Tafsir As-Saadi
6:74 - 6:83

اور جب کہا ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے! کیا ٹھہراتے ہو تم بتوں کو معبود؟ بلاشبہ میں دیکھتا ہوں تم کو اور تمھاری قوم کو گمراہی ظاہر میں (74) اور اسی طرح دکھاتے تھے ہم ابراہیم کو بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور تاکہ ہو جائے وہ یقین کرنے والوں سے(75) پس جب چھا گئی اس پر رات تو دیکھا اس نے ایک تارا، ابراہیم نے کہا، یہ میرا رب ہے، پس جب غروب ہوگیا وہ تو کہا ، نہیں محبت کرتا میں غروب ہونے والوں سے (76) پس جب دیکھا اس نے چاند چمکتا ہوا تو کہا،یہی میرارب ہے، پھر جب غروب ہو گیاوہ تو کہا، اگر نہ ہدایت دی مجھے میرے رب نے تو ہو جاؤں گا میں گمراہ قوم سے(77) پھر جب (ابراہیم نے) دیکھا سورج جگمگاتاہوا تو کہا، یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ غروب ہو گیا تو کہا اس نے، اے میری قوم! یقینا میں بیزار ہوں ان سے، جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو(78)تحقیق میں نے متوجہ کیا اپنا چہرہ اس کے لیے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو، اللہ ہی کاپرستار ہو کر اور نہیں ہوں میں مشرکین سے(79)اور جھگڑا کیااس سے اس کی قوم نے تو کہا ابراہیم نے، کیا جھگڑتے ہو تم مجھ سے اللہ کے بارے میں حالانکہ اسی نے ہدایت دی مجھے؟ اور نہیں ڈرتا میں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو اس کا مگر یہ کہ چاہے میرا رب کچھ، گھیر لیا ہے میرے رب نے ہر چیز کو( اپنے) علم سے، کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟(80) اور کیونکر ڈروں میں ان سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو جبکہ تم نہیں ڈرتے اس بات سے کہ تم شریک ٹھہراتے ہو اللہ کا ان کو، جن کی نہیں نازل کی اس نے تم پر کوئی دلیل؟ پس کونسا دونوں فریقوں میں سے زیادہ حق دار ہے امن کا (بتاؤ) اگر ہو تم جانتے؟(81)جولوگ ایمان لائےاور نہیں خلط ملط کیا انھوں نے اپنے ایمان کو ساتھ ظلم(شرک)کے، یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے ہی امن ہےاور وہی ہدایت یافتہ ہیں (82)اور یہ ہے ہماری دلیل کہ دی تھی ہم نے یہ ابراہیم کو، مقابلے میں اس کی قوم کے، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہتے ہیں ، یقینا آپ کا رب ہے حکمت والاجاننے والے (83)

[74] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیمu کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے ﴿وَاِذۡ قَالَ اِبۡرٰهِيۡمُ لِاَبِيۡهِ اٰزَرَ اَتَتَّؔخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِهَةً ﴾ ’’جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے؟‘‘ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں ﴿اِنِّيۡۤ اَرٰىكَ وَقَوۡمَكَ فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں ‘‘ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خالق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔
[75]﴿ وَؔكَذٰلِكَ ﴾ ’’اور اسی طرح‘‘ جب ہم نے ابراہیمu کو توحید اور اس کی طرف دعوت کی توفیق عطا کی ﴿ نُرِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’ہم دکھانے لگے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات‘‘ تاکہ وہ چشم بصیرت سے ان قطعی دلائل اور روشن براہین کو ملاحظہ کرلے جن پر زمین اور آسمان کی بادشاہی مشتمل ہے ﴿ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِنِيۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ وہ صاحب ایقان ہو‘‘ کیونکہ تمام مطالب میں دلائل کے قیام کے مطابق ایقان اور علم کامل حاصل ہوتا ہے۔
