Tafsir As-Saadi
22:49 - 22:51

کہہ دیجیے، اے لوگو! یقینا میں تمھارے لیے ڈرانے والا ہوں کھلم کھلا (49)پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، ان کے لیے مغفرت ہے اور روزی عزت والی (50) اور وہ لوگ جنھوں نے کوشش کی ہماری آیتوں (کے جھٹلانے) میں (ہمیں ) عاجز کرنے کے لیے، وہی لوگ ہیں جہنمی(51)

[49] اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰﷺ کوحکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں سے مخاطب ہوکر کہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں ، اہل ایمان کو ثواب کی خوشخبری سنانے والے اور کافروں اور ظالموں کو اس کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں ۔ ﴿ مُّبِيۡنٌ﴾ یعنی واضح طور پر ڈرانے والے ہیں ۔ ’’انذار‘‘ سے مراد ایسا ڈرانا ہے جس میں اس امر سے بھی خبردار کیا گیا ہو جس سے ڈرانا مقصود ہے کیونکہ آپﷺ نے جس امر سے ان کو ڈرایا، اس کی صداقت پر روشن اور واضح دلائل قائم كيے۔
[50] پھر اللہ تعالیٰ نے اس انذار اور تبشیر کی تفصیل بیان فرمائی ﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ ﴾ ’’اہل ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔‘‘ یعنی ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ ﴾ اس سے مراد جنت ہے، یعنی رزق کی اقسام میں بہترین قسم، جو تمام فضائل کی جامع اور تمام کمالات سے بڑھ کر ہے۔ آیت کریمہ کا حاصل معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گھر کر گیا اور پھر ایمان صادق بن گیا … اور اس ایمان کے ساتھ انھوں نے نیک کام بھی كيے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان گناہوں کی مغفرت ہے جو ان سے واقع ہوگئے تھے اور ان کے لیے جنت میں بہترین رزق ہوگا اور یہ رزق تمام فضائل و کمالات کا جامع ہوگا۔
[51]﴿ وَالَّذِيۡنَ سَعَوۡا فِيۡۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيۡنَ ﴾ ’’وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو پست کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ‘‘ یعنی جو بزعم خود اللہ تعالیٰ کی آیات کو نیچا دکھانے کے لیے بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں یہ امید رکھتے ہوئے کہ اسلام کے خلاف ان کی سازش کامیاب ہو جائے گی۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی لوگ ‘‘ جو آیات الٰہی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے سے موصوف ہیں ۔‘‘ ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَحِيۡمِ ﴾ ’’جہنمی ہیں ۔‘‘ یعنی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور ہر وقت وہیں رہیں گے۔ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی نہ لمحہ بھر کے لیے یہ دردناک عذاب ان سے ہٹایا جائے گا۔حاصل معنی یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں اور بزعم خود اہل ایمان کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی مخالفت اور ان سے دشمنی کرتے ہیں اور سمجھتے کہ اس طرح وہ اپنا مقصد حاصل کرلیں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں رہیں گے۔