اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کا شریک جنوں کو حالانکہ اس نے تو انھیں پیدا کیا ہے اور گھڑ لیے انھوں نے اس(اللہ) کے بیٹے اور بیٹیاں بغیر علم کے ، پاک ہے وہ اور بلند ان باتوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں (100) وہی موجد ہے آسمانوں اور زمین کا ، کس طرح ہوسکتی ہے اس کی اولاد جبکہ نہیں ہے کوئی اس کی بیوی؟ اور اسی نے پیدا کیا ہر چیز کواور وہی ہر چیز کو جاننے والا ہے (101)یہ اللہ رب ہے تمھارا، نہیں کوئی معبود سوائے اس کے ،خالق ہے ہر چیز کا،پس تم اسی کی عبادت کرواور وہ اوپر ہر چیز کے نگران ہے(102) نہیں پاسکتیں اس کو آنکھیں اور وہ پالیتا ہے آنکھوں کواور وہ باریک بین ہے خبردار(103) تحقیق آچکیں تمھارے پاس دلیلیں تمھارے رب کی طر ف سے پس جس نے بصیرت سے کام لیا تو اپنے ہی لیے اور جو اندھا رہا تو اسی پر ہے (وبال)اور نہیں ہوں میں تم پر محافظ(104)
[100] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں پر اس کے احسان اور واضح نشانیوں کے ذریعے سے ان کو اپنی معرفت عطا کرنے کے باوجود مشرکین قریش وغیرہم جنوں اور فرشتوں کو اس کے شریک ٹھہراتے ہیں ، ان کو پکارتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور ان میں ربوبیت اور الوہیت کی کوئی بھی صفت نہیں ۔ وہ ان کو اس ہستی کا شریک ٹھہراتے ہیں جو خلق و امر کی مالک ہے اور وہ ہر قسم کی نعمت عطا کرنے والی اور تمام دکھوں اور تکالیف کو دور کرنے والی ہے۔ اور اسی طرح مشرکین نے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ پر بہتان گھڑتے اور جھوٹ باندھتے ہوئے بغیر کسی علم کے اللہ تعالیٰ کے بیٹے بیٹیاں بنا ڈالے۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو علم کے بغیر کوئی بات اللہ تعالیٰ کے ذمے لگاتا ہے اور اس پر ایسے بدترین نقص کا بہتان باندھتا ہے جس سے اس کی تنزیہ واجب ہے، بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کی افترا پردازیوں سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’وہ ان باتوں سے جو اس کی نسبت بیان کرتے ہیں پاک ہے۔‘‘ پس اللہ تعالیٰ ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص، آفت اور عیب سے منزہ ہے۔
[101]﴿ بَدِيۡعُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’نئی طرح پر بنانے والا آسمانوں اور زمین کا‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق کرنے والا بغیر کسی سابقہ نمونے کے، ان کو مہارت کے ساتھ بہترین شکل میں ، بہترین نظام اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے والا ہے۔ بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل اس جیسی کوئی چیز وجود میں لانے سے قاصر ہے۔ اسی طرح زمین اور آسمان کی تخلیق میں کوئی اس کا شریک بھی نہیں ۔ ﴿اَنّٰى يَكُوۡنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّلَمۡ تَكُنۡ لَّهٗ صَاحِبَةٌ ﴾ ’’کیوں کر ہو سکتی ہے اس کی اولاد جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے حالانکہ وہ بے نیاز، سردار اور الٰہ حق ہے جس کی کوئی ساتھی، یعنی بیوی نہیں ہے وہ اپنی تمام مخلوق سے بے نیاز ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے مجبور ہے اور اولاد لازمی طورپر اپنے باپ کی جنس سے ہوتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اس کی مخلوقات میں کوئی چیز ایسی نہیں جو کسی بھی پہلو سے اس کی مشابہ ہو۔ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امر کا عمومی ذکر فرمایا ہے کہ اس نے تمام اشیا کو پیدا کیا ہے، اس لیے اس نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ اس کا علم ان تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ﴿ وَهُوَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ ہر چیز کو جانتا ہے‘‘ تخلیق کے بعد علم کا ذکر کرنا اس دلیل عقلی کی طرف اشارہ ہے کہ اسے اپنی مخلوق کا علم بھی ہے اور مخلوق میں اس کی پیدا کردہ تمام چیزیں اور وہ پورا نظام ہے جس پر کائنات قائم ہے۔ اس لیے کہ اس میں خالق کے علم کی وسعت اور اس کی کامل حکمت پر دلیل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اَلَا يَعۡلَمُ مَنۡ خَلَقَ١ؕ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ﴾(الملک: 67؍14) ’’بھلا جس نے پیدا کیا وہ نہیں جانتا؟ وہ تو پوشیدہ اور باریک امور سے آگاہ اور ان کی خبر رکھنے والا ہے۔‘‘اور فرمایا:﴿وَهُوَ الۡخَلّٰقُ الۡعَلِيۡمُ﴾(یس: 36؍81) ’’وہ بڑا پیدا کرنے والا اور علم رکھنے والا ہے۔‘‘
