اورنہیں ہے زندگی دنیا کی مگر کھیل اور تماشہ اور گھر آخرت کا بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟(32)
[32] یہی دنیا اور آخرت کی حقیقت ہے۔ رہی دنیا کی حقیقت تو یہ محض لہو و لعب ہے۔ بدن کا کھیل تماشہ۔ اور قلب کا کھیل تماشہ، پس دل لہو و لعب پر فریفتہ، نفوس اس پر عاشق اور ارادے اس سے پیوست رہتے ہیں اور لہو و لعب میں مشغولیت اس میں ایسے ہوتی ہے جیسے بچے کھیل میں مگن ہوتے ہیں ۔ رہی آخرت تو وہ ﴿ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ ﴾ اپنی ذات و صفات اور بقا و دوام کے اعتبار سے اہل تقویٰ کے لیے بہتر ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہو گی جس کی نفس خواہش کریں گے ،جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، یعنی قلب و روح کی نعمت اور مسرت و فرحت کی کثرت۔ مگر یہ نعمتیں اور مسرتیں ہر ایک کے لیے نہیں ہوں گی بلکہ صرف متقی لوگوں کے لیے ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور اس کی منہیات کو ترک کرتے ہیں ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم عقل نہیں رکھتے؟‘‘ کیا تمھارے پاس عقل نہیں جس کے ذریعے سے تم یہ ادراک کر سکو کہ دنیا اور آخرت میں سے کون سا گھر ترجیح دیے جانے کا مستحق ہے؟