Tafsir As-Saadi
2:30 - 2:34

اور (یاد کرو!) جب کہا آپ کے رب نے فرشتوں سے، یقیناً میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ، انھوں نے کہا: کیا بناتا ہے تو اس (زمین) میں اس کو جو فساد کرے گا اس میں اور بہائے گا خون؟ اور ہم تسبیح کرتے ہیں ساتھ تیری تعریف کے اور پاکیزگی بیان کرتے ہیں تیری۔ کہا اللہ نے :بے شک میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے(30)اور سکھلائےاس نے آدم کو نام سب کے سب، پھر پیش کیا ان کواوپر فرشتوں کےاور کہا: خبر دو مجھے ان (چیزوں) کے ناموں کی، اگر ہو تم سچے(31) انھوں نے کہا: پاک ہے تو، نہیں ہے علم ہم کو مگر وہی جو سکھلایا تونے ہم کو،بے شک تو ہی ہے جاننے والا حکمت والا(32)اللہ نے کہا: اے آدم! بتا دے تو ان کو نا م ان چیزوں کے، پس جب بتا دیے اس نے ان کو نام ان کے، تو کہا اللہ نے: کیا نہیں کہا تھا میں نےتم سےکہ بلاشبہ میں جانتا ہوں چھپی باتیں آسمانوں اور زمین کی اور میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے اور جوتھے تم چھپاتے(33) اور جب کہاہم نے فرشتوں سے، سجدہ کروتم آدم کو! تو سجدہ کیا سب نے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا اورتکبر کیااور تھا وہ کافروں میں سے(34)

[30]﴿وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اِنِّيۡ جَاعِلٌ فِي الۡاَرۡضِ خَلِيۡفَةً﴾ ’’اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا، میں زمین میں ایک خلیفہ بناؤں گا‘‘ یہ ابوالبشر حضرت آدمuکی تخلیق کی ابتدا اور ان کی فضیلت کا ذکر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کا ارادہ کیا تو اس نے فرشتوں کو آگاہ کیا اور فرمایا کہ وہ آدم کو زمین کے اندر خلیفہ بنائے گا۔ اس پر تمام فرشتوں نے کہا:﴿اَتَجۡعَلُ فِيۡهَا مَنۡ يُّفۡسِدُ فِيۡهَا﴾ ’’کیا تو زمین میں اس کو بنائے گا جو اس میں فساد کرے گا‘‘ یعنی گناہوں کا ارتکاب کر کے زمین پر فساد برپا کرے گا ﴿وَيَسۡفِكُ الدِّمَآءَ﴾ ’’اور خون بہائے گا‘‘ یہ عموم کے بعدتخصیص ہے اور اس کا مقصد قتل کے مفاسد کی شدت کو بیان کرنا ہے۔ اور یہ فرشتوں کے گمان کے مطابق تھا کہ وہ ہستی جسے زمین میں خلیفہ بنایا جارہا ہے اس کی تخلیق سے زمین کے اندر فساد ظاہر ہو گا، چنانچہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور عظمت بیان کرتے ہوئے عرض کی کہ وہ اس طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہے ہیں جو تمام مفاسد سے پاک ہے۔ چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِكَ﴾ ’’اور ہم تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں تیری خوبیوں کے ساتھ‘‘ یعنی ہم ایسی تنزیہ کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں جو تیری حمد و جلال کے لائق ہے۔ ﴿وَنُقَدِّسُ لَكَ﴾ اس میں ایک معنی کا احتمال یہ ہے کہ ہم تیری تقدیس بیان کرتے ہیں یعنی (نُقَدِّسُکَ) اس صورت میں لام تخصیص اور اخلاص کا فائدہ دے گا۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس کے معنی ہوں۔ (وَنُقَدِّسُ لَکَ اَنْفُسَنَا) ’’ہم اپنے آپ کو تیرے لیے پاک کرتے ہیں‘‘ یعنی ہم اپنے نفوس کو اخلاق جمیلہ جیسے محبت الٰہی، خشیت الٰہی اور تعظیم الٰہی کے ذریعے سے پاک کرتے ہیں اور ہم اپنے نفسوں کو اخلاق رزیلہ سے بھی پاک کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا:﴿ اِنِّيۡۤ اَعۡلَمُ﴾ یعنی میں جانتا ہوں کہ یہ خلیفہ کون ہے۔ ﴿مَالَا تَعۡلَمُوۡنَ﴾ جو تم نہیں جانتے کیونکہ تمھارا کلام تو ظن اور گمان پر مبنی ہے جب کہ میں ظاہر و باطن کا علم رکھتا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ اس خلیفہ کی تخلیق سے جو خیر اور بھلائی حاصل ہو گی وہ اس شر سے کئی گنا زیادہ ہے جو اس کی تخلیق میں مضمر ہے اور اس میں یہ بات بھی نہ ہوتی، تب بھی اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ کہ وہ انسانوں میں سے انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کو چنے، اس کی نشانیاں مخلوق پر واضح ہوں اور اس سے عبودیات کی وہ کیفیتیں حاصل ہوں جو اس خلیفہ کی تخلیق کے بغیر حاصل نہ ہو سکتی تھیں، جیسے جہاد وغیرہ ہیں اور امتحان اور آزمائش کے ذریعے سے خیروشر کی وہ قوتیں ظاہر ہوں جو مکلفین کی فطرت میں پوشیدہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں اور دوستوں اور اس کے خلاف جنگ لڑنے والوں اور حزب اللہ کے مابین امتیاز ہو۔ اور ابلیس کا وہ شر ظاہر ہو جو اس کی فطرت میں پوشیدہ ہے اور جس سے وہ متصف ہے۔ تو آدمuکی تخلیق میں یہ حکمتیں ہی اتنی عظیم ہیں کہ ان میں سے چند ایک بھی اس کی تخلیق کے لیے کافی ہیں۔

پھر چونکہ فرشتوں کے قول میں ان کے اس خیال کی طرف اشارہ ہے کہ انھیں اس خلیفہ پر فضیلت حاصل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ فرشتوں پر آدم کی فضیلت کو واضح کر دے، تاکہ اس کے ذریعے سے وہ آدم کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ کے کمال حکمت اور اس کے علم کو جان لیں۔

[31] پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَؔ كُلَّهَا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے آدمuکو تمام چیزوں کے اسماء اور ان کے مسمی کا علم عطا کر دیا۔ پس اس نے اسے اسم اور مسمی دونوں کی تعلیم دی، یعنی الفاظ اور معانی دونوں سکھا دیے۔ یہاں تک کہ اسماء میں سے مکبر اور مصغر کے مابین امتیاز کو بھی واضح کر دیا، مثلاً ’’قَصْعَۃٌ‘‘ (پیالہ) اور ’’قُصَیْعَۃٌ‘‘ (چھوٹا سا پیالہ)﴿ثُمَّ عَرَضَهُمۡ﴾ یعنی پھر ان مسمیات کو پیش کیا ﴿عَلَي الۡمَلٰٓىِٕكَةِ﴾ ’’فرشتوں پر‘‘ یعنی فرشتوں کو آزمانے کے لیے کہ آیا یہ ان مسمیات کو پہچانتے ہیں یا نہیں اور فرمایا: ﴿ فَقَالَ اَنۢۡبِـُٔوۡنِيۡ۠ بِاَسۡمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ﴾ اگر تم اپنے اس دعوے اور گمان میں سچے ہو کہ تم اس خلیفہ سے افضل ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام بتاؤ۔
[32]﴿قَالُوۡا سُبۡحٰنَكَ﴾ فرشتوں نے جواب دیا کہ ہم نے تجھ پر جو اعتراض کیا تھا اور تیرے حکم کی مخالفت کا ارتکاب کر بیٹھے۔ اس سے تجھے منزہ اور پاک تسلیم کرتے ہیں ﴿لاَ عِلۡمَ لَنَا﴾ یعنی ہمیں کسی بھی پہلو سے کوئی علم نہیں ﴿اِلَّامَا عَلَّمۡتَنَا﴾ سوائے اس علم کے جو تو نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں عطا کیا ہے۔ ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ﴾(العلیم) اس ہستی کو کہا جاتا ہے جس نے اپنے علم کے ذریعے سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہو۔ اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہ ہو آسمانوں اور زمین میں کوئی ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہ ہو، اس ذرے سے بڑی یا اس سے چھوٹی کوئی چیز بھی اس سے چھپی ہوئی نہ ہو۔ (الحکیم) اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو کامل حکمت کی مالک ہو۔ کوئی مخلوق اس کی حکمت سے باہر نہ ہو اور کوئی مامور اس حکمت سے علیحدہ نہ ہو۔ پس اللہ تعالی نے کوئی چیز ایسی پیدا نہیں کی جس میں کوئی حکمت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا حکم دیا ہے جو حکمت سے خالی ہو۔ حکمت سے مراد ہے کسی چیز کو اس کے اس مقام پر رکھنا جو اس کے لائق ہے۔ فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کا اقرار اور اعتراف کیا اور اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ وہ ایک ادنی سی چیز کی معرفت سے بھی قاصر تھے۔ انھوں نے اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور انھیں وہ کچھ سکھایا جو وہ نہ جانتے تھے۔
