) چلتی تھی انھیں لے کر ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کواور تھا وہ (سب سے) الگ تھلگ، اے عزیز بیٹے! تو (بھی) سوار ہو جا ہمارے ساتھ اورنہ ہو ساتھ کافروں کے (42) اس نے کہا، ابھی پناہ لے لیتا ہوں میں طرف کسی پہاڑ کی، وہ بچالے گا مجھے پانی سے، نوح نے کہا، نہیں کوئی بچانے والا آج اللہ کے حکم (عذاب) سے مگر جس پر اللہ (ہی) رحم کرے اور حائل ہو گئی درمیان ان دونوں کے موج، پس ہو گیا وہ غرق شدہ لوگوں میں سے (43) اور کہا گیا اے زمین! نگل لے تو پانی اپنا اور اے آسمان! تھم جاتو (برسنے سے) اور کم (خشک) کر دیا گیا پانی اور تمام کر دیا گیا(ان کا) کام اور کشتی جا ٹھہری اوپر جو دی (پہاڑی) کے اور کہا گیا دوری (لعنت) ہے واسطے ظالم قوم کے (44) اور پکارا نوح نے اپنے رب کو، پس کہا اس نے ، اے میرے رب! بلاشبہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہےاور بلاشبہ تیرا وعدہ حق (سچا) ہے اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے تمام فیصلہ کرنے والوں سے (45) اللہ نے کہا، اے نوح! بے شک وہ نہیں ہے تیرے اہل میں سے، بلاشبہ اس کا عمل غیر صالح ہے، پس نہ سوال کر تو مجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے تجھے اس کا کوئی علم، بے شک میں نصیحت کرتا ہوں تجھے یہ کہ (نہ) ہو تو جاہلوں میں سے (46) نوح نے کہا، اے میرے رب! بے شک میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس سے کہ سوال کروں تجھ سے اس چیز کا کہ نہیں ہے مجھے اس کا کوئی علم اور اگر نہ مغفرت کی تو نے میری اور (نہ) رحم کیا تو نے مجھ پر تو ہو جاؤں گا میں خسارہ پانے والوں میں سے (47)کہا گیا، اے نوح! اتر تو ساتھ سلامتی کے ہماری طرف سے اور برکتوں کے اوپر تیرے اور اوپرجماعتوں کے ان میں سے جو تیرے ساتھ ہیں اور کچھ جماعتیں ہوں گی کہ عنقریب ہم فائدہ دیں گے انھیں ، پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب درد ناک (آخرت میں )(48) یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں ان کی آپ کی طرف ، نہ تھے آپ ہی جانتے ان کو اور نہ آپ کی قوم پہلے اس (وحی) سے، پس آپ صبر کریں ، بلاشبہ (بہترین) انجام واسطے متقین ہی کے ہے(49)
[25]﴿وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا ﴾ ’’اور ہم نے نوحu کو بھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ ﴿اِلٰى قَوۡمِهٖۤ﴾ ’’ان کی قوم کی طرف۔‘‘ جو انھیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انھوں نے اپنی قوم سے کہا: ﴿اِنِّيۡ لَكُمۡ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔‘‘ یعنی میں نے جس چیز سے تمھیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کر دیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
[26]﴿اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ﴾ ’’کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔‘‘ یعنی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی عبادت کو خالص کرو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو جن کی بندگی کی جاتی ہے۔ ﴿اِنِّيۡۤ اَخَافُ عَلَيۡكُمۡ عَذَابَ يَوۡمٍ اَلِيۡمٍ ﴾ ’’مجھے تمھاری نسبت دردناک عذاب کا اندیشہ ہے۔‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم نہیں کرتے اور میری اطاعت نہیں کرتے تو مجھے تم پر دردناک عذاب کا ڈر ہے۔
[27]﴿فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔‘‘ یعنی جناب نوحu کی قوم کے اشراف اور رؤسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنھوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے: ﴿ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّؔثۡلَنَا ﴾’’ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں ‘‘ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انھیں نوحu کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کر سکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ صرف انسان کی طرف رجوع کر سکتا ہے اور اس کے برعکس وہ فرشتوں سے سیکھ سکتا ہے نہ ان کی طرف رجوع کر سکتا ہے۔﴿ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيۡنَ هُمۡ اَرَاذِلُنَا﴾ ’’اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ تمھارے پیرو وہی لوگ ہوئے ہیں جو ہم میں ادنیٰ درجے کے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے صرف ان لوگوں نے تیری پیروی کی ہے جو ہم میں سے (بزعم خود) رذیل اور گھٹیا لوگ ہیں … حالانکہ وہ درحقیقت اشراف اور عقل مند لوگ تھے یہ وہ لوگ تھے جو حق کے سامنے سرافگندہ ہوگئے تھے، یہ وہ رذیل لوگ نہ تھے جن کو اشرافیہ کہا جاتا تھا جو ہر سرکش شیطان کے پیچھے لگ جاتے تھے جنھوں نے پتھروں اور درختوں کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ جن کا یہ لوگ تقرب حاصل کرتے تھے اور جن کے سامنے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ کیا آپ ان سے زیادہ رذیل اور ان سے بڑھ کر خسیس کہیں اور دیکھ سکتے ہیں ؟ ﴿ بَادِيَ الرَّاۡيِ﴾ ’’سرسری نظر والے‘‘ یعنی یہ لوگ بغیر سوچے سمجھے تیری پیروی کرتے ہیں بلکہ محض تیرے دعوت دینے پر ہی تیری اتباع کرتے ہیں … یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے معاملے میں بصیرت سے محروم ہیں ۔ حالانکہ انھیں معلوم نہیں کہ واضح حق وہ ہے جس کی طرف عقل بدیہی طور پر دعوت دیتی ہے اور یہ مجرد اس چیز کے ذریعے سے حق معلوم کرتے ہیں جس کے ذریعے سے عقل رکھنے والے لوگ معلوم کرتے اور اس کی تحقیق کرتے ہیں ۔ حق کا معاملہ ان خفیہ امور کی مانند نہیں ہے جو کسی گہرے سوچ بچار اور طویل غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَمَا نَرٰى لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭؔ ﴾ ’’اور ہم تم میں اپنے اوپر کسی طرح کی فضیلت نہیں دیکھتے۔‘‘ یعنی ہمارے خیال میں تم ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتے کہ ہم تمھاری اطاعت کریں ﴿ بَلۡ نَظُنُّكُمۡ كٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ ہم تو تمھیں جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘ انھوں نے اس بارے میں جھوٹ بولا تھا کیونکہ وہ ایسی نشانیاں اور معجزات دیکھ چکے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نوحu کی تائید کے لیے نازل فرمایا تھا، جو آپ کی صداقت پر انھیں قطعی یقین فراہم کرتی تھیں ۔
[28]﴿ قَالَ ﴾ بنا بریں نوحu نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ يٰقَوۡمِ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ كُنۡتُ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’اے میری قوم! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے‘‘ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوحu اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہو جاتی تھی۔ درحقیقت وہ سچے تھے، لہٰذا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لیے تمھیں یہی قول کافی ہے۔ ﴿ وَاٰتٰىنِيۡ رَحۡمَةً مِّنۡ عِنۡدِهٖ ﴾ ’’اور دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے‘‘ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے رسول بنا کر مبعوث کیا اور مجھے ہدایت سے نوازا ہے۔ ﴿ فَعُمِّيَتۡ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پھر اسے تمھاری آنکھ سے مخفی رکھا‘‘ یعنی جن کی حقیقت تم پر پوشیدہ ہوگئی اس لیے تم اسے قبول کرنے کے لیے نہ اٹھے۔ ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا﴾ ’’کیا ہم تمھیں اس چیز کو قبول کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں ‘‘ جو ہمارے نزدیک متحقق ہے اور تم اس میں شک کرتے ہو؟ ﴿ وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو‘‘ یہاں تک کہ تم اس چیز کو ٹھکرانے کے حریص ہو جو میں لایا ہوں ۔ یہ چیز ہمیں کوئی نقصان دے سکتی ہے نہ ہمارے یقین میں قادح ہے اور نہ تمھارا بہتان اور ہم پر تمھاری افترا پردازی ہمیں ہمارے راستہ سے ہٹا سکتی ہے۔ اس کی غایت و انتہا تو صرف یہ ہے کہ وہ تمھیں اس راستے سے روک دے گی اور حق کے لیے تمھاری عدم اطاعت کی موجب ہوگی جسے تم باطل سمجھتے ہو۔جب حالت اس انتہا کو پہنچ جائے تو ہم تمھیں اس چیز پر مجبور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور نہ ہم وہ چیز تم پر لازم کر سکتے ہیں جس سے تم نفرت کرتے ہو۔ بنابریں فرمایا: ﴿ اَنُلۡزِمُكُمُوۡهَا وَاَنۡتُمۡ لَهَا كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’کیا ہم اس کے لیے تمھیں مجبور کرسکتے ہیں جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔‘‘
