بلا شبہ اللہ پھاڑنے والا ہے دانے اور گٹھلی کو، وہ نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالنے والا ہے مردہ کو زندہ سے یہ ہے اللہ، پس کہاں پھیرے جاتے ہو تم؟(95) نمودرا کرنے والا ہے سپیدۂ صبح کااور بنایا اس نے رات کو سکون کا باعث اور سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ، یہ (سب) اندازہ ہے بہت زبردست، جاننے والے کا(96)اور وہی ہے جس نے بنائے تمھارے لیے تارےتاکہ راہ پاؤ تم ان کے ذریعے اندھیروں میں خشکی اور تری کے، تحقیق کھول کر بیان کردی ہیں ہم نے (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں (97)اور وہی ہے جس نے پیدا کیا تمھیں ایک جان سے، پس (تمھارے لیے) ایک قرار گاہ ہے اور ایک جائے امانت، تحقیق مفصل بیان کردی ہیں ہم نے (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں (98)
[95] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کمال، عظمت سلطان، قوت اقتدار، وسعت رحمت، بے پایاں فضل و کرم اور اپنی مخلوق کے ساتھ انتہائی عنایت کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ فَالِـقُ الۡحَبِّ وَالنَّوٰى ﴾ ’’بے شک اللہ پھاڑ نکالتا ہے دانہ اور گٹھلی‘‘ یہاں دانہ ہر قسم کے اناج کے دانوں کو شامل ہے جن کو عام طور پر لوگ کاشت کرتے ہیں اور وہ بھی جن کو کاشت نہیں کیا جاتا ، مثلاً: وہ دانے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے صحراؤں اور بیابانوں میں بکھیر دیے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کھیتیوں اور مختلف انواع و اشکال و منفعت والی نباتات کے بیجوں کو پھاڑتا ہے اور درختوں کی نوع میں کھجور اور دیگر پھلوں کی گٹھلی کو جس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق، انسان، مویشی اور دیگر جانور فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ بیج اور گٹھلی سے جو کچھ اگاتا ہے یہ اسے کھاتے ہیں اور اس سے اپنی خوراک اور ہر قسم کی منفعت حاصل کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اس میں مقرر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل و احسان کی جھلک دکھاتا ہے جس سے عقل ششدر اور بڑے بڑے اصحاب فضیلت حیران رہ جاتے ہیں ۔ وہ ان کو اپنی انوکھی صنعت گری اور اپنی حکمت کا کمال دکھاتا ہے جس کے ذریعے سے وہ اسے پہچانتے ہیں اور اسے ایک مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ حق ہے اور اس کے سوا ہر ہستی کی عبادت باطل ہے۔ ﴿ يُخۡرِجُ الۡحَيَّ مِنَ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے‘‘مثلاً: وہ منی سے حیوان اور انڈے سے چوزہ پیدا کرتا ہے، دانے اور گٹھلی سے اناج اور درخت پیدا کرتا ہے ﴿ وَمُخۡرِجُ الۡمَيِّتِ ﴾ ’’اور مردہ کو نکالتا ہے‘‘ میت سے مراد وہ تمام اشیا ہیں جو نشوونما کی صلاحیت سے محروم ہوں یا ان کے اندر روح نہ ہو ﴿ مِنَ الۡحَيِّ ﴾ ’’زندہ سے‘‘مثلاً: درختوں اور کھیتیوں سے گٹھلیاں اور دانے پیدا کرتا اور پرندے سے انڈہ نکالتا ہے۔ ﴿ ذٰلِكُمُ ﴾ وہ ہستی، جو یہ تمام افعال سرانجام دیتی ہے اور ان اشیاء کی تخلیق اور تدبیر میں منفرد ہے وہ ﴿ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ﴾ ’’اللہ ہے، رب تمھارا‘‘ تمام مخلوق پر فرض ہے کہ وہ اس کی الوہیت و عبودیت کو تسلیم کرے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام جہانوں کی ربوبیت فرمائی اور اپنے فضل و کرم سے ان کو غذا مہیا کی ﴿ فَاَنّٰى تُؤۡفَكُوۡنَ ﴾ ’’پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔‘‘ یعنی تم کہاں پھرے جاتے ہو اور جو اس شان کا مالک ہے اس کی عبادت کو چھوڑ کر ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے پر قادر نہیں ۔