[76]﴿ فَلَمَّا جَنَّ عَلَيۡهِ الَّيۡلُ ﴾ ’’جب رات نے ان کو ڈھانپ لیا۔‘‘ یعنی جب رات تاریک ہو گئی ﴿ رَاٰ كَوۡؔكَبًا ﴾ ’’اس نے ایک ستارہ دیکھا‘‘ شاید یہ ستارہ زیادہ روشن ستارہ ہو گا کیونکہ اس کے تذکرے کی تخصیص دلالت کرتی ہے کہ اس کی روشنی دوسروں سے زیادہ تھی۔ بنابریں بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے مراد زہرہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ ﴿قَالَ هٰؔذَا رَبِّيۡ ﴾ ’’کہنے لگے یہ میرا رب ہے۔‘‘ یعنی انھوں نے دلیل کی خاطر مدمقابل کے مقام پر اترتے ہوئے کہا کہ ’’یہ میرا رب ہے‘‘ آؤ ہم دیکھیں کہ کیا یہ ربوبیت کا مستحق ہے؟ کیا ہمارے سامنے کوئی ایسی دلیل قائم ہوتی ہے جو اس کے رب ہونے کو ثابت کرتی ہو؟ کیونکہ کسی عقل مند کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ بغیر کسی حجت و برہان کے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا لے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَلَ ﴾ یعنی جب یہ ستارہ غائب ہو گیا ﴿ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’تو کہا، میں غائب ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ یعنی جو غائب ہو کر عبادت کرنے والے سے اوجھل ہو جائے۔ کیونکہ معبود کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس شخص کے مصالح کا انتظام اور اس کے تمام معاملات کی تدبیر کرے جو اس کی عبادت کرتا ہے۔ رہی وہ ہستی جو اکثر اوقات غیر موجود اور غائب ہوتی ہے تو عبادت کی کیوں کر مستحق ہو سکتی ہے؟ کیا ایسی ہستی کو معبود بنانا سب سے بڑی بے وقوفی اور سب سے بڑا باطل نہیں ؟
[77]﴿ فَلَمَّا رَاَ الۡقَمَرَ بَازِغًا ﴾ ’’پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے۔‘‘ یعنی جب انھوں نے چاند کو طلوع ہوتے دیکھا اور یہ مشاہدہ بھی کیا کہ اس کی روشنی ستاروں کی روشنی سے زیادہ ہے اور یہ ان کے مخالف بھی ہے ﴿ قَالَ هٰؔذَا رَبِّيۡ ﴾ ’’کہا، یہ میرا رب ہے‘‘ یعنی دلیل کی خاطر مخالفین کے مقام پر اتر کر کہا ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَىِٕنۡ لَّمۡ يَهۡدِنِيۡ رَبِّيۡ لَاَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡقَوۡمِ الضَّآلِّيۡنَ ﴾ ’’جب وہ غائب ہو گیا، بولے، اگر نہ ہدایت کرے گا مجھ کو میرا رب تو بے شک رہوں گا میں گمراہ لوگوں میں ‘‘ ابراہیمu اپنے رب کی راہنمائی کے بے حد محتاج تھے اور انھیں علم تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان کو راہ راست نہ دکھائے تو کوئی راہ دکھانے والا نہیں ہے۔ اگر اپنی اطاعت پر وہ ان کی اعانت نہ کرے تو کوئی مدد کرنے والا نہیں ہے۔
[78]﴿ فَلَمَّا رَاَ الشَّمۡسَ بَازِغَةً قَالَ هٰؔذَا رَبِّيۡ هٰؔذَاۤ اَكۡبَرُ ﴾ ’’پس جب سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا، یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے‘‘ یہ تمام (ستاروں اور چاند سے) بڑا ہے‘‘ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَلَتۡ ﴾ ’’جب وہ غروب ہوگیا۔‘‘ یعنی جب سورج بھی غروب ہو گیا تو ہدایت متحقق ہو گئی اور ہلاکت مضمحل ہو گئی ﴿ قَالَ يٰقَوۡمِ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’(تو) کہا، اے میری قوم! بے شک میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو‘‘ کیونکہ اس کے بطلان پر سچی اور واضح دلیل قائم ہو چکی ہے۔
