پھردی ہم نے موسیٰ کو کتاب، واسطے پورا کرنے (نعمت کے) اس شخص پر جس نے نیکی کی اور واسطے تفصیل بیان کرنے کے ہر چیز کی اور(باعث) ہدایت اور(ذریعہ) رحمت تاکہ وہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں(154)اور یہ (قرآن) ایک عظیم کتاب ہے،اتارا ہم نے اس کو مبارک ہے پس پیروی کرو تم اس کی اور ڈرو تاکہ تم رحم کیے جاؤ (155)تاکہ(نہ) کہو تم!بلاشبہ نازل کی گئی تھی کتاب اوپر دو گروہوں کے پہلے ہم سے،اور بے شک تھے ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے غافل(156)یاکہو تم!اگر بلاشبہ نازل کی جاتی ہم پر کتاب تو البتہ ہوتے ہم زیادہ ہدایت یافتہ ان سے،پس تحقیق آگئی ہے تمھارے پاس دلیل تمھارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت،پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھٹلایا اللہ کی آیات کو،اور اعراض کیا ان سے؟عنقریب ہم سزادیں گے ان لوگوں کو جو اعراض کرتے ہیں ہماری آیات سے،سخت عذاب کی،بوجہ اس کے جو تھے وہ اعراض کرتے(157)
[154]﴿ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ اس مقام پر (ثُمَّ) سے مراد ترتیب زمانی نہیں ہے کیونکہ موسیٰu کا زمانہ اس زمانے سے بہت متقدم ہے جب رسول اللہﷺ نے یہ تلاوت فرمائی تھی۔ یہاں دراصل ترتیب اخباری مراد ہے۔ ﴿ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’موسیٰ کو کتاب عنایت کی‘‘ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس سے مراد تورات ہے ﴿تَمَامًا﴾ اپنی نعمت اور احسان کو پورا اور مکمل کرنے کے لیے ﴿ عَلَى الَّذِيۡۤ اَحۡسَنَ﴾ ’’ان پر جو نیکوکار ہیں ۔‘‘ یعنی جناب موسیٰ کی امت میں سے ان لوگوں پر اپنی نعمت کو پورا کرنے کے لیے جنھوں نے نیک کام کیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے نیکوکاروں کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ من جملہ ان کامل نعمتوں کے ان پر تورات کا نازل کرنا ہے پس ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت مکمل ہو گئی اور ان پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ٹھہرا۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل کے لیے‘‘ یعنی ہر اس چیز کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ جس کے وہ محتاج ہیں ، اس کا تعلق حلال و حرام سے ہو، اوامر و نواہی سے ہو یا عقائد وغیرہ سے۔ ﴿ وَّهُدًى﴾ ’’اور ہدایت۔‘‘ یعنی وہ بھلائی کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہے اور اصول و فروع میں ان کو برائی کی پہچان کرواتی ہے ﴿وَّرَحۡمَةً﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی اس رحمت کے ذریعے سے انھیں سعادت اور خیر کثیر سے نوازا جاتا ہے ﴿ لَّعَلَّهُمۡ ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ‘‘ یعنی ہمارے ان پر کتاب اور واضح دلائل نازل کرنے کے سبب سے ﴿ بِلِقَآءِ رَبِّهِمۡ يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں ‘‘ کیونکہ یہ کتاب قیامت اور جزائے اعمال کے قطعی دلائل اور ایسے امور پر مشتمل ہے جو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی ملاقات پر ایمان اور اس کے لیے تیاری کے موجب ہیں ۔
[155]﴿وَهٰؔذَا﴾ ’’اور یہ‘‘ یعنی یہ قرآن عظیم اور ذکر حکیم ﴿ كِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰهُ مُبٰرَكٌ ﴾ ’’کتاب ہم نے اتاری ہے برکت والی۔‘‘ یعنی اس کتاب کے اندر خیرکثیر اور بے انتہا علم ہے جس سے تمام علوم مدد لیتے ہیں اور اس سے برکات حاصل کی جاتی ہیں ۔ کوئی ایسی بھلائی نہیں جس کی طرف اس کتاب عظیم نے دعوت اور ترغیب نہ دی ہو اوراس بھلائی کی حکمتیں اور مصلحتیں بیان نہ کی ہوں جو اس پرآمادہ کرتی ہیں اور کوئی ایسی برائی نہیں جس سے اس کتاب نے روکا اور ڈرایا نہ ہو اور ان اسباب اور عواقب کا ذکرنہ کیا ہو جو اس برائی کے ارتکاب سے باز رکھتے ہوں ۔ ﴿ فَاتَّبِعُوۡهُ ﴾ ’’پس اس کی پیروی کرو‘‘ یعنی اس کے امرونہی میں اس کی اتباع کرو اور اس پر اپنے اصول و فروع کی بنیاد رکھو ﴿ وَاتَّقُوۡا ﴾ ‘‘اور ڈرو‘‘ یعنی کسی امر میں اللہ تعالیٰ کی مخالفت کرنے سے ڈرو ﴿ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ﴾ ‘‘تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو شاید تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا سب سے بڑا سبب علم و عمل کے اعتبار سے اس کتاب کی پیروی ہے۔