[96] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے غذاؤں کی تخلیق کے مادے کا ذکر فرمایا تو اب اس احسان کا ذکر کیا جو اس نے مساکن مہیا کر کے مخلوق پر کیا ہے اور ہر وہ چیز تخلیق کر کے جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں ، مثلاً: روشنی اور تاریکی اور وہ تمام منافع اور مصالح جو اس پر مترتب ہوتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَالِـقُ الۡاِصۡبَاحِ﴾ ’’پھاڑ نکالنے والا ہے صبح کی روشنی کا‘‘ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اسی طرح اندھیری رات کے اندھیروں کو جو تمام روئے زمین کو ڈھانپ لیتے ہیں ، صبح کے اجالے کے ذریعے سے پھاڑتا ہے جو دھیرے دھیرے تاریکی کے پردے کو چاک کیے چلا جاتا ہے حتیٰ کہ تمام تاریکی ختم ہو جاتی ہے اور مخلوق اپنے مصالح، معاش اور اپنے دین و دنیا کے فوائد کے حصول میں مصروف ہو جاتی ہے۔ چونکہ مخلوق سکون، آرام اور ٹھہرنے کی محتاج ہوتی ہے اور یہ امور دن اور رات کے وجود کے بغیر مکمل نہیں ہوتے ﴿وَجَعَلَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے بنایا ﴿الَّيۡلَ سَكَنًا ﴾ ’’رات کو آرام کے لیے‘‘ جس میں آدمی اپنے گھروں اور خواب گاہوں میں ، جانور اور مویشی اپنے ٹھکانوں میں اور پرندے اپنے گھونسلوں میں آرام کرتے ہیں اور سب راحت اور آرام میں سے اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ اسے روشنی کے ذریعے سے زائل کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ ﴿ وَّالشَّمۡسَ وَالۡقَمَرَ حُسۡبَانًا ﴾ ’’اور سورج اور چاند حساب کے لیے‘‘ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند بنائے جن کے ذریعے سے زمان و اوقات کی پہچان کی جاتی ہے، ان کے ذریعے سے عبادات کے اوقات منضبط ہوتے ہیں ، معاملات کی مدت مقرر ہوتی ہے اور سورج اور چاند کے وجود ہی سے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کتنا وقت گزر گیا ہے۔ اگر سورج اور چاند کا وجود اور ان کا باری باری ایک دوسرے کے پیچھے آنا نہ ہوتا تو عامتہ الناس ان تمام امور کو معلوم کر کے علم میں اشتراک نہ کر سکتے بلکہ چند افراد کے سوا کوئی بھی ان امور کی معرفت حاصل نہ کر پاتا اور وہ بھی نہایت کوشش اور اجتہاد کے بعد اور اس طرح تمام ضروری مصالح فوت ہو جاتے۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ یہ مذکورہ اندازہ ﴿ تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ﴾ ’’اندازہ ہے غالب جاننے والے کا‘‘ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا غلبہ ہے کہ یہ بڑی بڑی مخلوق اس کی تدبیر کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ اور اس کے حکم سے مطیع اور مسخر ہو کر اپنے راستے پر جاری و ساری ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو حدود مقرر کر دی ہیں وہ اس سے سرمو انحراف نہیں کر سکتی، آگے ہو سکتی ہے نہ پیچھے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمِ ﴾ وہی ہستی ہے جس کے علم نے تمام ظاہر و باطن اور اوائل و اواخر کا احاطہ کر رکھا ہے اور اس کے علم محیط کی عقلی دلیل یہ ہے کہ اس نے بڑی بڑی مخلوقات کو ایک اندازے پر ایک انوکھے نظام کے ذریعے سے مسخر کر رکھا ہے کہ جس کے حسن و کمال اور مصالح اور حکمتوں کے ساتھ اس کی مطابقت کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
