Tafsir As-Saadi
60:1 - 60:9

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست، تم پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا حالانکہ انھوں نے کفر کیا ہے ساتھ اس چیز کے جو آیا ہے تمھارے پاس حق، وہ نکالتے ہیں رسول کو اور خود تمھیں بھی اس لیے کہ تم ایمان لاتے ہو اللہ ( یعنی ) اپنے رب پر (نہ دوست بناؤ) اگر ہو تم نکلتے جہاد کے لیے میرے راستے میں اور تلاش کرنے کے لیے میری رضامندی تم پوشیدہ پیغام بھیجتے ہو ان کی طرف دوستی کا؟ اور میں خوب جانتا ہوں اس چیز کو جو تم چھپاتے ہو اور اس چیز کو جو تم ظاہر کرتے ہو، اور جو کوئی کرے یہ کام تم میں سے تو یقیناً وہ گمراہ ہو گیا سیدھی راہ سے(1) اگر وہ پائیں تم کو تو ہو جائیں وہ واسطے تمھارے دشمن، اور دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں ساتھ برائی کے، اور وہ پسند کریں کاش کہ تم بھی کفر کرو(2) ہرگز نہیں نفع دیں گے تمھیں تمھارے رشتے ناتے اور نہ تمھاری اولاد دن قیامت کے وہ فیصلہ کرےگا تمھارے درمیان (اس میں) اور اللہ، ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو خوب دیکھنے والا ہے(3) تحقیق ہے تمھارے لیے بہترین نمونہ ابراہیم اور ان لوگوں میں جو اس کےساتھ تھے، جب انھوں نے کہا تھا اپنی قوم سے، بلاشبہ ہم بری ہیں تم سے اور ان سے جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اللہ کے، کفر کیا ہم نے ساتھ تمھارے اور ظاہر ہو گئی ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان عداوت اور بغض ہمیشہ کے لیے یہاں تک کہ ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اکیلے کے ،مگر کہنا ابراہیم کا اپنے باپ سے کہ ضرور مغفرت طلب کروں گا میں تیرے لیے اور نہیں اختیار رکھتا میں تیرے لیے اللہ سے کسی چیز کا بھی، اے ہمارے رب!تجھی پر توکل کیا ہم نے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہم نے اور تیری ہی طرف (ہمارا) لوٹنا ہے(4) اے ہمارے رب! نہ بنا تو ہمیں فتنہ ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا اور بخش دے ہمیں اے ہمارے رب! بلاشبہ تو ہی ہے بڑا زبردست، خوب حکمت والا(5) البتہ تحقیق ہے تمھارے لیے ان میں نمونہ بہترین اس شخص کے لیے جو ہو امید رکھتا اللہ (سے ملاقات) کی اور یوم آخرت کی اور جو کوئی رو گردانی کرے تو بلاشبہ اللہ ہی ہے بے پروا قابل تعریف(6) امید ہے کہ اللہ، یہ کہ (پیدا) کر دے وہ درمیان تمھارے اور درمیان ان لوگوں کے کہ عداوت رکھتے ہو تم ان سے، دوستی اور اللہ خوب قدرت والا ہے اور اللہ غفور رحیم ہے(7) نہیں روکتا تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو نہیں لڑے تم سے دین کی بابت اور نہیں نکالا انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے ،اس بات سے کہ تم حسن سلوک کرو ان سے اور انصاف کرو تم ان کے حق میں بلاشبہ اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو(8)یقیناً روکتا ہے تمھیں اللہ ان لوگوں سے جو لڑے تم سے دین کی بابت، اور انھوں نے نکالا تمھیں تمھارے گھروں سے اور انھوں نے مدد کی تمھارے نکالنے میں، اس بات سے کہ تم دوستی کرو ان سے، اور جو کوئی دوستی کرے ان سے تو وہی لوگ ظالم ہیں(9)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

