Tafsir As-Saadi
16:45 - 16:47

کیا پس بے خوف ہو گئے ہیں وہ لوگ جنھوں نے تدبیریں کیں بری (اس بات سے) کہ دھنسا دے اللہ ان کو زمین میں ؟ یا آئے ان پر عذاب جہاں سے نہ شعور رکھتے ہوں وہ؟ (45) یا وہ پکڑ لے ان کو ان کے چلتے ، پھرتے (کی حالت ) میں پس نہیں وہ عاجز کر سکتے (اللہ کو)(46) یا وہ پکڑ لے ان کو اوپر ان کی خوف زدگی کے، پس بے شک تمھارا رب ، البتہ بہت ہی شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (47)

[47-45] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکار کرنے والوں ، جھٹلانے والوں اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے تخویف ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب انھیں غفلت میں نہ آپکڑے اور انھیں شعور تک نہ ہو۔ یہ عذاب ان پر یا تو اوپر سے نازل ہو یا نیچے سے پھوٹ پڑے، جیسے زمین میں دھنس جانے یا کسی اور صورت میں ظاہر ہو یا یہ عذاب ان پر اس وقت نازل ہو، جب وہ زمین پر چل پھر رہے ہوں اور اپنے کاروبار میں مصروف ہوں اور عذاب کا نازل ہونا ان کے خواب و خیال میں بھی نہ ہو یا اس حال میں ان پر عذاب نازل ہوکہ وہ عذاب سے خائف ہوں ۔ پس وہ کسی بھی حالت میں اللہ تعالیٰ کو بے بس نہیں کر سکتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور ان کی پیشانیاں اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ نہایت مہربان اور بہت رحیم ہے، وہ گناہ گاروں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ وہ ان کو ڈھیل دیتا ہے اور ان کو معاف کر دیتا ہے، وہ ان کو رزق سے نوازتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اسے اور اس کے اولیاء کو ایذا پہنچاتے ہیں ۔بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے توبہ کے دروازے کھول رکھے ہیں ، وہ انھیں گناہوں کو ختم کرنے کی دعوت دیتا ہے، جو ان کے لیے سخت ضرر رساں ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اس کے بدلے میں بہترین اکرام و تکریم اور ان کے گناہوں کو بخش دینے کا وعدہ کرتا ہے… پس مجرم کو اپنے رب سے شرمانا چاہیے کہ اس کی نعمتیں ہر حال میں اس پر نازل ہوتی رہتی ہیں اور اس کے بدلے میں اس کی طرف سے ہر وقت نافرمانیاں اپنے رب کی طرف بلند ہوتی ہیں ۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ڈھیل دیتا ہے مہمل نہیں چھوڑتا اور جب وہ گناہ گار نافرمان کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ ایک غالب اور مقتدر ہستی کی پکڑ ہے۔ پس اسے توبہ کرنی چاہیے اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ بس اس کی بے پایاں رحمت اور اس کے لامحدود احسان کے سائے کے نیچے آ جاؤ اور جلدی سے اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو رب رحیم کے فضل و کرم کی منزل تک پہنچاتا ہے اور یہ راستہ اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور اس کے محبوب اور پسندیدہ امور پر عمل کرنے سے عبارت ہے۔