الٓرٰ، یہ آیتیں ہیں کتاب اور قرآن واضح کی (1) بسا اوقات چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش کہ وہ ہوتے مسلمان (2) آپ چھوڑیے انھیں ، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور غفلت میں ڈالے رکھے انھیں (لمبی) امید، پس عنقریب وہ جان لیں گے (3) اور نہیں ہلاک کی ہم نے کوئی بستی مگر اس حال میں کہ اس کے لیے میعاد مقرر تھی (4) نہیں آگے نکل سکتی کوئی امت اپنے (مقررہ) وقت سےاور نہ پیچھے رہ سکتی ہے (5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کی تعظیم اور مدح بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’یہ کتاب کی آیات ہیں ۔‘‘ یعنی یہ آیات بہترین معانی اور افضل ترین مطالب پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَقُرۡاٰنٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’اور قرآن روشن کی۔‘‘ جو بہترین الفاظ اور اپنے مقصد پر قوی ترین دلائل کے ذریعے سے حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور یہ چیز اس بات کی موجب ہے کہ مخلوق اس کی اطاعت کرے، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور فرحت و سرور کے ساتھ اس کو قبول کرے۔
[2] جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انھوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔
[3] پس ﴿ ذَرۡهُمۡ يَاۡكُلُوۡا وَيَتَمَتَّعُوۡا ﴾ ’’چھوڑ دیں ان کو، کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں ‘‘ اپنی لذتوں سے ﴿ وَيُلۡهِهِمُ الۡاَمَلُ ﴾ ’’اور امید ان کو غفلت میں ڈالے رکھے‘‘ یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں ۔ پس بقاء کی یہ امید انھیں آخرت سے غافل کر دیتی ہے ﴿ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں ۔ کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔
[4]﴿ وَمَاۤ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَرۡيَةٍ ﴾ ’’اور کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا‘‘ جو کہ عذاب کی مستحق تھی ﴿ اِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴾ ’’مگر اس کا وقت لکھا ہوا مقرر تھا‘‘ یعنی اس کی ہلاکت کا وقت مقرر تھا۔
[5]﴿ مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّؔةٍ اَجَلَهَا وَمَا يَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ ﴾ ’’کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔‘‘ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