بہت سے مفسرینs نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کریمہ کا سبب نزول حاطب بن ابی بلتعہt کا قصہ ہے، جب رسول اللہﷺ نے غزوۂ فتحِ مکہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہt نے مکہ کے مشرکین کو خط لکھا اور انھیں رسول اللہﷺ کی روانگی کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع شک اور نفاق کی بنا پر نہ تھی بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ مشرکین پر ایک احسان كرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے یہ خط ایک عورت کے ذریعے سے روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ٔاکرمﷺ کو تمام معاملے سے آگاہ کر دیا۔ رسول اللہﷺ نے اس عورت کے مکہ پہنچنے سے پہلے پہلے اس کی طرف آدمیوں کو بھیجا اور اس سے وہ خط برآمد کرالیا۔ آپ نے حاطبt پر عتاب فرمایا، حاطبt نے ایسا عذر پیش کیا جسے نبی ٔکریم ﷺ نے قبول فرما لیا۔ان آیات کریمہ میں کفار ومشرکین وغیرہ سے موالات اور مودت رکھنے کی سخت ممانعت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ موالات و مودت ایمان اور ملت ابراہیمu کے منافی اور عقل کے خلاف ہے جو ایسے دشمن سے پوری طرح سے بچنے کو واجب قرار دیتی ہے جو اپنی دشمنی میں جہد و کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا اور اپنے دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

[1] اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’اے ایمان والو!‘‘ یعنی اپنے ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان لائے اس کے ساتھ موالات و مودت رکھو، جو ایمان کے ساتھ عداوت رکھے، تم اس کے ساتھ عداوت رکھو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا دشمن اور اہل ایمان کا دشمن ہے، لہٰذا ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡا عَدُوِّيۡ ﴾ نہ بناؤ تم اللہ تعالیٰ کے دشمن کو ﴿وَعَدُوَّؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ تُلۡقُوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ﴾ ’’اور اپنے دشمنوں کو دوست۔ تم انھیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔‘‘ یعنی تم ان کی محبت و مودت اور اس کے اسباب کے حصول کی کوشش میں جلدی مچاتے ہو۔ جب مودت حاصل ہو جاتی ہے تو نصرت و موالات اس کے پیچھے آتی ہیں۔ تب بندہ ایمان کے دائرے سے نکل کر اہل کفر ان کے زمرے میں شامل ہو جاتا ہے۔کافر کو دوست بنانے والا یہ شخص مروت سے بھی محروم ہے، وہ اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیوں کر موالات رکھتا ہے جو اس کے بارے میں صرف برائی کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی کیوں کر مخالفت کرتا ہے جو اس کے بارے میں صرف بھلائی چاہتا ہے، اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور بھلائی کی ترغیب دیتا ہے؟مومن کو کفار کے ساتھ عداوت رکھنے کی طرف یہ چیز بھی دعوت دیتی ہے کہ انھوں نے اس حق کو ماننے سے انکار کر دیا جو مومنوں کے پاس آیا تھا۔ اس مخالفت اور دشمنی سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں، انھوں نے تمھارے اصل دین کا انکار کیا ہے، ان کا گمان ہے کہ تم گمراہ ہو، ہدایت پر نہیں ہو۔ اور ان کا حال یہ ہے کہ انھوں نے حق کا انکار کیا جس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ اور جو کوئی حق کو ٹھکراتا ہے تو یہ امر محال ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل یا حجت پائی جائے جو اس کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہو بلکہ حق کا مجرد علم ہی اس شخص کے قول کے بطلان اور فساد پر دلالت کرتا ہے جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ یہ ان کی انتہا کو پہنچتی ہوئی عداوت ہے کہ ﴿ يُخۡرِجُوۡنَ الرَّسُوۡلَ وَاِيَّاكُمۡ﴾ اے مومنو! وہ رسول کو اور تمھیں تمھارے گھروں سے نکالتے ہیں اور تمھیں جلا وطن کرتے ہیں۔