[29]﴿ وَيٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مَالًا ﴾ ’’اے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمھیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ ﴿ اِنۡ اَجۡرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے‘‘ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بے مایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں ۔ اس لیے آپ نے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انھیں نکالنے والا نہیں ہوں ۔‘‘ یعنی میرے لیے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکار دوں بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ ﴿ اِنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں ‘‘ پس وہ انھیں ان کے ایمان اور ان کے تقویٰ کے بدلے نعمتوں بھری جنت عطا کرے گا۔ ﴿ وَلٰكِنِّيۡۤ اَرٰىكُمۡ قَوۡمًا تَجۡهَلُوۡنَ﴾ ’’لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم نادان لوگ ہو‘‘ کیونکہ تم مجھے اولیاء اللہ کو دھتکارنے اور اپنے سے دور کرنے کا حکم دیتے ہو اور تم نے حق کو اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ حق کی اتباع کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ تم حق کا ابطال کرنے کے لیے اس قسم کا استدلال کرتے ہو کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں اور یہ کہ ہمیں تم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔
[30]﴿ وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّنۡصُرُنِيۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدۡتُّهُمۡ﴾ ’’اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا؟‘‘ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔‘‘ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمھارے لیے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے؟
[31]﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمھاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں ، میں تمھیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمھیں برے انجام سے ڈراتا ہوں ، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں ‘‘ کہ میں تمھارے سینے کے بھیدوں اور تمھارے ’’رازِدروں ‘‘ کے بارے میں تمھیں آگاہ کر سکوں ۔ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّيۡ مَلَكٌ﴾’’اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ یعنی میں اپنے مرتبہ سے بڑھ کر کسی مرتبہ کا دعویٰ نہیں کرتا۔ نہ میں اس کے سوا کسی منزلت کا دعویٰ کرتا ہوں جس پر اللہ تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے اور نہ میں لوگوں کے بارے میں اپنے ظن اور گمان کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں ۔﴿ وَّلَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ تَزۡدَرِيۡۤ اَعۡيُنُكُمۡ ﴾ ’’اور نہ میں کہتا ہوں کہ جو لوگ تمھاری آنکھوں میں حقیر ہیں ‘‘ یعنی وہ کمزور اہل ایمان جن کو کافر سرداران قوم حقیر سمجھتے تھے۔ ﴿ لَنۡ يُّؤۡتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيۡرًا١ؕ اَللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا فِيۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ﴾ ’’اللہ ان کو ہرگز بھلائی نہ دے گا۔ اللہ خوب جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے‘‘ اگر وہ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو ان کے لیے خیر کثیر ہے اور اگر وہ اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹے ہیں تو ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اِذًا﴾ ’’بے شک میں تب‘‘ یعنی اگر میں نے تم سے اس بارے میں کچھ کہا جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے ﴿ لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ظالموں میں سے ہوں گا‘‘ یہ نوحu کا اپنی قوم کو اس بات سے مایوس کردینا ہے کہ وہ کمزور اہل ایمان کو اپنے سے دور کریں یا ان کو ناراض کر لیں اور اپنی قوم کو ایسے طریقوں سے سمجھانے کی کوشش ہے جو ایک انصاف پسند شخص کو سمجھنے پر آمادہ کر سکتے ہیں ۔
[32] جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت نوحu ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے سے باز نہیں آتے اور وہ نوحu سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو انھوں نے نوحu سے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَكۡثَرۡتَ جِدَا لَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اے نوح! تو نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا، اب لے آ جو تو ہم سے وعدہ کرتا ہے، اگر تو سچا ہے‘‘ وہ کتنے جاہل اور کتنے گمراہ تھے کہ انھوں نے اپنے خیر خواہ نبی سے یہ بات کہی۔ اگر وہ سچے تھے تو انھوں نے یہ کیوں نہ کہا ’’اے نوح! (u) آپ نے ہماری خیر خواہی کی، ہم پر شفقت فرمائی اور ایسے معاملے کی طرف ہمیں دعوت دی ہے جو ہمارے سامنے نہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس معاملے کو ہمارے سامنے اچھی طرح واضح کر دیں تاکہ ہم اس کی پیروی کر سکیں ورنہ آپ تو اپنی خیر خواہی پر شکریہ کے مستحق ہیں ‘‘… تو یہ اس شخص کے لیے انصاف پر مبنی جواب ہوتا جس نے ایک ایسے امر کی طرف دعوت دی ہے جو اس پر مخفی رہ گیا ہے۔مگر وہ تو اپنے قول میں سخت جھوٹے اور اپنے نبی کے خلاف جسارت کرنے والے تھے۔ ان کا حضرت نوحu کی دعوت کو کسی دلیل اور حجت کی بنا پر رد کرنا تو کجا، کوئی ادنیٰ سا شبہ بھی نہ تھا جس کی بنیاد پر انھوں نے اس دعوت کو رد کیا۔ بنا بریں وہ اپنی جہالت اور ظلم کی وجہ سے عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانے اور اللہ جل شانہ کو عاجز قرار دینے لگے۔
[33] اس لیے نوحu نے جواب میں فرمایا: ﴿ اِنَّمَا يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ اللّٰهُ اِنۡ شَآءَ ﴾ ’’اس کو تو اللہ ہی چاہے گا تو نازل کرے گا۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت نے تم پر عذاب نازل کرنے کا تقاضا کیا تو وہ ضرور ایسا کرے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’اور تم اس (اللہ تعالیٰ) کو عاجز اور بے بس نہیں کر سکتے‘‘ اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے ہاتھ میں اس امر کا کوئی اختیار نہیں ۔
[34]﴿ وَلَا يَنۡفَعُكُمۡ نُصۡحِيۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَكُمۡ اِنۡ كَانَ اللّٰهُ يُرِيۡدُ اَنۡ يُّغۡوِيَكُمۡ ﴾ ’’اور نہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں ، اگر اللہ کا ارادہ تمھیں گمراہ کرنے کا ہو‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارادہ غالب ہے کیونکہ اگر وہ تمھیں تمھارے حق کو ٹھکرا دینے کی پاداش میں گمراہ کر دے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمھاری خیر خواہی کروں … اور جناب نوحu نے ایسا کیا بھی… تب بھی میری یہ کوشش تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ ﴿ هُوَ رَبُّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارا رب ہے‘‘ تمھارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے‘‘ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوحu کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوحu کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوحu نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ یہ کہہ دے۔ ﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ﴾ ’’کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمھارے گناہوں سے بری ہوں ‘‘ یعنی ہر شخص کا بوجھ خود اسی پر ہے ﴿ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى ﴾(الانعام: 6؍164) ’’کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر کا مرجع نبی اکرمﷺ ہوں اس صورت میں یہ آیت کریمہ، حضرت نوحu اور ان کی قوم کے قصہ کے اثنا میں ، جملہ معترضہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا تعلق ایسے امور سے ہے جنھیں انبیاء کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کے سامنے حضرت نوحu کا قصہ بیان کرنا شروع کیا اور یہ قصہ ان نشانیوں میں سے تھا جو آپﷺ کی صداقت اور رسالت پر دلالت کرتی ہیں ۔ تب اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی تکذیب کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھول کھول کر آیات بیان فرمائیں چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىهُ ﴾ ’’کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑلیا ہے۔‘‘ یعنی قرآن کو محمد (ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ انتہائی عجیب اور باطل ترین قول ہے کیونکہ انھیں علم ہے کہ آپﷺ لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں ، اہل کتاب کے علوم کی دراست کے لیے آپ نے کہیں سفر بھی نہیں کیا، بایں ہمہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب پیش کی اور جس کے بارے میں کفار کو مقابلے کی دعوت دی کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا لائیں ۔ اس کے باوجود اگر وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ افترا اور بہتان ہے تو معلوم ہوا کہ وہ درحقیقت حق سے عناد رکھتے ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ بحث کرنے اور دلیل دینے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہا بلکہ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ آپ ان سے کنارہ کشی کریں ۔ اس لیے فرمایا:﴿ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَيَّ اِجۡرَامِيۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اسے گھڑا ہو تو مجھ پر ہے اس کا گناہ۔‘‘ یعنی میرا گناہ اور میرا جھوٹ میرے ذمہ ہے ﴿ وَاَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تُجۡرِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری ہوں ۔‘‘ پھر تم مجھے جھٹلانے پر کیوں اصرار کر رہے ہو۔