[33] پس اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ يٰۤاٰدَمُ اَنۢۡبِئۡهُمۡ بِاَسۡمَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اے آدم، ان کو ان کے ناموں کی خبر دو‘‘ یعنی ان تمام مسمیات کے اسماء کے بارے میں آگاہ کرو جن کو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے پیش کیا تھا اور فرشتے ان کے نام بتانے سے قاصر رہے ﴿ فَلَمَّاۤ اَنۢۡبـَاَهُمۡ ﴾ جب آدمuنے فرشتوں کو ان ناموں سے آگاہ کیا تو ان پر آدم کی فضیلت ظاہر اور اس کو خلیفہ بنانے میں باری تعالیٰ کی حکمت اور اس کا علم ثابت ہو گیا ﴿ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّـكُمۡ اِنِّيۡۤ اَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اللہ نے فرمایا، کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کو جانتا ہوں۔‘‘ غیب سے مراد ہر وہ چیز ہے جو ہم سے اوجھل ہو اور ہم اس کا مشاہدہ نہ کر سکتے ہوں۔ جب وہ غائب چیزوں کا علم رکھتا ہے تو مشہودات کو وہ بدرجہ اولیٰ جانتا ہے ﴿وَاَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ﴾ یعنی میں جانتا ہوں اس چیز کو جسے تم ظاہر کرتے ہو ﴿ وَمَا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَ ﴾ اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔
[34] پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدمuکے اکرام و تعظیم اور اللہ تعالی کی عبودیت کے اظہار کے لیے آدمuکے سامنے سجدہ ریز ہوں۔ انھوں نے اللہ تعالی کے حکم کی اطاعت کی اور تمام فرشتے اسی وقت سجدے میں گر گئے ﴿اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَ اَبٰي﴾ سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے اللہ تعالی کے حکم کے سامنے تکبر کا اظہار کیا اور آدمuسے اپنے آپ کو بڑا سمجھا۔ اس نے تکبر سے کہا:﴿ءَاَسۡجُدُ لِمَنۡ خَلَقۡتَ طِيۡنًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍61) ’’کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے تخلیق کیا ہے۔‘‘ یہ انکار اور استکبار اس کے اس کفر کا نتیجہ تھا جو اس کی سرشت میں پوشیدہ تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ اور آدمuسے اس کی عداوت ظاہر ہو گئی اور اس کا کفر و استکبار عیاں ہو گیا۔ ان آیات کریمہ سے کچھ نصیحتیں اور کچھ نکات ماخوذ ہوتے ہیں۔ (۱) اللہ تعالیٰ کے لیے کلام کا اثبات، وہ ہمیشہ سے کلام کرتا رہا ہے، وہ جو چاہتا ہے کہتا ہے، وہ جو چاہتا ہے کلام کرتا ہے، وہ علم والا اور حکمت والا ہے۔ (۲)بندے پر جب بعض مخلوقات اور مامورات میں پوشیدہ اللہ تعالیٰ کی حکمت مخفی رہ جائے تو اس پر سرتسلیم خم کرنا، اپنی عقل کو ناقص ٹھہرانا اوراللہ تعالیٰ کی حکمت کا اقرار کرنا واجب ہے۔ (۳) ان آیات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے معاملے کو اہمیت دی، ان پر احسان عظیم فرمایا، جس چیز کے بارے میں وہ جاہل تھے اس کی انھیں تعلیم دی اور جس کا انھیں علم نہ تھا اس پر انھیں متنبہ فرمایا۔ ان آیات میں مندرجہ ذیل وجوہ سے علم کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ (الف) اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کو اپنے علم و حکمت کی معرفت عطا کی۔ (ب) اللہ تعالیٰ نے ان کو اس حقیقت سے واقف کرایا کہ آدمuکو بربنائے علم فضیلت حاصل ہے اور علم بندے کی افضل ترین صفت ہے۔ (ج) جب آدمuکے علم کی فضیلت واضح اور عیاں ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدمuکے اکرام و تکریم کے لیے اسے سجدہ کریں۔ (د) کسی اور کو کسی امتحان کے ذریعے سے آزمانا جبکہ اس امتحان میں کچھ لوگ پورے نہ اترے ہوں۔ پھر امتحان میں پورا اترنے والے صاحب فضیلت سے یہ امتحان لے تو یہ اس شخص سے زیادہ کامل ہے جس سے ابتدا میں امتحان لیا گیا تھا۔ (ھ) جن و انس کے والدین کے احوال سے عبرت پذیری، آدمuکی فضیلت، اس پر اللہ تعالیٰ کے احسانات اور آدم کے ساتھ ابلیس کی عداوت کا اظہار اور اس جیسی دیگر عبرتیں۔