Tafsir As-Saadi
2:17 - 2:20

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے جلائی آگ، پھر جب روشن کر دیا اس ( آگ) نے اس کے اردگرد کو، لے گیا اللہ روشنی ان کی اور چھوڑ دیا ان کو اندھیروںمیں، وہ نہیں دیکھتے(17)(وہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، پس وہ نہیں لوٹتے(18) یا (ان کی مثال) زور دار بارش کی سی ہے جو آسمان سے ( آتی) ہے، اس میں اندھیرے اور گرج اور بجلی ہے، ٹھونستے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں، بوجہ کڑکوں کے، موت کے ڈر سے اور اللہ گھیرنے والا ہے کافروں کو(19)( قریب ہے )بجلی کہ اچک لے آنکھیں ان کی، جب چمکتی ہے ان پر تو وہ چلنے لگتے ہیں اس (کی روشنی) میں اور جب اندھیرا ہوتا ہے ان پر تو وہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر چاہے اللہ تو لے جائے کان ان کے اور آنکھیں ان کی، بے شک اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(20)

[17] یعنی ان کی مثال، جو ان کے احوال کی آئینہ دار ہے، اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی ہو...... یعنی یہ شخص اندھیرے میں تھا، آگ کی اسے سخت ضرورت تھی اس نے کسی اور سے لے کر آگ روشن کی۔ یہ آگ اس کے پاس تیار اور موجود نہ تھی۔ جب آگ نے اس کے ماحول کو روشن کر دیا اور اس نے اس جگہ کو دیکھا جہاں وہ کھڑا تھا، ان خطرات کو دیکھا جنھوں نے اسے گھیر رکھا تھا اور اس امن کو دیکھا (جو اسے اس روشنی کے باعث حاصل ہوا تھا) اس نے اس آگ سے فائدہ اٹھایا اور اس آگ سے اسے اطمینان حاصل ہوا وہ سمجھتا تھا کہ اس آگ پر اسے پوری قدرت حاصل ہے اور اسی خیال میں غلطاں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے روشنی لے کر زائل کر دی، اس کے ساتھ اس کی مسرت بھی چلی گئی اور وہ سخت تاریکی میں کھڑا رہ گیا۔ آگ کی روشنی چلی گئی مگر اس کی جلا دینے والی حرارت باقی رہ گئی۔ پس وہ متعدد تاریکیوں میں گھرا ہوا رہ گیا، رات کی تاریکی، بادلوں کا اندھیرا، بارش کا اندھیرا اور ایک وہ اندھیرا جو روشنی کے بجھنے کے فوراً بعد محسوس ہوتا ہے تب اس بیان کردہ شخص کی کیا حالت ہوگی؟ یہی حال ان منافقین کا ہے۔ انھوں نے اہل ایمان سے ایمان کی آگ لے کر آگ روشن کی کیونکہ وہ ایمان کی روشنی سے بہرہ ور نہ تھے، انھوں نے وقتی طور پر اس آگ سے روشنی حاصل کی اور اس سے فائدہ اٹھا یا، اس طرح انھوں نے اپنے جان و مال کو محفوظ کر لیا اور دنیا میں ان کو ایک قسم کا امن حاصل ہوگیا وہ اسی حالت میں تھے کہ اچانک ان پر موت حملہ آور ہوئی اور اس روشنی سے حاصل ہونے والے تمام فوائد اس سے چھین لے گئی، ہر قسم کا عذاب اور غم ان پر مسلط ہوگیا، کفر و نفاق اور گناہوں کی مختلف تاریکیوں نے ان کو گھیر لیا، اس کے بعد انھیں جہنم کے اندھیروں کا سامنا کرنا ہوگا جو بدترین ٹھکانا ہے۔
[18] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا: ﴿صُمٌّ ﴾ وہ بھلائی کی بات سننے سے بہرے ہیں ﴿بُكۡمٌ﴾ وہ بھلائی کی بات کہنے سے گونگے ہیں ﴿عُمۡيٌ ﴾ حق کے دیکھنے سے اندھے ہیں ﴿فَهُمۡ لَا يَرۡجِعُوۡنَ﴾ چونکہ انھوں نے حق کو پہچان کر ترک کیا ہے اس لیے اب یہ واپس نہیں لوٹیں گے۔ ان کی حالت اس شخص کی حالت کے برعکس ہے جو محض جہالت اور گمراہی کی بنا پر حق کو ترک کرتا ہے کیونکہ وہ اسے سمجھتا نہیں۔ ان کی نسبت اس شخص کے بارے میں زیادہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ حق کی طرف رجوع کرے۔