[36]﴿ وَاُوۡحِيَ اِلٰى نُوۡحٍ اَنَّهٗ لَنۡ يُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِكَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ﴾ ’’نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لاچکا‘‘ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں ۔ ﴿ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ ’’پس آپ غم نہ کریں ان کاموں پر جو وہ کر رہے ہیں ‘‘ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جا سکتا۔
[37]﴿ وَاصۡنَعِ الۡفُلۡكَ بِاَعۡيُنِنَا وَوَحۡيِنَا ﴾ ’’اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔‘‘ یعنی ہماری حفاظت میں ہمارے سامنے اور ہماری مرضی کے مطابق کشتی بنائیں۔ ﴿وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا﴾ ’’اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بارے میں ہمارے ساتھ گفتگو نہ کریں ۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’بے شک یہ غرق ہوں گے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں اور ان پر تقدیر کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہے۔
[38] نوحu نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور کشتی بنانا شروع کر دی ﴿وَؔكُلَّمَا مَرَّ عَلَيۡهِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِهٖ ﴾ ’’جب کبھی سرداران قوم ان کے پاس سے گزرتے‘‘ اور ان کو کشتی بناتے ہوئے دیکھتے ﴿ سَخِرُوۡا مِنۡهُ١ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا ﴾’تو مذاق کرتے اس سے، نوح نے کہا، اگر تم مذاق کرتے ہو ہم سے‘‘ یعنی اب اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو ﴿فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡكُمۡ كَمَا تَسۡخَرُوۡنَ﴾ ’’تو ہم بھی مذاق کریں گے تم سے، جیسے تم مذاق کرتے ہو۔‘‘
[39]﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ﴾ ’’اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب‘‘ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انھیں معلوم ہوگیا۔
[40]﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔‘‘ یعنی جب وہ وقت آ گیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لیے مقرر کیا تھا۔ ﴿ وَفَارَ التَّنُّوۡرُ﴾ ’’اور جوش مارا تنور نے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃً آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لیے جمع ہوگیا جو مقدر ہو چکا تھا۔ ﴿ قُلۡنَا ﴾ ’’اور ہم نے کہا۔‘‘ یعنی ہم نے نوحu سے کہا ﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ﴾ ’’ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں ۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں سے ہر صنف کا ایک جوڑا، یعنی نر اور مادہ کشتی پر سوار کر لیں تاکہ تمام مخلوقات کی اصل باقی رہے۔ رہا جوڑے سے زائد جانور سوار کرنا تو کشتی ان تمام جانوروں کو لاد لینے کی گنجائش نہیں رکھتی۔ ﴿ وَاَهۡلَكَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَيۡهِ الۡقَوۡلُ ﴾ ’’اور اپنے گھر والوں کو مگر جس پر سبقت کر گیا ہے حکم‘‘ اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو کافر ہیں ، مثلاً:نوحu کا بیٹا جو غرق ہوا، اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کر لیں ۔ ﴿ وَمَنۡ اٰمَنَ﴾ ’’اور سب ایمان والوں کو‘‘ ﴿ وَ ﴾ اور حال یہ ہے کہ ﴿ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلٌ ﴾ ’’ان کے ساتھ بہت ہی کم لوگ ایمان لائے تھے۔‘‘
[41]﴿ وَقَالَ ﴾ اور نوحu نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ ﴿ ارۡؔكَبُوۡا فِيۡهَا بِسۡمِ اللّٰهِ مَجۡرٖؔىهَا وَمُرۡسٰؔىهَا﴾ ’’اس میں سوار ہو جاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا‘‘ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
