Tafsir As-Saadi
32:1 - 32:3

الٓمّٓ (1) اتارنا کتاب کا، درآں حالیکہ نہیں کوئی شک اس میں، رب العالمین کی طرف سے ہے(2)کیا وہ کہتے ہیں کہ خود گھڑ لیا ہے اس (پیغمبر) نے اسے (نہیں)بلکہ وہ حق ہے آپ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ڈرائیں ان لوگوں کو کہ نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آپ سے پہلے، شاید کہ وہ راہ پائیں(3)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب کریم رب کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہے جس نے اپنی نعمت کے ذریعے سے ان کی تربیت کی ہے۔ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنی ربوبیت کا فیضان کیا ہے، یہی کتاب کریم ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہے، جو ان کے احوال کو درست اور ان کے اخلاق کی تکمیل کرتی ہے۔ اس کتاب میں کوئی شک و شبہ نہیں، بایں ہمہ رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے ظالم کہتے ہیں کہ اس کتاب کو محمد(ﷺ) نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے انکار کی سب سے بڑی جسارت اور محمد مصطفیﷺ پر سب سے بڑے جھوٹ کا بہتان لگانا ہے، نیز یہ بہتان لگانا ہے کہ مخلوق بھی خالق کے کلام جیسا کلام تخلیق کرنے پر قادر ہے۔
[3] مذکورہ بالا باتوں میں سے ہر ایک بات بہت بڑا جرم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے قول ’’اس کو محمد (ﷺ)نے گھڑا ہے۔‘‘ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿بَلۡ هُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’بلکہ یہ حق ہے‘‘ جس کے سامنے سے باطل آ سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ یہ کتاب کریم قابل تعریف اور دانا ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہے ﴿مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’آپ کے رب کی طرف سے۔‘‘ جس نے اسے اپنے بندوں پر رحمت کے طور پر نازل کیا ہے ﴿لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ﴾ ’’تاکہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے ڈرانے (متنبہ کرنے) والا نہیں آیا۔‘‘ یعنی رسول کے بھیجے جانے اور کتاب کے نازل کیے جانے کی انھیں سخت ضرورت ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا… بلکہ یہ لوگ اپنی جہالت میں سرگرداں اور اپنی گمراہی کے اندھیروں میں مارے مارے پھرتے ہیں، لہٰذا ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ﴿لَعَلَّهُمۡ يَهۡتَدُوۡنَ ﴾ شاید کہ یہ گمراہی کو چھوڑ کر راہ راست پر گامزن ہوں اور اس طرح حق کو پہچان کر اس کو ترجیح دیں۔یہ تمام امور جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے، ان کی تکذیب کے متناقض ہیں۔ یہ تمام امور ان سے ایمان اور تصدیق کامل کا تقاضا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ ﴿مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’رب کائنات کی طرف سے ہے‘‘ اور یقینا یہ ﴿الۡحَقُّ ﴾ ’’حق ہے‘‘اور حق ہر حال میں قابل قبول ہوتا ہے۔ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ ’’اس میں کسی بھی پہلو سے کوئی شک نہیں‘‘ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو شک و ریب کی موجب ہو۔ یہ کتاب کریم کوئی ایسی خبر بیان نہیں کرتی جو واقع کے غیر مطابق ہو اور نہ اس میں کوئی ایسی چیز ہی ہے جس کے معانی میں کوئی اشتباہ ہو یا وہ مخفی ہوں… نیز وہ رسالت کے سخت ضرورت مند تھے اور اس کتاب کریم میں ہر قسم کی بھلائی اور نیکی کا راستہ دکھایا گیا ہے۔