[156]﴿اَنۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اُنۡزِلَ الۡكِتٰبُ عَلٰى طَآىِٕفَتَيۡنِ مِنۡ قَبۡلِنَا﴾ ’’اس واسطے کہ کہیں تم کہنے لگو، کہ کتاب جو اتری تھی، سو ان ہی دو فرقوں پر جو ہم سے پہلے تھے‘‘ یعنی قطع حجت کے لیے ہم نے تم پر یہ مبارک کتاب نازل کی ہے اور تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہم سے پہلے تو دو گروہوں پر کتاب نازل کر دی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ پر ﴿ وَاِنۡ كُنَّا عَنۡ دِرَاسَتِهِمۡ لَغٰفِلِيۡنَ﴾ ’’اور ہم کو تو ان کے پڑھنے پڑھانے کی خبر ہی نہ تھی‘‘یعنی تم کہو کہ ہم پر کوئی کتاب نہیں اتاری گئی۔ یہود و نصاریٰ پر جو کتابیں نازل کی گئیں ان کے بارے میں ہمیں کوئی علم ہے نہ معرفت، اس لیے ہم نے تمھاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی جس سے بڑھ کر جامع، واضح اور روشن کوئی اور کتاب آسمان سے نازل نہیں کی گئی۔
[157]﴿اَوۡ تَقُوۡلُوۡا لَوۡ اَنَّـاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا الۡكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمۡ ﴾ ’’یا تم کہو کہ اگر اترتی ہم پر کتاب تو ہم ان سے بہتر راہ پر چلنے والے ہوتے‘‘ یعنی یا تو تم یہ عذر پیش کرو گے کہ تمھارے پاس اصل ہدایت ہی نہیں پہنچی یا تمھارا عذر یہ ہو گا کہ یہ ہدایت کامل نہ تھی۔ پس تمھیں اپنی کتاب، اصل اور کامل ہدایت حاصل ہو گئی۔ بنا بریں فرمایا:﴿فَقَدۡ جَآءَكُمۡ بَيِّنَةٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ ﴾ ’’پس تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے دلیل آگئی۔‘‘ یہ اسم جنس ہے اور اس میں ہر وہ چیز داخل ہے جو حق کو بیان کرے ﴿ وَهُدًى ﴾ ’’اور ہدایت‘‘ گمراہی کے اندھیروں میں راہ ہدایت ہے ﴿ وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اور رحمت‘‘ یعنی دین و دنیا میں تمھارے لیے سعادت ہے۔ پس یہ چیز تم پر واجب کرتی ہے کہ تم اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کی خبروں پر ایمان لاؤ۔ اور جس کسی نے اس کی پروا نہ کی اور اس کو جھٹلایا، وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَصَدَفَ عَنۡهَا ﴾ ’’اب اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے کترائے‘‘ یعنی اس نے روگردانی کی اور پہلو بچا کر نکل گیا ﴿ سَنَجۡزِي الَّذِيۡنَ يَصۡدِفُوۡنَ عَنۡ اٰيٰتِنَا سُوۡٓءَؔ الۡعَذَابِ ﴾ ’’ہم سزا دیں گے ان کو جو ہماری آیتوں سے کتراتے ہیں ، برے عذاب کی‘‘ یعنی وہ ایسا عذاب ہو گا کہ وہ اس میں مبتلا شخص کو سخت تکلیف دے گا، اس پر بہت شاق گزرے گا ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَصۡدِفُوۡنَ ﴾ ’’اس کترانے کے بدلے میں ‘‘ وہ خود اپنے آپ کو اور دوسروں کو ہماری آیتوں سے پھیرتے تھے، یہ ان کے اعمال بد کا بدلہ ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدہ: 41؍46) ’’اور آپ کا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ قرآن کا علم، جلیل ترین، انتہائی بابرکت اور تمام علوم سے زیادہ وسیع علم ہے۔ اسی کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف کامل راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے انسان اولین و آخرین میں سے متکلمین کے قیاسات اور اندازوں اور فلسفیوں کے افکار و نظریات کا محتاج نہیں رہتا۔ عام طور پر معروف ہے کہ کتاب یہود و نصاریٰ کے سوا کسی پر نہیں اتری اور علی الاطلاق وہی اہل کتاب ہیں ۔ دیگر تمام گروہ، مجوس وغیرہ اہل کتاب کے زمرے میں نہیں آتے۔ ان آیات مبارکہ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نزول قرآن سے قبل جاہلی عرب، ان اہل کتاب کے علم سے بے بہرہ تھے جن کے پاس علم تھا اور ان کی کتب کے پڑھنے پڑھانے سے غافل تھے۔