[97]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوۡمَ لِتَهۡتَدُوۡا بِهَا فِيۡ ظُلُمٰتِ الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ ﴾ ’’وہی ہے جس نے بنائے تمھارے لیے ستارے تاکہ ان کے ذریعے سے تم راستے معلوم کرو، خشکی اور سمندر کے اندھیروں میں ‘‘ جب راستے تم پر مشتبہ ہو جاتے ہیں اور مسافر کا سفر تحیر کا شکار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو راستے دکھانے کے لیے ستاروں کو تخلیق فرمایا۔ لوگ اپنے مصالح، سفر تجارت اور دیگر سفروں میں ان راستوں کی پہچان کے محتاج ہوتے ہیں ۔ کچھ ستارے ایسے ہیں جو ہمیشہ دکھائی دیتے ہیں اور اپنی جگہ نہیں چھوڑتے۔ کچھ ستارے ہمیشہ رواں دواں رہتے ہیں ۔ ستاروں کی معرفت رکھنے والے ستاروں کی رفتار کو پہچانتے ہیں ، بنابریں وہ سمتیں اور اوقات معلوم کر سکتے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ ستاروں کی رفتار اور ان کے محل و مقام کا علم حاصل کرنا مشروع ہے جسے ستاروں کی رفتار کے علم سے موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے بغیر راستوں کے علم سے بہرہ ور ہونا ممکن نہیں ۔ ﴿ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم نے آیات کھول کھول کر بیان کردیں ۔‘‘ یعنی ہم نے نشانیوں کو بیان کر کے واضح کر دیا ہے اور ہر جنس اور نوع کو ایک دوسری سے ممیز کر دیا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات صاف ظاہر اور عیاں ہو گئیں ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’جاننے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ہم نے ان آیات کو ان لوگوں کے سامنے واضح کر دیا جو علم اور معرفت سے بہرہ ور ہیں کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف خطاب کا رخ ہے اور جن سے جواب مطلوب ہے۔ بخلاف جاہل اور اہل جفا کے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس علم سے منہ موڑتے ہیں جسے لے کر انبیاء و مرسلین مبعوث ہوئے۔ کیونکہ ان کے سامنے بیان کرنا ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اور ان کے سامنے اس کی تفصیل بیان کرنے سے ان کا التباس رفع نہیں ہو سکتا اور اس کی توضیح سے ان کا اشکال دور نہیں ہوتا۔
[98]﴿ وَهُوَ الَّذِيۡۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَةٍ ﴾ ’’اور وہی ذات ہے جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا‘‘ اور وہ آدم ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب آدم سے تمام نسل انسانی کو پیدا کیا جس نے روئے زمین کو بھر دیا ہے اور یہ اضافہ بڑھتا جا رہا ہے۔ نسل انسانی کے افراد کی خلقت، ان کے اخلاق اور اوصاف میں اس قدر تفاوت ہے کہ ان کو ضبط میں لانا اور ان کے تمام اوصاف کا ادراک ممکن ہی نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کا (مُسْتَقَر) یعنی ان کی غایت و انتہا مقرر فرما دی ہے جس کی طرف ان کو لے جایا جا رہا ہے اور وہ ہے آخرت کی جائے قرار، اس سے آگے کوئی غایت و منتہا نہیں ۔ دنیا وہ گھر ہے جہاں رہنے کے لیے مخلوق کو پیدا کیا گیا اور ان کو اس لیے وجود میں لایا گیا تاکہ وہ ان اسباب کے لیے بھاگ دوڑ کریں جو زمین میں پیدا ہوتے ہیں اور زمین ان سے آباد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے آباء کی صلبوں میں اور ماؤں کے رحموں میں امانت رکھ دیا، وہاں سے یہ امانت اس دنیا میں آجاتی ہے، پھر برزخ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ ہر جگہ اس کی حیثیت امانت کی ہوتی ہے جس کو ٹھہراؤ اور ثبات نہیں بلکہ منتقل ہوتی رہتی ہے، یہاں تک کہ دار آخرت میں اسے پہنچا دیا جائے جو اس کا مستقر و مقام ہے۔ رہا دنیا کا یہ گھر تو یہ صرف گزر گاہ ہے ﴿ قَدۡ فَصَّلۡنَا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’تحقیق ہم نے کھول کر بیان کر دیں نشانیاں ، ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں ‘‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی آیات کو سمجھیں اور اس کے دلائل و براہین کا فہم حاصل کریں ۔