[102]﴿ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمۡ ﴾ ’’یہی اللہ تمھارا رب ہے۔‘‘ یعنی یہ معبود، جو انتہائی تذلل اور انتہائی محبت کا مستحق ہے وہی تمھارا رب ہے جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تمام مخلوق کی ربوبیت کا انتظام فرمایا اور ان سے مختلف اصناف کی تکالیف کو دور ہٹایا۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَيۡءٍ فَاعۡبُدُوۡهُ ﴾ ’’اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ ہر چیز کا خالق ہے، پس تم اسی کی عبادت کرو‘‘ یعنی جب یہ بات ثابت ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں تو اپنی ہر قسم کی عبادت کا رخ اسی کی طرف پھیر دو اپنی تمام عبادات کو اسی کے لیے خالص کرو۔ اور ان عبادات میں صرف اسی کی رضا کو مقصد بناؤ۔ تخلیق کائنات کا مقصد بھی یہی ہے اور اسی کی خاطر ان کو پیدا کیا گیا ہے ﴿ وَمَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَالۡاِنۡسَ اِلَّا لِيَعۡبُدُوۡنِ﴾(الذاریات: 51؍56) ’’میں نے جن و انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔‘‘ ﴿وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ وَّكِيۡلٌ ﴾ ’’اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے‘‘ یعنی تمام اشیا تخلیق و تدبیر اور تصرف کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی وکالت اور بندوبست کے تحت ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ وہ امر جو کسی کے تصرف میں دیا گیا ہے، اس کی استقامت، اس کا اتمام اور اس کا کمال انتظام وکیل کے حسب حال ہوتا ہے۔ تمام اشیاء پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی وکالت، مخلوق کی وکالت کی مانند نہیں ہے کیونکہ مخلوق کی وکالت تو درحقیقت نیابت ہے اور اس میں وکیل اپنے موکل کے تابع ہوتا ہے۔ جہاں باری تعالیٰ کی ذات ہے تو اس کی وکالت اپنی طرف سے اپنے لیے ہوتی ہے جو کمال علم، حسن تدبیر اور عدل و احسان کو متضمن ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر استدراک (کسی کوتاہی کا ازالہ) کرے نہ اسے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی خلل نظر آئے گا اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی نقص اور عیب۔ اللہ تعالیٰ کی وکالت کا ایک حصہ یہ ہے کہ اس نے اپنے دین کی توضیح و تبیین کا کام اپنے ذمہ لیا اور دین کو خراب کرنے اور بدلنے والے تمام امور سے اس کی حفاظت کی اور وہ اہل ایمان کی حفاظت اور ایسے امور سے ان کو بچانے کا ضامن بنا جو ان کے دین و ایمان کو خراب کرتے ہیں ۔
[103]﴿ لَا تُدۡرِكُهُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’اسے آنکھیں نہیں پاسکتیں ‘‘ اس کی عظمت اور اس کے جلال و کمال کی بنا پر نگاہیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں ، یعنی نگاہیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں ۔ اگرچہ آخرت میں اس کو دیکھ سکیں گی اور اس کے چہرۂ مکرم کے نظارے سے خوش ہوں گی۔ پس ادراک کی نفی سے رؤیت کی نفی لازم نہیں آتی بلکہ مفہوم مخالف کی بنا پر رؤیت کا اثبات ہوتا ہے کیونکہ ادراک، جو کہ رؤیت کا ایک خاص وصف ہے، کی نفی رؤیت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے۔ اس لیے کہ اگر اس آیت کریمہ سے رؤیت باری تعالیٰ کی نفی مراد ہوتی تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ ہوتا (لَا تَرَاہُ الْاَبْصَارُ) یا اس قسم کا کوئی اور فقرہ۔ پس معلوم ہوا کہ آیت کریمہ میں معطلہ کے مذہب پر کوئی دلیل نہیں جو آخرت میں رب تعالیٰ کے دیدار کا انکار کرتے ہیں ۔ بلکہ اس سے ان کے مذہب کے نقیض (برعکس) کا اثبات ہوتا ہے۔ ﴿ وَهُوَ يُدۡرِكُ الۡاَبۡصَارَ ﴾ ’’اور وہ آنکھوں کو پاسکتا ہے‘‘ یعنی وہی ہے جس کے علم نے ظاہر و باطن کا احاطہ کر رکھا ہے، اس کی سماعت تمام جہری اور خفیہ آوازوں کو سنتی ہے اور بصارت تمام چھوٹی بڑی مرئیات کو دیکھتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُوَ اللَّطِيۡفُ الۡخَبِيۡرُ ﴾ ’’اور وہ نہایت باریک بین، خبردار ہے‘‘ یعنی جس کا علم اور خبر بہت باریک اور دقیق ہے حتیٰ کہ اسرار نہاں ، چھپی ہوئی چیزوں اور باطن کا بھی ادراک کر لیتا ہے۔ یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ وہ اپنے بندے کی اس کے دینی مصالح کی طرف راہنمائی کرتا ہے اور ان مصالح کو اس کے پاس اس طریقے سے پہنچاتا ہے کہ بندے کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا اور اسے ان مصالح کے حصول کے لیے تگ و دو نہیں کرنی پڑتی۔ وہ اپنے بندے کو ابدی سعادت اور دائمی فلاح کی منزل پر اس طرح پہنچاتا ہے جس کا وہ اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ وہ بندے کے لیے ایسے امور مقدر کر دیتا ہے جنھیں بندہ ناپسند کرتا ہے اور ان کی وجہ سے دکھ اٹھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ان کو دور کرنے کی دعا کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا دین اس کے لیے زیادہ درست ہے اور اس کا کمال انھی امور پر موقوف ہے۔ پاک ہے وہ لطف و کرم والی باریک بین ذات جو مومنوں کے ساتھ بہت رحیم ہے۔
[104] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات اور واضح دلائل کو بیان کر دیا جو تمام مطالب و مقاصد میں حق پر دلالت کرتی ہیں تو ان کو آگاہ کر کے خبردار کر دیا کہ ان کی ہدایت اور گمراہی خود ان کی ذات کے لیے ہے۔ پس فرمایا: ﴿ قَدۡ جَآءَكُمۡ بَصَآىِٕرُ مِنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’تحقیق آچکیں تمھارے پاس نشانیاں تمھارے رب کی طرف سے‘‘ یعنی تمھارے پاس ایسی آیات آ گئی ہیں جو حق کو واضح کرتی ہیں وہ قلب کے لیے حق کو ایسے واضح اور نمایاں کر دیتی ہیں جیسے آنکھوں کے سامنے سورج۔ کیونکہ یہ آیات فصاحت لفظ، بیان و وضوح، معانی جلیلہ کے ساتھ مطابقت اور حقائق جمیلہ پر مشتمل ہیں ۔ اس لیے کہ یہ اس رب کی طرف سے صادر ہوئی ہیں جو اپنی مختلف ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے اپنی مخلوق کی تربیت کرتا ہے اور ان میں جلیل ترین نعمت تبیین آیات اور توضیح مشکلات ہے۔ ﴿ فَمَنۡ اَبۡصَرَ ﴾ ’’پس جس نے دیکھ لیا‘‘ جو کوئی ان آیات کے ذریعے سے عبرت کے مواقع دیکھ لیتا ہے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرتا ہے ﴿فَلِنَفۡسِهٖ ﴾ ’’تو یہ خود اس کی ذات کے لیے ہے‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بے نیاز اور قابل تعریف ہے ﴿ وَمَنۡ عَمِيَ ﴾ ’’اور جو اندھا رہا‘‘ یعنی وہ دیکھتا تو ہے مگر بصیرت کے ساتھ غور و فکر نہیں کرتا۔ اسے زجر و توبیخ کی جاتی ہے مگر وہ اسے قبول نہیں کرتا، اس کے سامنے حق واضح کیا جاتا ہے مگر وہ اس کی اطاعت کرتا ہے نہ اس کے سامنے جھکتا ہے، پس اس کے اندھے پن کا نقصان اسی کے لیے ہے۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا ﴾ یعنی اے رسولﷺ کہہ دیجیے ’’اور نہیں ہوں میں ‘‘ ﴿عَلَيۡكُمۡ بِحَفِيۡظٍ ﴾ ’’تم پر نگہبان‘‘ کہ میں تمھارے اعمال پر نظر رکھوں اور دائمی طور پر ان کی نگرانی کروں میری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے اور میں نے یہ ذمہ داری ادا کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھ پر نازل کیا تھا میں نے پہنچا دیا اور یہی میرا فرض ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ میرے فرائض میں شامل نہیں ۔( مؤلف رحمۃ اللہ علیہ نے آیت نمبر۱۰۴ کے بعد آیت نمبر ۱۰۵ تا ۱۰۷ کی تفسیر نہیں کی۔از محقق)