Tafsir As-Saadi
28:71 - 28:73

کہہ دیجیے، بتلاؤ تو سہی! اگر کر دے اللہ تم پر رات ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک تو کون الٰہ ہے سوائے اللہ کے جو لے آئے تمھارے پاس روشنی؟ کیا پس نہیں سنتے تم؟ (71) کہہ دیجیے، بتلاؤ تو سہی! اگر کر دے اللہ تم پر دن ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک تو کون الٰہ ہے سوائے اللہ کے جو لے آئے تمھارے پاس رات کو تم آرام کر لو اس میں ؟ کیا پس نہیں دیکھتے تم؟ (72) اور اپنی رحمت ہی سے اس (اللہ) نے بنایا تمھارے لیے رات اوردن کو تاکہ تم آرام کرو اس (رات) میں اور تاکہ تلاش کرو تم (دن میں ) فضل اس کا اور تاکہ تم شکر کرو (73)

[73-71]یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر احسان ہے۔ وہ ان کو اس احسان پر شکر ادا کرنے، اس کی عبودیت اور حق کو قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ بے شک اس نے اپنی بے پایاں رحمت کی وجہ سے ان کے لیے دن بنایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں اوردن کی روشنی میں اپنے رزق اور معیشت کی طلب میں زمین میں پھیل جائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رات پیدا کی تاکہ وہ اس میں سکون پائیں ان کے بدن، دن بھر کی تگ و دو کے بعد آرام کر کے تھکاوٹ کو دور کریں ۔ یہ بندوں پر اس کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے… کیا مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی ہے جو ایسا کرنے پر قادر ہو؟﴿ اِنۡ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمُ الَّيۡلَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِضِيَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’ اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ رات ہی طاری کردےتو اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمھیں روشنی لادیتا کیا تم سنتے نہیں ؟‘‘ اللہ کی نصیحتوں اور آیتوں کو سمجھنے اور قبول کرنے کی غرض سے؟ اور ﴿عَلَيۡكُمُ النَّهَارَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِلَيۡلٍ تَسۡكُنُوۡنَ فِيۡهِ١ؕ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’ اگر اللہ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ دن ہی طاری کر دے تو اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمھارے لیے رات لے آتا جس میں تم آرام کرسکتے کیا تم دیکھتے نہیں ‘‘ عبرت کے مواقع اور آیات الٰہی کے جگہیں تاکہ تمھاری بصیرت روشن رہے اور تم صراط مستقیم پر گامزن رہو۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے رات کی آیت مبارکہ میں فرمایا: ﴿ اَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ﴾ ’’کیا تم سنتے نہیں ؟‘‘ اور دن کی آیت مبارکہ میں فرمایا:﴿ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا تم دیکھتے نہیں ؟‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کے وقت سماعت کا حاسہ، بصارت کے حاسہ کی نسبت زیادہ قوی ہوتا ہے اور دن کے وقت بصارت کا حاسہ زیادہ قوی ہوتا ہے۔ ان آیات کریمہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غوروفکر کرے، ان میں بصیرت حاصل کرے اور ان کے وجود اور عدم وجود کے مابین موازنہ کرے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وجود اور ان کے عدم وجود کے مابین موازنہ کرے گا تو اس کی عقل کو اللہ تعالیٰ کے احسان و عنایت پر تنبہ حاصل ہو گا۔ اس کے برعکس جو کوئی عادت کی پیروی کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ ایسا معاملہ ہے جو ہمیشہ سے اسی طرح چلا آ رہا ہے اور اسی طرح چلتا رہے گا اور اس کا دل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کی حمدوثنا سے خالی اور اس حقیقت کی رؤیت سے بے بہرہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے… تو وہ ایسا شخص ہے جس کے دل میں کبھی شکر اور ذکر کا خیال پیدا نہیں ہوتا۔