اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کے لیے اس میں سے جو پیدا کی اس نے کھیتی اور چوپائے، ایک حصہ، پس کہا یہ اللہ کے لیے ہے ان کے خیال کے مطابق اور یہ (حصہ) ہے ہمارے دیوتاؤں کے لیے تو جو (حصہ) ہے ان کے دیوتاؤں کا، پس وہ نہیں پہنچتا اللہ کی طرف اور جو حصہ ہے اللہ کا تو وہ پہنچ جاتا ہے طرف ان کے دیوتاؤں کی، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (136)اور اسی طرح مزین کر دیا بہت سے مشرکوں کے لیے قتل کرنا اپنی اولاد کا ان کے دیوتاؤں نےتاکہ وہ ہلاک کردیں انھیں اور تاکہ خلط ملط کر دیں ان پر ان کا دین اور اگر چاہتا اللہ تو نہ کرتے وہ یہ، پس چھوڑ دیجیے انھیں اور جو وہ افترا باندھتے ہیں(137) اور کہا انھوں نے، یہ چوپائے اور کھیتی ممنوع ہے، نہیں کھا سکتا اسے مگر وہی جسے ہم چاہیں،(یہ کہا انھوں نے) اپنے خیال کے مطابق اور بعض چوپائے ہیں کہ حرام کردی گئیں ان کی پیٹھیں اوربعض چوپائے ہیں کہ نہیں ذکر کرتے وہ اللہ کا نام ان پر، افترا باندھتے ہوئے اس( اللہ) پر، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ افترا باندھتے (138)اور کہا انھوں نے، جو (بچہ) ہے پیٹوں میں ان چوپایوں کے، وہ خالص ہے صرف ہمارے مردوں کے لیے اور حرام ہے ہماری بیویوں پر اور اگر ہو وہ مردہ تو وہ سب (مردو عورت) اس میں شریک ہیں، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں ان کے (اس) بیان کی، یقینا وہ حکمت والا جاننے والا ہے(139) تحقیق خسارے میں رہے وہ لوگ، جنھوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو بیوقوفی سے، بغیر علم کےاور حرام ٹھہرایا انھوں نے جو رزق دیا انھیں اللہ نے، افترا باندھتے ہوئے اللہ پر، تحقیق گمراہ ہوگئے وہ اور نہ ہوئے وہ ہدایت یافتہ(140)
[136] اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، چنانچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، حق میں نقص کا باعث نہیں ۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَالۡاَنۡعَامِ نَصِيۡبًا ﴾ ’’اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مویشی اور کھیتی پیدا کی ہے وہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی مقرر کرتے ہیں اور ایک حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے مقرر کرتے ہیں ۔ درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کر کے بندوں کے لیے رزق فراہم کیا ہے۔ انھوں نے دو محظور امور بلکہ تین کو یکجا کر دیا جن سے بچنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا۔ (۱) اللہ تعالیٰ پر ان کا احسان دھرنا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا حصہ مقرر کیا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر نوازش ہے۔ (ب) اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو مویشیوں اور کھیتیوں کی پیداوار میں شریک کرنا حالانکہ وہ ان میں سے کسی چیز کو بھی وجود میں نہیں لائے۔ (ج) اور ظلم و جور پر مبنی ان کا یہ فیصلہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حصے کی کوئی پروا نہیں کرتے، اگرچہ یہ حصہ اپنے شریکوں کے حصے کے ساتھ ملا دیں اور اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے حصے کو درخور اعتناء سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصے کے ساتھ نہیں ملاتے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مشرکین کو کھیتیوں اور پھلوں کی پیداوار اور مویشی حاصل ہوتے، جن کو اللہ تعالیٰ ان کے لیے وجود میں لایا تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے (۱) ایک حصے کے بارے میں بزعم خود کہتے ’’یہ اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے۔‘‘حالانکہ اللہ تعالیٰ اسی چیز کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے ہو۔ اللہ تعالیٰ شرک کرنے والے کے عمل کو قبول نہیں فرماتا۔ (۲) دوسرا حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے معبودوں اور بتوں کی نذر کرتے تھے، اگر کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حصے میں سے نکل کر اس حصے میں خلط ملط ہو جاتی جو غیر اللہ کے لیے مقرر کیا تھا تو اس کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصہ کی طرف نہیں لوٹاتے تھے اور کہتے تھے ’’اللہ اس سے بے نیاز ہے‘‘ اور اگر کوئی چیز، جو انھوں نے اپنے معبودوں اور بتوں کے لیے مقرر کی تھی اس حصے کے ساتھ خلط ملط ہو جاتی جو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا تھا تو اسے بتوں کے لیے مقرر حصے کی طرف لوٹا دیتے اور کہتے ’’یہ بت تو محتاج ہیں اس لیے ان کے حصے کو ان کی طرف لوٹانا ضروری ہے‘‘۔۔۔۔ کیا اس سے بڑھ کر ظلم پر مبنی، بدترین فیصلہ کوئی اور ہو سکتا ہے؟ کیونکہ انھوں نے جو حصہ مخلوق کے لیے مقرر کیا ہے اس کی اللہ تعالیٰ کے حق سے زیادہ خیر خواہی اور حفاظت کرتے ہیں ۔اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اس معنی کا احتمال بھی ہو سکتا ہے جو رسول اللہﷺ کی ایک صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میں تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہوں ۔ جو کوئی میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے میں اسے چھوڑ کر اس کے شرک کے حوالے کر دیتا ہوں ۔۔۔۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب تحریم الریاء، حدیث: 3985) آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین نے اپنے معبودوں اور بتوں کے تقرب کے حصول کے لیے جو حصے مقرر کر رکھے ہیں وہ خالص غیر اللہ کے لیے ہیں ۔ ان میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں ۔ اور ان کے زعم باطل کے مطابق انھوں نے جو حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا ہے وہ ان کے شرک کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں پہنچتا۔ بلکہ یہ بھی ان کے معبودوں اور بتوں کا حصہ ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ وہ مخلوق میں سے اس شخص کا عمل کبھی قبول نہیں کرتا جو اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔
[137] مشرکین کی حماقت اور گمراہی یہ ہے کہ اکثر مشرکین کے سامنے ان کے خداؤں یعنی ان کے سرداروں اور شیاطین نے ان کے اعمال، یعنی قتل اولاد کو مزین کر دیا ہے۔ یہاں قتل اولاد سے مراد ان لوگوں کا اپنے بچوں کو قتل کرنا ہے جو بھوک اور فقر کے ڈر سے اپنے بچوں کو اور عار کے ڈر سے اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ یہ سب شیاطین کی فریب کاری ہے جو انھیں ہلاکت کی وادیوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا دین ان پر مشتبہ ہو جائے اس لیے وہ انتہائی برے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ ان کے یہ شرکاء ان کے ان اعمال کو آراستہ کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ یہ ان کے ہاں نیکی کے اعمال اور اچھے خصائل بن جاتے ہیں ۔ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان اعمال سے روکنا اور ان کے اور ان افعال قبیحہ کے درمیان حائل ہونا چاہتا اور اگر وہ چاہتا کہ ماں باپ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں تو وہ کبھی قتل نہ کرتے۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو مہلت دینے کے لیے ان کے اور ان کے اعمال کے درمیان سے ہٹ جائے اور ان کے اعمال کی پروا نہ کرے، اس لیے فرمایا:﴿فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُوۡنَ﴾ ’’تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔‘‘ یعنی ان کو ان کے جھوٹ اور افترا کے ساتھ چھوڑ دیں اور ان کے بارے میں غم زدہ نہ ہوں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
[138] ان کی حماقت و سفاہت کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انھوں نے ان مویشیوں اور چوپائیوں کے سلسلے میں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عام طور پر حلال ٹھہرایا اور ان کے لیے ان کو رزق اور رحمت کا ذریعہ بنایا، جن سے یہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنی طرف سے بدعات اور بدعی اقوال گھڑ لیے ہیں ۔ بعض مویشیوں اور کھیتیوں کے بارے میں انھوں نے اصطلاح وضع کر رکھی ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں :﴿ هٰؔذِهٖۤ اَنۡعَامٌ وَّحَرۡثٌ حِجۡرٌ ﴾ ’’یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہے‘‘ یعنی یہ حرام ہیں ﴿ لَّا يَطۡعَمُهَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ ﴾ ’’اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے۔‘‘ یعنی اس کا کھانا کسی کے لیے جائز نہیں اور اس کو صرف وہی کھا سکتا ہے جسے ہم چاہیں یا ہم بیان کریں کہ فلاں قسم کا شخص کھا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ ان کا زعم باطل ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ۔ سوائے اس کے کہ یہ ان کی خواہشات نفس اور باطل آراء ہیں ۔ مویشی ان پر کسی لحاظ سے حرام نہیں تھے بلکہ انھوں نے ان کی پیٹھ کو حرام ٹھہرایا یعنی ان پر سواری کرنے اور بوجھ لادنے کو۔ اور ایسے جانور کو انھوں نے (حام) سے موسوم کر رکھا تھا۔ ’’حام‘‘ حمی یحمی سے ہے بمعنی ’’حفاظت کرنا۔‘‘ پیٹھ کی، سواری اور بوجھ سے حفاظت کرنے کی وجہ سے یہ نام پڑا۔ کچھ جانور وہ تھے جن پر وہ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ ان بتوں کا نام لیتے تھے جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔ اور وہ تمام افعال کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ جھوٹے اور فاسق و فاجر تھے ﴿ سَيَجۡزِيۡهِمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ سزا دے گا ان کو اس جھوٹ کی‘‘ یعنی شرک کو حلال ٹھہرانے اور کھانے پینے اور دیگر منفعت کی اشیا کو حرام ٹھہرانے میں وہ اللہ تعالیٰ پر جو جھوٹ گھڑتے تھے۔
[139] ان کی کم عقلی پر مبنی آراء میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بعض مویشیوں کو معین کر دیتے اور کہتے کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہے، چنانچہ وہ کہتے تھے:﴿وَقَالُوۡا مَا فِيۡ بُطُوۡنِ هٰؔذِهِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوۡرِنَا ﴾ ’’جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے، اس کو صرف ہمارے مرد ہی کھائیں گے‘‘ یعنی ان کے لیے حلال ہے اس کے کھانے میں عورتیں شریک نہیں ہوں گی ﴿ وَمُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور ہماری عورتوں کو (اس کاکھانا) حرام ہے۔‘‘ یعنی یہ ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے کہ وہ زندہ پیدا ہو۔ اگر مویشی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردہ پیدا ہوا تو اس میں سب شریک ہوں گے یعنی وہ مردوں اور عورتوں سب کے لیے حلال ہے ﴿سَيَجۡزِيۡهِمۡ وَصۡفَهُمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب سزا دے گا ان کو ان کی غلط بیانیوں کی‘‘ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو حرام ٹھہرایا جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا۔ اور حرام کو حلال سے موصوف کیا پس اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کی اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر ڈالا ﴿ اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کو مہلت دی اور اس گمراہی کا ان کو اختیار دیا جس میں یہ سرگرداں ہیں ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جانتا ہے وہ ان کی باتوں اور افترا پردازیوں کا بھی خوب علم رکھتا ہے۔ بایں ہمہ وہ ان کو معاف کرتا اور ان کو رزق سے نوازتا ہے۔
[140] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے خسران اور ان کی کم عقلی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قَدۡ خَسِرَ الَّذِيۡنَ قَتَلُوۡۤا اَوۡلَادَهُمۡ سَفَهًۢا بِغَيۡرِ عِلۡمٍ ﴾ ’’بے شک خسارے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے بغیر علم کے اپنی اولاد کو قتل کیا‘‘ یعنی وہ اپنے دین، اولاد اور عقل کے بارے میں خسارے میں رہے۔ پختہ رائے اور عقل کے بعد ہلاکت انگیز حماقت اور ضلالت ان کا وصف ٹھہری ﴿ وَّحَرَّمُوۡا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور حرام ٹھہرایا اس رزق کو جو اللہ نے ان کو دیا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو ان کے لیے رحمت بنایا اور اسے ان کے لیے رزق قرار دیا تھا۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو ٹھکرا دیا، پھر انھوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس نعمت کو حرام سے موصوف کیا۔ حالانکہ یہ نعمت ان کے لیے سب سے زیادہ حلال تھی۔ اور یہ سب کچھ ﴿ افۡتِرَآءًؔ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جھوٹ باندھ کر اللہ پر‘‘ یعنی یہ سب کچھ جھوٹ ہے اور ہر عناد پسند کافر جھوٹ گھڑتا ہے ﴿قَدۡ ضَلُّوۡا وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’وہ بے شبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں ۔‘‘ یعنی وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے اور وہ اپنے تمام امور میں سے کسی چیز میں بھی راہ راست پر نہیں ہیں ۔