کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے؟ اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور لے آئے مخلوق نئی (19) اور نہیں ہے یہ (کام) اوپر اللہ کے کچھ بھی مشکل (20)اور وہ سامنے (کھڑے) ہوں گے اللہ کے سب تو کہیں گے کمزور لوگ ان لوگوں سے جو تکبر کرتے تھے (دنیا میں )، بے شک ہم تو تھے تمھارے تابع، پس کیا تم دور کر سکنے والے ہو ہم سے اللہ کاعذاب کچھ؟ وہ کہیں گے، اگر ہدایت دیتا ہمیں اللہ تو ، البتہ ہم بھی ہدایت کرتے تمھیں ، برابر ہے ہم پر آیا جزع فزع کریں ہم یا صبر کریں ہم، نہیں ہے واسطے ہمارے کوئی بھاگنے کی جگہ (21)
[19] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ﴾ ’’بے شک اللہ نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ‘‘ یعنی تاکہ مخلوق اس کی عبادت کرے اور اس کی معرفت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ ان کو اپنے اوامر و نواہی جاری کرے اور مخلوق ان آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے، اس سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمال پر استدلال کرے اور ان کو معلوم ہو جائے کہ وہ ہستی جس نے اتنے بڑے اور وسیع آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ تمام مخلوق کو نئے سرے سے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے تاکہ ان کی نیکی اور بدی پر ان کو جزا و سزا دے اور اس کی قدرت و مشیت ایسا کرنے سے قاصر نہیں ہے۔ بنا بریں فرمایا ﴿ اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَاۡتِ بِخَلۡقٍ جَدِيۡدٍ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور نئی مخلوق لے آئے‘‘ اس آیت کریمہ میں اس معنیٰ کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تمھیں لے جائے اور تمھاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے جو تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والی ہو اور یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں فنا کر دے اور پھر تمھیں دوبارہ زندہ کر کے ایک نئی تخلیق عطا کرے۔ اس احتمال کے مطابق اس آیت سے قیامت کے احوال کا اثبات ہوتا ہے جن کا ذکر مابعد سطور میں آ رہا ہے۔
[20]﴿ وَّمَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِيۡزٍ﴾ ’’اور یہ اللہ کو کچھ بھی مشکل نہیں ۔‘‘ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں بلکہ بہت آسان ہے ﴿مَا خَلۡقُكُمۡ وَلَا بَعۡثُكُمۡ اِلَّا كَنَفۡسٍ وَّاحِدَةٍ﴾(لقمان:31؍28) ’’تمھیں پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جلا اٹھانا ایک شخص کو پیدا کرنے اور اس کو جلا اٹھانے کی مانند ہے۔‘‘ ﴿وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ﴾(الروم: 30؍27) ’’وہی تو ہے جو تخلیق کی ابتداء کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور یہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔‘‘
[21]﴿ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور سب لوگ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے روز جب صور پھونکا جائے گا تو تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو گی، سب اپنی اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی خدمت میں جائیں گے۔ وہ ایک ہموار زمین میں کھڑے ہوں گے جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے اور اس سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی۔ پس جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور ہوں گے تو آپس میں جھگڑا کریں گے، ہر شخص اپنے آپ کی مدافعت کرے گا۔ مگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے ﴿ فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا ﴾ ’’پس کمزور کہیں گے‘‘ یعنی پیروی کرنے والے اور مقلدین ﴿ لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡۤا ﴾ ’’بڑائی والوں کو‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں پیروی کی جاتی تھی جو گمراہی کے میدان میں قیادت کرتے تھے ﴿اِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعًا﴾ ’’ہم تو تمھارے پیرو تھے۔‘‘ یعنی دنیا میں ہم تمھاری پیروی کرتے تھے، تم ہمیں گمراہی کا حکم دیا کرتے تھے اور گمراہی کو ہمارے سامنے آراستہ کیا کرتے تھے، پس تم نے ہمیں بدراہ کر دیا ﴿ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ مُّغۡنُوۡنَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’کیا پس تم ہم کو بچاؤ گے اللہ کے کسی عذاب سے کچھ‘‘ یعنی خواہ یہ عذاب سے بچانا ذرہ بھر ہی کیوں نہ ہو ﴿ قَالُوۡا﴾ یعنی قائدین اور سردار کہیں گے جیسے ہم گمراہ تھے ویسے ہی ہم نے تمھیں گمراہ کر دیا۔ اور ﴿لَوۡ هَدٰؔىنَا اللّٰهُ لَهَدَيۡنٰؔكُمۡ﴾ ’’اگر اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمھیں ہدایت کر دیتے‘‘ پس کوئی کسی کے کام نہ آئے گا ﴿ سَوَآءٌ عَلَيۡنَاۤ اَجَزِعۡنَاۤ ﴾ ’’اب برابر ہے ہمارے حق میں ہم بے قراری کریں ‘‘ عذاب کی وجہ سے۔ ﴿ اَمۡ صَبَرۡنَا ﴾ ’’یا صبر کریں ‘‘ اس عذاب پر ﴿ مَا لَنَا مِنۡ مَّحِيۡصٍ ﴾ ’’ہمارے لیے کوئی خلاصی نہیں ‘‘ یعنی کوئی پناہ گاہ نہیں جہاں ہم پناہ لے سکیں اور کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں ہم اللہ کے عذاب سے بھاگ کر جاسکیں ۔