Tafsir As-Saadi
6:118 - 6:119

پس کھاؤ تم! اس (جانور) میں سے کہ ذکر کیا گیا ہے نام اللہ کا اس پر، اگر ہو تم اس کی آیتوں پر ایمان لانے والے(118) اور کیا ہے تمھیں کہ نہ کھاؤ تم اس(جانور) میں سے کہ ذکر کیا گیا ہے نام اللہ کا اس پر؟ جبکہ واضح کر دیا ہے اس نے تمھارے لیے جو حرام کیا ہے اس نے تم پر مگر وہ کہ مجبور کردیے جاؤ تم اس(کے کھانے) پراور بلاشبہ اکثر لوگ بہکاتے ہیں(لوگوں کو) اپنی خواہشات سے،بغیر علم کے، بے شک آپ کا رب وہ خوب جانتا ہے حد سے گزرنے والوں کو(119)

[119,118] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ایمان کے تقاضے پورے کرنے کا حکم دیتا ہے نیز وہ یہ بھی حکم دیتا ہے کہ اگر وہ مومن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو وہ ان حلال مویشیوں کا گوشت کھائیں جن پر ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو اور ان جانوروں کی حلت کا اعتقاد بھی رکھیں اور اس طرح نہ کریں جس طرح اہل جاہلیت کیا کرتے تھے۔ انھوں نے شیاطین کے گمراہ کرنے کے باعث اپنی طرف سے گھڑ کے بہت سی حلال چیزوں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ مومن کی علامت یہ ہے کہ وہ اس مذموم عادت میں ، جو اللہ تعالیٰ کی شریعت میں تغیر و تبدل کو متضمن ہے، اہل جاہلیت کی مخالفت کریں نیز یہ کہ کون سی چیز ہے جو انھیں اس جانور کو کھانے سے روکتی ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مفصل طور پر بیان کر کے واضح کر دیا ہے کہ کون سی چیز ان پر حرام ٹھہرائی گئی ہے؟ تب کوئی اشکال اور کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ حرام میں پڑنے کے خوف کی وجہ سے بعض حلال چیزیں بھی کھانی چھوڑ دی جائیں ۔ اور آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ تمام اشیا میں اصل اباحت ہے۔ اگر شریعت کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیتی تو وہ اپنی اباحت پر باقی ہے۔ پس جس چیز کے بارے میں اللہ تعالیٰ خاموش ہے وہ حلال ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو حرام ٹھہرایا ہے اس کی تفصیل بیان کر دی ہے اور جس کے بارے میں کوئی تفصیل بیان نہیں کی وہ حرام نہیں ہے۔ بایں ہمہ وہ حرام چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے، ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے سخت بھوک اور اضطراری حالت میں مباح کر دیا ہے ﴿حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡمَيۡتَةُ وَالدَّمُ وَلَحۡمُ الۡخِنۡزِيۡرِ ﴾ ’’تم پر مرا ہوا جانور، بہتا خون اور خنزیر کا گوشت حرام کردیا گیا ہے۔‘‘ اس کے بعد فرمایا ﴿فَمَنِ اضۡطُرَّ فِيۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾(المائدہ: 5؍3) ’’اگر کوئی بھوک کی شدت میں مجبور ہو جائے اور وہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو اللہ بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘پھر اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگوں سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَاِنَّ كَثِيۡرًا لَّيُضِلُّوۡنَ بِاَهۡوَآىِٕهِمۡ﴾ ’’اور بہت لوگ بہکاتے ہیں اپنی خواہشات سے‘‘ یعنی مجرد خواہشات نفس کے ذریعے سے ﴿ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ بغیر کسی علم اور بغیر کسی دلیل کے۔۔۔ پس بندے کو اس قسم کے لوگوں سے بچنا چاہیے اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کیے ہیں ۔ ان کی علامت یہ ہے کہ ان کی دعوت کسی دلیل اور برہان پر مبنی نہیں ہے اور نہ ان کے پاس کوئی شرعی حجت ہے۔ پس ان کی فاسد خواہشات اور گھٹیا آراء کے مطابق ان کو شبہ لاحق ہوتا ہے۔ پس یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے بندوں پر ظلم و تعدی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اس کے برعکس راہ راست کی طرف راہنمائی کرنے والے ہدایت یافتہ لوگ حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنی دعوت کو دلائل عقلیہ و نقلیہ کی تائید فراہم کرتے ہیں اور وہ اپنی دعوت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے تقرب کے سوا اور کوئی مقصد پیش نظر نہیں رکھتے۔