[79]﴿ اِنِّيۡ وَجَّهۡتُ وَجۡهِيَ لِلَّذِيۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ حَنِيۡفًا ﴾ ’’میں نے متوجہ کر لیا اپنے چہرے کو اسی کی طرف جس نے بنائے آسمان اور زمین سب سے یکسو ہو کر‘‘ یعنی صرف الٰہ واحد کی طرف یکسوئی کے ساتھ متوجہ ہو کر اور ہر ماسوا سے منہ موڑ کر ﴿ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’اور میں نہیں ہوں شرک کرنے والا‘‘ پس یوں ابراہیمu نے شرک سے براء ت کا اظہار کیا اور توحید کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور توحید پر دلیل قائم کی۔۔۔ یہ ہے ان آیات کریمہ کی تفسیر جو ہم نے بیان کی ہے۔ اور یہی صواب ہے۔ نیز یہ کہ یہ مقام جناب ابراہیم کی طرف سے اپنی قوم کے ساتھ مناظرے کا مقام تھا اور مقصد ان اجرام فلکی وغیرہ کی الوہیت کا بطلان تھا۔ رہا ان لوگوں کا موقف کہ یہ جناب ابراہیم کے ایام طفولیت میں غور و فکر کا مقام تھا تو اس پر کوئی دلیل نہیں ۔
[80]﴿ وَحَآجَّهٗ قَوۡمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوۡٓنِّيۡ فِي اللّٰهِ وَقَدۡ هَدٰؔىنِ ﴾ ’’اور اس سے جھگڑا کیا اس کی قوم نے، ابراہیم نے کہا، کیا تم مجھ سے اللہ کے ایک ہونے میں جھگڑتے ہو اور وہ مجھ کو سمجھا چکا‘‘ یعنی اس شخص کے ساتھ جھگڑنے کا کون سا فائدہ ہے جس کے سامنے ہدایت واضح نہیں ہوئی رہا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نواز دیا ہے اور وہ یقین کے بلند ترین مقام پر فائز ہے تو وہ خود لوگوں کو اس راستے کی طرف بلاتا ہے جس پر وہ خود گامزن ہے۔ ﴿وَلَاۤ اَخَافُ مَا تُشۡرِكُوۡنَ بِهٖۤ ﴾ ’’اور میں نہیں ڈرتا ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو اس کے ساتھ‘‘ کیونکہ یہ جھوٹے خدا مجھے کوئی نقصان نہیں دے سکتے، نہ مجھے کسی نفع سے محروم کر سکتے ہیں ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَؔ رَبِّيۡ شَيۡـًٔـا١ؕ وَسِعَ رَبِّيۡ كُلَّ شَيۡءٍ عِلۡمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’مگر یہ کہ چاہے اللہ، میرا رب۔ احاطہ کر لیا ہے میرے رب کے علم نے سب چیزوں کا، کیا تم نہیں نصیحت پکڑتے؟‘‘ پس تم جان لیتے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود ہے جو کہ عبودیت کا مستحق ہے۔
[81]﴿ وَؔكَيۡفَ اَخَافُ مَاۤ اَشۡرَؔكۡتُمۡ ﴾ ’’اور میں کیوں کر ڈروں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو‘‘ درانحالیکہ یہ معبودان باطل عاجز محض اور کسی قسم کا فائدہ پہنچانے سے محروم ہیں ﴿ وَلَا تَخَافُوۡنَ اَنَّـكُمۡ اَشۡرَؔكۡتُمۡ بِاللّٰهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهٖ عَلَيۡكُمۡ سُلۡؔطٰنًا ﴾ ’’اور تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم اللہ کا ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہو جس پر اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری‘‘ یعنی سوائے خواہش نفس کی پیروی کے اس پر کوئی دلیل نہیں ﴿فَاَيُّ الۡفَرِيۡقَيۡنِ اَحَقُّ بِالۡاَمۡنِ١ۚ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’پس کون سا گروہ امن کا زیادہ مستحق ہے اگر تم جانتے ہو؟‘‘