[42] پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیرنے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ ﴿وَهِيَ تَجۡرِيۡ بِهِمۡ ﴾ ’’اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔‘‘ یعنی کشتی نوحu اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ ﴿فِيۡ مَوۡجٍ كَالۡؔجِبَالِ﴾ ’’پہاڑوں جیسی لہروں میں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ ﴿وَنَادٰى نُوۡحُ نِ ابۡنَهٗ﴾ ’’اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا‘‘ یعنی جب نوحuکشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہو جائے۔ ﴿وَؔكَانَ ﴾ ’’اور وہ تھا۔‘‘ یعنی نوحu کا بیٹا ﴿ فِيۡ مَعۡزِلٍ ﴾ ’’الگ‘‘ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوحu چاہتے تھے وہ قریب آکر کشتی میں سوار ہو جائے۔ اس لیے نوحu نے اپنے بیٹے سے کہا: ﴿ يّٰبُنَيَّ ارۡكَبۡ مَّؔعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو‘‘ ورنہ ان پر نازل ہونے والا عذاب تجھے بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
[43]﴿ قَالَ ﴾ ’’اس نے کہا۔‘‘ یعنی نوحu کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ’’عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا…‘‘ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا: ﴿ سَاٰوِيۡۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعۡصِمُنِيۡ مِنَ الۡمَآءِ﴾ ’’میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہو جاؤں گا۔ ﴿ قَالَ ﴾ نوحu نے کہا: ﴿ لَا عَاصِمَ الۡيَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ﴾’’آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہی رحم کرے‘‘ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لیے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کر لے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔﴿ وَحَالَ بَيۡنَهُمَا الۡمَوۡجُ فَكَانَ ﴾ ’’اور حائل ہو گئی دونوں کے درمیان موج، پس ہو گیا وہ‘‘ یعنی بیٹا ﴿ مِنَ الۡمُغۡرَقِيۡنَ ﴾ ’’ڈوبنے والوں میں ۔‘‘
[44]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کر دیا اور حضرت نوحu اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا ﴿ قِيۡلَ يٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِيۡ مَآءَكِ ﴾ ’’حکم دیا گیا، اے زمین! نگل لے اپنا پانی‘‘ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا ﴿ وَيٰسَمَآءُ اَقۡلِـعِيۡ ﴾ ’’اور اے آسمان! تھم جا‘‘ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ ﴿ وَغِيۡضَ الۡمَآءُ ﴾ ’’اور سکھا دیا گیا پانی‘‘ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا ﴿ وَقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’اور ہو چکا کام‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ ﴿ وَاسۡتَوَتۡ عَلَى الۡجُوۡدِيِّ﴾ ’’اور وہ ٹھہر گئی کوہ جودی پر۔‘‘ یعنی کشتی ’’جودی‘‘ پر لنگر انداز ہوگئی جو سرزمین موصل میں ایک معروف پہاڑ ہے۔ ﴿ وَقِيۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور کہا گیا، دوری ہو ظالم لوگوں کے لیے‘‘ ان کی ہلاکت پر لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار ان کے پیچھے لگا دی گئی جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی۔
[45]﴿ وَنَادٰى نُوۡحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِيۡ مِنۡ اَهۡلِيۡ وَاِنَّ وَعۡدَكَ الۡحَقُّ ﴾ ’’اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا، بے شک میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے‘‘ اور تو نے مجھ سے فرمایا تھا:﴿ احۡمِلۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلٍّ زَوۡجَيۡنِ اثۡنَيۡنِ وَاَهۡلَكَ ﴾ ’’ہر قسم کے جانداروں میں سے جوڑا جوڑا کشتی میں سوار کر لو اور اپنے گھر والوں کو بھی‘‘ اور تو نے جو وعدہ مجھ سے کیا ہے تو اس کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔شاید جب نوحu کی شفقت پدری نے جوش مارا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا تو نوحu نے سمجھا کہ یہ وعدہ تمام لوگوں کو شامل ہے خواہ وہ ایمان لائے ہوں یا نہ لائے ہوں ، اس لیے انھوں نے اپنے رب سے یہ دعا مانگی۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے دعا مانگتے ہوئے تمام معاملہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے سپرد کر دیا اور عرض کیا:﴿ وَاَنۡتَ اَحۡكَمُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے بڑا حاکم ہے۔‘‘
