اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ باطل کرو اپنے صدقے ساتھ احسان جتانے اور ایذا دینے کے، مانند اس شخص کے جو خرچ کرتا ہے مال اپنا واسطے دکھاوے لوگوں کےاور نہیں ایمان لاتا وہ ساتھ اللہ اور یوم آخرت کے، پس اس کی مثال مانند مثال ایک چکنے پتھر کے ہے کہ اوپر اس (پتھر) کے مٹی ہے، سو پہنچی اسے زور کی بارش، پس بارش نے چھوڑا اس پتھر کو صاف کرکے، نہیں قدرت رکھیں گے (ایسے لوگ) اوپر کسی چیز کے اس میں سے جو انھوں نے کمایااور اللہ نہیں ہدایت دیتا کافر قوم کو(264) اور مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال واسطے تلاش کرنے کے رضامندی اللہ کی، اور واسطے پختگی پیدا کرنے کے اپنے نفسوں میں، مانند مثال اس باغ کے ہے جو ٹیلے پر ہے، پہنچی اسے زور کی بارش تو لایا وہ باغ اپنا پھل دوگنا، پس اگر نہ پہنچے اس باغ کو زور کی بارش تو پھوار (ہی کافی ہے) اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہے(265) کیا پسند کرتا ہے ایک تمھارا یہ کہ ہو اس کے واسطے ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا، بہتی ہوں اس کے نیچے نہریں، اس شخص کے واسطے اس باغ میں ہر قسم کے پھل ہوں اور آپہنچا ہوا سے بڑھاپااور واسطے اس کے اولاد ہو کمزور، پھر (ناگہاں) آپڑے اس (باغ) پر ایک ایسا بگولا کہ اس میں آگ ہو، پس جل جائے وہ (باغ)؟ اسی طرح (کھول کر) بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے آیتیں، تاکہ تم غور و فکر کرو(266)
[266-264] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و شفقت فرماتے ہوئے انھیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر اپنے صدقے ضائع کر بیٹھیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ احسان جتلانے اور تنگ کرنے سے صدقہ کالعدم ہوجاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گناہوں کے ارتکاب کے نتیجے میں نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ جیسے ارشاد ربانی ہے: ﴿وَلَا تَجۡهَرُوۡا لَهٗ بِالۡقَوۡلِ كَجَهۡرِ بَعۡضِكُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُكُمۡ وَاَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴾(الحجرات:49؍2) ’’نبی سے اونچی آواز سے بات نہ کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال اکارت جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘ چنانچہ جس طرح نیکیوں کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح گناہ بھی اپنے مقابلے میں آنے والی نیکیوں کو ضائع کرسکتے ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہے:﴿ وَلَا تُبۡطِلُوۡۤا اَعۡمَالَكُمۡ ﴾(محمد:47؍33) ’’اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو۔‘‘ ان دونوں آیات میں عمل کو مکمل کرنے اور اسے خراب کرنے والی اشیاء سے محفوظ رکھنے کی ترغیب ہے تاکہ عمل بے کار نہ ہوجائے۔ پھر فرمایا: ﴿ كَالَّذِيۡ يُنۡفِقُ مَالَهٗ رِئَؔاؔٓءَ النَّاسِ وَلَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے۔ نہ اللہ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔‘‘ یعنی اگر تم نے شروع میں اللہ کی رضا کی نیت رکھ کر بھی عمل کیا ہو تو احسان جتلانے سے وہ تباہ ہوجاتا ہے۔ چنانچہ تمھارا یہ عمل اس شخص کے عمل کی طرح ہوجائے گا جو صرف دکھاوے کے لیے نیکی کرتا ہے۔ اس کا مقصد اللہ کی رضا اور جنت کا حصول نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا عمل سرے سے ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ عمل مقبول کی شرط یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو۔ اس شخص نے اصل میں عمل کیا ہی لوگوں کے لیے ہے، اللہ کے لیے کیا ہی نہیں۔ لہٰذا اس کا عمل کالعدم ہوگا اور اس کی محنت بے کار جائے گی۔ اس کے حال کے مطابق تو اس کی مثال ﴿ كَمَثَلِ صَفۡوَانٍ ﴾ ’’ملائم اور سخت پتھر کی سی ہے۔‘‘ ﴿ عَلَيۡهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ ﴾ ’’جس پر کچھ مٹی پڑی ہے۔ پھر اس پر زور دار مینہ برسا‘‘ ﴿ فَتَرَؔكَهٗ صَلۡدًا ﴾ یعنی اسے اس طرح کا کرکے چھوڑا کہ اس پر وہ مٹی بالکل باقی نہیں رہی۔ دکھاوا کرنے والے کی بھی یہی مثال ہے۔ اس کا سخت دل صاف اور سخت پتھر کے مشابہ ہے۔ اس کا صدقہ وغیرہ اس پتھر پر پڑی ہوئی مٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو شخص اس پتھر کی حقیقت سے واقف نہیں، وہ خیال کرے گا کہ یہ قابل کاشت اور زرخیز زمین ہے۔ جب حقیقت ظاہر ہوگئی تو گویا وہ مٹی ہٹ گئی اور معلوم ہوگیا کہ اس کا عمل ایک سراب کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کا دل تو اس قابل تھا ہی نہیں کہ اس میں (نیکی کی) کھیتی اگ سکے اور بڑھ پھول سکے۔ اس کی ریا کاری اور بدنیتی اسے کسی نیکی سے مستفید ہونے کے قابل نہیں چھوڑتی، اس لیے فرمایا:﴿ لَا يَقۡدِرُوۡنَ عَلٰى شَيۡءٍ ﴾ یعنی وہ اپنے کمائے ہوئے اعمال میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے، کیونکہ انھوں نے ان اعمال کو غلط جگہ پر رکھا، اور اپنے جیسی مخلوق کے لیے انجام دیا جس کے ہاتھ میں نہ نفع ہے نہ نقصان۔ جس رب کی عبادت سے فائدہ ہو سکتا ہے اس کی عبادت سے منہ موڑ لیا، تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ہدایت سے پھیر دیا، اس لیے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ کافروں کی قوم کو راہ نہیں دکھاتا۔‘‘ یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو اپنے مال اس انداز سے خرچ کرتے ہیں کہ ان کے صدقات قبول ہوتے اور بڑھتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا: ﴿ وَمَثَلُ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَهُمُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ ﴾ ’’ان لوگوں کی مثال جو اپنے مال اللہ کی رضا مندی کی طلب میں خرچ کرتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کا مقصد اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ﴿ وَتَثۡبِيۡتًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ۔‘‘ یعنی جب وہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں سخاوت اور خوشی کی کیفیت ہوتی ہے۔ تردد کے ساتھ بادل نخواستہ خرچ نہیں کرتے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے نیک عمل پر دو طرح کی آفتیں آتی ہیں۔ یا تو انسان کا یہ ارادہ ہوتا ہے کہ لوگ تعریف کریں، یہ ریا کی بیماری ہے۔ یا کمزور نیت کے ساتھ ہچکچاتا ہوا خرچ کرتا ہے۔ سچے مومن ان دونوں آفتوں سے بچ کر صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ان کے سامنے کوئی اور مقصد نہیں ہوتا۔ ان کے خرچ کی مثال ایسے ہے ﴿ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ ﴾ ’’جیسے ایک باغ‘‘ جس میں درخت بے شمار ہیں اور سایہ گھنا ہے۔ (جَنَّةٍ) کا لفظ (اِجْتِنَان) سے ماخوذ ہے یعنی چھپا لینا۔ لہٰذا جنت سے مراد ایسا باغ ہے جس کے درخت زمین کو چھپا لیتے ہیں اس تک دھوپ نہیں پہنچنے دیتے۔ اور یہ باغ ﴿ بِرَبۡوَةٍ ﴾ ’’اونچی زمین پر‘‘ ہے۔ جس کو صبح، دوپہر اور شام سورج کی پوری روشنی حاصل ہوتی ہے۔ ایسے باغ کے پھل زیادہ اور بہتر ہوتے ہیں۔ یہ ایسی جگہ نہیں جہاں نہ ہوا لگے نہ دھوپ۔ اونچی زمین پر موجود اس باغ پر ﴿ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتۡ اُكُلَهَا ضِعۡفَيۡنِ ﴾ ’’زور دار بارش برسے اور وہ اپنا پھل دگنا لائے۔‘‘ زمین نم دار ہونے کی وجہ سے اور دوسرے معاون اسباب کی وجہ سے اور بکثرت پانی کی موجودگی کی وجہ سے اس باغ سے دگنا پھل حاصل ہوا۔ ﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يُصِبۡهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ﴾ ’’اور اگر اس پر بارش نہ برسے تو پھوار ہی کافی ہے۔‘‘ یعنی عمدہ زمین کی وجہ سے معمولی بارش بھی کافی ہے۔ یہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا حال ہے۔ کوئی زیادہ خرچ کرے یا کم، ہر ایک کو اپنے حالات کے مطابق فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اور ہر ایک کے ثواب میں پوری طرح اضافہ ہوتا ہے۔ اس کو بڑھانے والا وہ ہے جو تجھ پر تجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ جہاں تجھے اپنے فائدے کا خیال نہیں رہتا، اسے وہاں بھی تیرا فائدہ مقصود ہوتا ہے۔ اگر اس دنیا میں اس طرح کا کوئی باغ ہوتا، تو لوگ اس کے حصول کے لیے پوری کوشش کرتے، بلکہ ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے اور جنگ و جدل تک نوبت پہنچ جاتی۔ حالانکہ یہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور یہاں بے شمار آفات و مصائب ہیں۔ اور یہ ثواب جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے، مومن اسے بصیرت ایمانی کے نور سے گویا سامنے دیکھتا ہے، وہ جہاں دائمی ہے اس کی تمام خوشیاں اور نعمتیں دائمی ہیں۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ ان کی ہمت بیدار نہیں ہوتی، اس کے لیے جدوجہد کا کوئی داعیہ پیدا نہیں ہوتا۔ کیا اس کی وجہ آخرت سے بے رغبتی ہے یا اللہ کے وعدے پر یقین کمزور ہے؟ ورنہ اگر بندے کو واقعی کماحقہ یقین ہوتا اور دل میں ایمان سرایت کرچکا ہوتا، تو دل اس کے لیے جذبے اور ولولے سے معمور ہوجاتے اور ثواب کے حصول کے لیے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا آسان ہوجاتا، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ ﴾ ’’اور اللہ تمھارے کام دیکھ رہا ہے۔‘‘ وہ ہر شخص کے عمل سے بھی باخبر ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ اس عمل کا باعث کیا ہے۔ لہٰذا وہ اس کے مطابق مکمل جزا دے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہے۔ یہ مثال اس شخص کی ہے جو صدقہ وغیرہ نیکی کاکام اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے، پھر کوئی ایسا کام کردیتا ہے جس سے وہ نیکی تباہ ہوجائے۔ اس کی مثال ایک باغ کے مالک کی سی ہے جس کے باغ میں ہر قسم کے پھل ہیں۔ ان میں سے کھجور اور انگور کا ذکر خاص طورپر کیا گیا ہے کیونکہ یہ دوسروں سے افضل ہیں اور ان کے فوائد بھی زیادہ ہیں۔ ان کا استعمال خوراک کے طورپر بھی ہوتا ہے اور میوہ کے طورپر (لطف اندوزی کے لیے) بھی۔ اس باغ میں نہریں بھی چل رہی ہیں، جن کی وجہ سے آب پاشی میں کوئی مشقت نہیں ہوتی۔ اس کا مالک اس پر خوش ہے، لوگ رشک کرتے ہیں۔ یہ آدمی بوڑھا ہوگیا، کام کاج کے قابل نہیں رہا، اس لیے اب اسے باغ ہی سے امید ہے۔ اس کی اولاد کمزور ہے، جو کام کاج میں اس کی مدد نہیں کرسکتی۔ بلکہ اس کے لیے بوجھ ہے۔ اس کااپنا خرچ بھی باغ سے چلتا ہے اور بچوں کا بھی۔ ان حالات میں باغ پر آندھی آگئی۔ (إِعْصَار) اس تیز ہوا کو کہتے ہیں جو گول گھومتی ہے اور اوپر کو بلند ہوتی ہے۔ اس بگولے میں آگ تھی جس سے باغ جل گیا۔ اس حادثے سے جو رنج و غم حاصل ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اگر غم سے مرا جاسکتا تو یہ آدمی ضرور مرجاتا۔ اس طرح جو شخص اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتا ہے تو اس کے عمل کھیتی اور پھلوں کے بیج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے اعمال کے نتیجے میں اسے وہ باغ مل جاتا ہے جو بے انتہا دلکش ہے۔ نیکیوں کو ضائع کرنے والے اعمال اس بگولے کی طرح ہیں، جس میں آگ ہے۔ بندہ اپنے اعمال کا انتہائی ضرورت مند اس وقت ہوتا ہے جب وہ فوت ہوتا ہے۔ اس وقت اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ مزید کوئی عمل نہیں کرسکتا۔ اور جس عمل سے فائدے کی امید کی جاسکتی ہے وہ گردوغبار کی طرح بے حقیقت ہوچکا ہوتا ہے۔ اگر انسان اس صورت حال کو سمجھ لے اور اس کا تصور کرے تو اگر اسے تھوڑی سی عقل حاصل ہے تو ایسا کام ہرگز نہ کرے گا، جس میں اس کا اس قدر نقصان ہے اور جس کا انجام حسرت و افسوس ہے، لیکن ایمان و عقل کی کمزوری کی وجہ سے اور بصیرت کی کمی کی وجہ سے انسان اس حال کو پہنچ جاتا ہے کہ اگر ایسی حرکت کسی مجنون سے بھی سرزد ہو تو وہ عظیم اور انتہائی خطرناک ہو، اس لیے اللہ نے غوروفکر کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے:﴿ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَؔكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اسی طرح اللہ تمھارے لیے آیتیں بیان کرتا ہے تاکہ تم غوروفکر کرو۔‘‘