[82] اللہ تبارک و تعالیٰ فریقین کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَلَمۡ يَلۡبِسُوۡۤا اِيۡمَانَهُمۡ بِظُلۡمٍ ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور نہیں ملایا انھوں نے اپنے ایمان میں ظلم‘‘ یعنی ایمان کو شرک کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ الۡاَمۡنُ وَهُمۡ مُّهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’یہی لوگ ہیں جن کے لیے امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں ‘‘ وہ ہر قسم کے خوف سے مامون ہوں گے، عذاب اور شقاوت وغیرہ میں سے کسی قسم کا خوف نہ ہو گا اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی سے نوازے جائیں گے۔ اگر انھوں نے اپنے ایمان کو کسی قسم کے ظلم سے ملوث نہ کیا ہو گا یعنی انھوں نے شرک کیا ہو گا نہ گناہ۔ تو انھیں امن کامل اور ہدایت تام نصیب ہو گی اور اگر انھوں نے اپنے ایمان کو شرک سے تو پاک رکھا مگر وہ برے اعمال کا ارتکاب کرتے رہے تو انھیں اگرچہ کامل امن اور کامل ہدایت تو حاصل نہ ہو گی تاہم انھیں اصل ہدایت اور امن حاصل ہوں گے۔ آیت کریمہ کا مخالف مفہوم یہ ہے کہ وہ لوگ جنھیں یہ دو امور حاصل نہیں وہ ہدایت اور امن سے محروم رہیں گے بلکہ ان کے نصیب میں بدبختی اور گمراہی کے سوا کچھ نہ ہو گا۔
[83] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قطعی دلائل و براہین بیان کر کے جناب ابراہیم کے حق میں فیصلہ کر دیا تو فرمایا ﴿ وَتِلۡكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَيۡنٰهَاۤ اِبۡرٰهِيۡمَ عَلٰى قَوۡمِهٖ﴾ ’’اور یہ ہے ہماری دلیل، کہ دی تھی ہم نے ابراہیمu کو، اس کی قوم کے مقابلے میں ‘‘ یعنی ان دلائل و براہین کی مدد سے ابراہیمu نے ان کو نیچا دکھایا اور ان پر غالب آئے۔ ﴿ نَرۡفَعُ دَرَجٰؔتٍ مَّنۡ نَّؔشَآءُ ﴾ ’’ہم جس کے چاہتے ہیں ، درجے بلند کرتے ہیں ‘‘ جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم کے دنیا و آخرت میں درجات بلند فرمائے کیونکہ اللہ تعالیٰ علم کے ذریعے سے صاحب علم کو دوسرے بندوں پر فوقیت عطا کرتا ہے.... خاص طور پر وہ عالم جو صاحب عمل بھی ہے اور معلم بھی۔ پس اللہ تعالیٰ اس کے حسب حال اسے لوگوں کا امام بنا دیتا ہے۔ اس کے افعال کو دیکھا جاتا ہے، اس کے آثار کی پیروی کی جاتی ہے، اس کے نور سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اس کے علم کی مدد سے تیرہ و تار تاریکیوں میں رواں دواں رہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يَرۡفَعِ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ١ۙ وَالَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰؔتٍ﴾(المجادلۃ: 58؍11) ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جن کو علم عطا کیا گیا، اللہ ان کے درجات بلند کرتا ہے۔‘‘﴿اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تمھارا رب دانا، علم والا ہے۔‘‘ اس لیے وہ علم و حکمت کو ان کے شایان شان مقام پر رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس مقام کو اور جو کچھ اس کے لیے مناسب ہے خوب جانتا ہے۔
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندے اور خلیل ابراہیمu کا اور اپنے اس احسان کا ذکر کیا کہ اللہ نے ان کو علم، دعوت اور صبر سے نوازا تو اب ذکر فرما رہا ہے کہ صالح اور پاک نسل کے ذریعے سے بھی اللہ نے ان کو بڑی تکریم بخشی۔ اللہ نے مخلوق میں سے منتخب اور چنے ہوئے لوگ حضرت ابراہیمu کی نسل میں سے بنائے اور یہ اتنی بڑی منقبت اور اتنی زیادہ عزت افزائی ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: