تحقیق جانتے ہیں ہم بلاشبہ غمگین کرتی ہے آپ کو وہ بات جو وہ کہتے ہیں ، پس بے شک وہ نہیں جھٹلاتے آپ کو لیکن وہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں (33) اور بلاشبہ جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے تو صبر کیا انھوں نے اوپر اس کے جو وہ جھٹلائے گئے اور ایذاء دیے گئے، حتی کہ آگئی ان کے پاس ہماری مدداور نہیں کوئی تبدیل کرنے والا اللہ کے کلمات کواور یقینا آچکی ہیں آپ کے پاس کچھ خبریں رسولوں کی(34) اور اگر ہو گراں آپ پر اعراض کرنا ان کا تو اگر استطاعت رکھتے ہیں آپ یہ کہ تلاش کریں کوئی سرنگ زمین میں یا سیڑھی آسمان میں، پھر لے آئیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی، (تو کر دیکھیں )اور اگر چاہتا اللہ تو جمع کر دیتا انھیں ہدایت پر، پس نہ ہوں آپ نادانوں سے(35)
[33] یعنی ہمیں علم ہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والے آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے اور آپ غم زدہ ہوتے ہیں ۔ ہم نے آپ کو صبر کرنے کا حکم محض اس لیے دیا ہے تاکہ آپ کو مقامات بلند اور گراں قیمت احوال حاصل ہوں ۔ پس آپ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ قول اس سبب سے صادر ہوا ہے کہ ان کو آپ کے بارے میں کوئی اشتباہ یا شک لاحق ہوا ہے ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ ﴾ ’’بے شک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے‘‘ کیونکہ وہ آپ کی صداقت، آپ کے اندر باہر اور آپ کے تمام احوال کو خوب جانتے ہیں ۔ حتیٰ کہ وہ آپﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کو ’’امین‘‘ کہا کرتے تھے ﴿ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ان آیات کو جھٹلاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ظاہر کیا۔
[34] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَصَبَرُوۡا عَلٰى مَا كُذِّبُوۡا وَاُوۡذُوۡا حَتّٰۤى اَتٰىهُمۡ نَصۡرُنَا ﴾ ’’آپ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا، پس انھوں نے اپنی تکذیب اور ایذا دیے جانے پر صبر کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی‘‘ پس جس طرح انھوں نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر کیجیے۔ جس طرح وہ ظفریاب ہوئے آپ بھی ظفریاب ہوں گے :﴿وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِنۡ نَّبَاِي الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’آپ کے پاس گزشتہ انبیا و مرسلین کی خبر پہنچ گئی ہے‘‘ جس سے آپ کے دل کو تقویت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
[35]﴿ وَاِنۡ كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ اِعۡرَاضُهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ان کی روگردانی آپ پر شاق گزرتی ہے۔‘‘ یعنی اگر ان کا اعراض آپ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ آپ ان کے ایمان کی بہت خواہش رکھتے ہیں تو آپ اس بارے میں اپنی پوری کوشش کر دیکھیے۔ پس اس شخص کو ہدایت دینا آپ کے بس میں نہیں جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا نہ چاہتا ہو۔ ﴿ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِيَ نَفَقًا فِي الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِي السَّمَآءِ فَتَاۡتِيَهُمۡ بِاٰيَةٍ﴾ ’’پس اگر آپ سے ہو سکے کہ ڈھونڈ نکالیں کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیڑھی آسمان میں پھر لائیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی‘‘ یعنی یہ سب کچھ کر دیکھیے ان میں سے کوئی چیز بھی ان کو فائدہ نہیں دے گی۔ یہ آیت کریمہ اس قسم کے معاندین حق کی ہدایت کی تمنا اور امید کو منقطع کرتی ہے۔ ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا‘‘ مگر حکمت الٰہی متقاضی ہوئی کہ وہ اپنی گمراہی پر باقی رہیں ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ جاہلوں میں شامل نہ ہوں ‘‘ جو حقائق امور کی معرفت نہیں رکھتے اور ان امور کو ان کے مقام پر نہیں رکھتے۔