[46]﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے نوحu سے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ﴾ ’’وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے‘‘ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ﴾ ’’بے شک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں ‘‘ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لیے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ ﴿ فَلَا تَسۡـئَلۡنِ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ﴾ ’’پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر‘‘ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ ﴿ اِنِّيۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ﴾ ’’میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔‘‘ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس پر عمل کر کے تو کاملین میں شمار ہوگا اور جاہلین کی صفات سے نجات حاصل کرے گا۔
[47] اس وقت نوحu اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ﴿ قَالَ رَبِّ اِنِّيۡۤ اَعُوۡذُ بِكَ اَنۡ اَسۡـَٔؔلَكَ مَا لَيۡسَ لِيۡ بِهٖ عِلۡمٌ١ؕ وَاِلَّا تَغۡفِرۡ لِيۡ وَتَرۡحَمۡنِيۡۤ اَكُنۡ مِّنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا‘‘ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوحu کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لیے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں داخل ہے۔ ﴿ وَلَا تُخَاطِبۡنِيۡ فِي الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا١ۚ اِنَّهُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴾ ’’ظالموں کے بارے میں مجھ سے گفتگو نہ کرنا، وہ سب غرق ہوں گے۔‘‘ بلکہ نوحu کے نزدیک دونوں امور متعارض ہوگئے اور وہ سمجھے کہ ان کا بیٹا (وَاَہْلَکَ)کے حکم میں داخل ہے اور بعد میں ان پر واضح ہوا کہ ان کا بیٹا ان لوگوں میں شامل ہے جن کے لیے بخشش کی دعا اور گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے۔
[48] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿قِيۡلَ يٰنُوۡحُ اهۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّؔنَّا وَبَرَؔكٰتٍ عَلَيۡكَ وَعَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَكَ﴾ ’’حکم ہوا اے نوح! ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر اور برکتوں کے ساتھ، تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ‘‘ یعنی انسانوں کے علاوہ حیوانوں کے وہ جوڑے جو نوحu نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کیے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب میں برکت ڈال دی حتیٰ کہ انھوں نے روئے زمین کو اس کے کناروں تک بھر دیا۔ ﴿وَاُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمۡ﴾ ’’اور دوسرے گروہ ہیں جن کو ہم فائدہ دیں گے‘‘ یعنی دنیا میں ہم انھیں متمتع ہونے دیں گے۔ ﴿ثُمَّ يَمَسُّهُمۡ مِّؔنَّا عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب‘‘ یعنی یہ نجات دینا ہمارے لیے اس بات میں مانع نہیں ہوگا کہ اگر اس کے بعد کوئی شخص کفر کا ارتکاب کرے گا تو ہم اس پر عذاب نازل کریں بلکہ اگر ان کو تھوڑی مدت کے لیے فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جائے گا تو اس کے بعد ان کا مواخذہ بھی کیا جائے گا۔
[49] یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد… جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے… اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا: ﴿تِلۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهَاۤ اِلَيۡكَ١ۚ مَا كُنۡتَ تَعۡلَمُهَاۤ اَنۡتَ وَلَا قَوۡمُكَ مِنۡ قَبۡلِ هٰؔذَا﴾ ’’یہ غیب کی خبریں ہیں ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے‘‘ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو محمد (ﷺ) پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ ﴿اِنَّ الۡعَاقِبَةَ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اچھا انجام پرہیز گاروں کا ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو شرک اور دیگر تمام گناہوں سے بچتے ہیں ۔ آپ کی قوم کے مقابلے میں آپ کا انجام اسی طرح اچھا ہے جس طرح نوحu کی قوم کے مقابلے میں نوحu کا انجام اچھا تھا۔