اور (ضرورت کی) ہر ایک چیز کو بیان کرتے ہیں ہم آپ پر خبروں میں سے رسولوں کی، کہ مضبو ط رکھتے ہیں ہم ساتھ اس کے دل آپ کااور آیا ہے آپ کے پاس اس (سورت یا واقعات) میں حق اور نصیحت اور یاد دہانی واسطے مومنوں کے (120) اور آپ کہہ دیجیے واسطے ان لوگوں کے جو نہیں ایمان لاتے، عمل کرو تم اوپر اپنی جگہ کے، بلاشبہ ہم بھی عمل کرنے والے ہیں (121) اورانتظار کرو تم، بلاشبہ ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں (122) اور واسطے اللہ ہی کے ہے غیب آسمانوں اور زمین کااور اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں کام سب کے سب، سو آپ عبادت کریں اسی کی اور توکل کریں اسی پراور نہیں ہے آپ کا رب غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو(123)
[120] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس سورۂ مبارکہ میں انبیائے کرام کے حالات بیان فرمائے تو اب اس میں پنہاں حکمت کا ذکر فرمایا: ﴿وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ﴾’’اور یہ سب چیز بیان کرتے ہیں ہم آپ کے پاس رسولوں کے احوال سے جس سے مضبوط کریں ہم آپ کے دل کو‘‘ تاکہ وہ مطمئن رہے، اس کو ثبات حاصل ہو اور وہ صبر کرے، جیسے اولوالعزم انبیاء و مرسلین نے صبر کیا تھا کیونکہ نفوس انسانی اقتدا سے مانوس ہوتے ہیں اور اعمال پر ان کو نشاط حاصل ہوتا ہے اور وہ دوسروں کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں ، حق کے شواہد اور اس کو قائم کرنے والوں کی کثرت کا ذکر کرنے سے حق کی تائید ہوتی ہے۔﴿وَجَآءَكَ فِيۡ هٰؔذِهِ ﴾ ’’اور آیا آپ کے پاس اس میں ‘‘ یعنی اس سورۂ مقدسہ میں ﴿الۡحَقُّ﴾ ’’حق‘‘ آپ کے پاس یقین آگیا اور اس میں کسی بھی لحاظ سے کوئی شک نہیں ۔ اس کا علم، حق کا علم ہے جو نفس کے لیے سب سے بڑی فضیلت ہے۔ ﴿ وَمَوۡعِظَةٌ وَّذِكۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور نصیحت اور یاددہانی مومنوں کے لیے‘‘ یعنی وہ اس سے نصیحت پکڑتے ہیں پس برے کاموں سے باز رہتے ہیں اور محبوب کاموں کو یاد کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں ۔
[121] اور جو ایمان نہیں رکھتے انھیں نصیحتیں اور مختلف انواع کی یاددہانیاں کوئی فائدہ نہیں دیتیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَقُلۡ لِّلَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو (دلائل قائم ہو جانے کے بعد بھی) ایمان نہیں لاتے‘‘ ﴿ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ﴾ ’’اپنی جگہ عمل کیے جاؤ۔‘‘ یعنی اسی حالت میں جس میں کہ تم ہو، عمل کرتے رہو ﴿ اِنَّا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’ہم بھی (اپنے طریقے کے مطابق) عمل کر رہے ہیں ۔‘‘
[122]﴿ وَانۡتَظِرُوۡا﴾ ’’تم بھی انتظار کرو۔‘‘ یعنی ہم پر جو کچھ نازل ہوگا، تم اس کا انتظار کرو ﴿ اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ﴾ ’’ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔‘‘ اور تم پر جو کچھ نازل ہوگا، ہم اس کے منتظر ہیں ۔
[123] اللہ تبارک و تعالیٰ نے دونوں گروہوں کے درمیان جو فرق ہے اسے بیان کر دیا۔ اس نے اپنے بندوں کو دکھا دیا کہ وہ اپنے مومن بندوں کی مدد کرتا ہے اور انبیائے کرام کو جھٹلانے والے دشمنان الٰہی کا قلع قمع کرتا ہے۔﴿ وَلِلّٰهِ غَيۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ہی کے پاس ہے چھپی بات آسمانوں اور زمین کی‘‘ یعنی تمام مخفی چیزیں اور غیبی امور جو آسمانوں اور زمین میں سربستہ ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ﴿ وَاِلَيۡهِ يُرۡجَعُ الۡاَمۡرُؔ كُلُّهٗ ﴾ ’’اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کام‘‘ تمام اعمال اور عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کر دے گا۔ ﴿ فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ﴾ ’’پس اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ رکھیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبودیت کو قائم کیجیے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ تمام احکام ہیں جن کی تعمیل پر آپﷺ قادر ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔ ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ آپ کا رب ان اچھے اور برے اعمال سے غافل نہیں ہے جن کو تم بجا لاتے ہو بلکہ اس کا علم ان اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ان پر اس کا قلم جاری ہو چکا ہے اور اب اس پر اس کا حکم اور جزا کا فیصلہ جاری ہوگا۔