[19] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اَوۡ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ﴾ یا (ان کی مثال) اس شخص کی مانند ہے جس پر موسلا دھار بارش ہو رہی ہو۔ (صَیِّبٍ) سے مراد وہ بارش ہے جو موسلا دھار برستی ہے۔ ﴿فِيۡهِ ظُلُمَاتٌ﴾ ’’اس میں اندھیرے ہیں۔‘‘ اس سے مراد ہے، رات کا اندھیرا، بادل کا اندھیرا اور بارش کی تاریکیاں۔ ﴿وَرَعۡدٌ﴾ ’’اور کڑک کی آواز ہے۔‘‘ جو کہ بادل سے سنائی دیتی ہے۔ ﴿وَبَرۡقٌ﴾ اوربجلی کی وہ چمک ہے جو بادلوں میں دکھائی دیتی ہے۔
[20]﴿كُلَّمَآ اَضَآءَ لَهُمۡ﴾ یعنی اس بجلی کی چمک جب اندھیرے میں روشنی کرتی ہے۔ ﴿مَشَوۡا فِيۡهِ وَاِذَا اَظۡلَمَ عَلَيۡهِمۡ قَامُوۡا﴾ ’’تو چلتے ہیں اس میں اور جب ان پر اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں‘‘ یعنی وہ کھڑے رہ جاتے ہیں۔ پس اسی قسم کی حالت منافقین کی ہے جب وہ قرآن مجید، اس کے اوامر و نواہی اور اس کے وعد و وعید سنتے ہیں تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں۔ اس کے اوامر و نواہی اور وعد و وعید سے اعراض کرتے ہیں وعید ان کو گھبراہٹ میں مبتلا کرتی ہے اور اس کے وعدے ان کو پریشان کر دیتے ہیں۔ وہ حتیٰ الامکان ان سے اعراض کرتے ہیں اور اس شخص کی مانند اسے سخت ناپسند کرتے ہیں جو سخت بارش میں گھرا ہوا بجلی کی کڑک سنتا ہے اور موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتا ہے اس شخص کو تو بسا اوقات سلامتی اور امن مل جاتا ہے۔ مگر منافقین کے لیے کہاں سے سلامتی آئے گی؟ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور علم نے انھیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ وہ اس کی پکڑ سے بھاگ نہیں سکتے اور نہ وہ اس کو عاجز کر سکتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو اعمال ناموں میں محفوظ کر دیتا ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی پوری پوری جزا دے گا۔ چونکہ وہ معنوی بہرے پن، گونگے پن اور اندھے پن میں مبتلا ہیں اور ان پر ایمان کی تمام راہیں مسدود ہیں اس لیے ان کے بارے میں فرمایا:﴿وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمۡعِهِمۡ وَاَبۡصَارِهِمۡ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہے تو لے جائے ان کے کان اور ان کی آنکھیں‘‘ یعنی ان کی حس سماعت اور حس بصارت سلب کر لے۔ اس آیت کریمہ میں ان کو دنیاوی سزا سے ڈرایا گیا ہے تاکہ وہ ڈر کر اپنے شر اور نفاق سے باز آجائیں۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ اس لیے کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں سے یہ بات بھی ہے کہ جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو کر گزرتا ہے۔ کوئی اس کو روکنے والا اور اس کی مخالفت کرنے والا نہیں۔ اس آیت اور اس قسم کی دیگر آیات میں قدریہ کا رد ہے جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسانوں کے افعال اللہ تعالیٰ کی قدرت میں داخل نہیں ہیں، کیونکہ انسانوں کے افعال بھی من جملہ ان اشیاء کے ہیں جو ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ کے تحت، اس کی قدرت میں داخل ہیں۔