ان کے ہاں اس بارے میں تمھارا اس کے سوا کوئی گناہ نہیں کہ ﴿ اَنۡ تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ رَبِّكُمۡ﴾ تم اپنے رب اللہ پر ایمان لائے ہو جس کی عبودیت کو قائم کرنا تمام مخلوق پر فرض ہے کیونکہ اسی نے ان کی پرورش کی اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا ۔جب انھوں نے اس کام سے منہ موڑ لیا جو سب سے بڑا فرض تھا اور تم نے اس کو قائم کیا تو وہ تمھارے ساتھ دشمنی پر اتر آئے اور اس بنا پر انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا۔تب کون سا دین، کون سی مروت اور کون سی عقل بندے کے پاس باقی رہ جاتی ہے، اگر پھر بھی وہ کفار کے ساتھ موالات رکھے، جن کا ہر زمان و مکان میں یہی وصف ہے، ان کو خوف یا کسی طاقتور مانع کے سوا کسی چیز نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَادًا فِيۡ سَبِيۡلِيۡ وَابۡتِغَآءَؔ مَرۡضَاتِيۡ﴾ یعنی اگر تمھارا گھروں سے نکلنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے اور اس کی رضا کی طلب کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہے، تو اس کے تقاضے کے مطابق اولیاء اللہ سے موالات اور اس کے دشمنوں سے عداوت رکھو، یہ اس کے راستے میں سب سے بڑا جہاد اور سب سے بڑا وسیلہ ہے، جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے والے اس کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور اس کے ذریعے سے اس کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ﴿ تُسِرُّوۡنَ اِلَيۡهِمۡ بِالۡمَوَدَّةِ١ۖ ۗ وَاَنَا اَعۡلَمُ بِمَاۤ اَخۡفَيۡتُمۡ وَمَاۤ اَعۡلَنۡتُمۡ﴾ یعنی تم کفار کے ساتھ مودت کو کیسے چھپاتے ہو حالانکہ تمھیں علم ہے کہ تم جو کچھ چھپاتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، تمھارا کفار کے ساتھ مودت و موالات رکھنا، اگرچہ اہل ایمان پر چھپا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں ہے، وہ عنقریب اپنے بندوں کو ان کے بارے میں اپنے علم کے مطابق نیکی اور بدی کی جزا و سزا دے گا۔ ﴿وَمَنۡ يَّفۡعَلۡهُ مِنۡكُمۡ﴾ اور جو کوئی کفار سے موالات رکھے اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے منع کیا ہے۔﴿ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ کیونکہ وہ ایسے راستے پر چل پڑا جو شریعت، عقل اور مروت انسانی کے خلاف ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کو کفار کی عداوت پر برانگیختہ کرنے کے لیے کفار کی شدت عداوت کا ذکر کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اِنۡ يَّثۡقَفُوۡؔكُمۡ﴾ یعنی اگر وہ تمھیں پائیں اور تمھیں اذیت پہنچانے کا ان کو موقع ملے ﴿ يَكُوۡنُوۡا لَكُمۡ اَعۡدَآءًؔ ﴾ تو تمھارے کھلے دشمن ہو جائیں گے ﴿ وَّيَبۡسُطُوۡۤا اِلَيۡكُمۡ اَيۡدِيَهُمۡ﴾ اور قتل اور ضرب لگانے وغیرہ کے لیے تمھاری طرف ہاتھ بڑھائیں گے۔ ﴿ وَاَلۡسِنَتَهُمۡ بِالسُّوۡٓءِ﴾ اور ایسی بات کہیں گے جو تکلیف دہ ہو گی، یعنی گالی وغیرہ۔ ﴿ وَوَدُّوۡا لَوۡ تَكۡفُرُوۡنَ﴾ اور وہ خواہش کریں گے کہ کاش تم کفر کرتے۔‘‘ اور یہی وہ غرض و غایت ہے جو وہ تم سے چاہتے ہیں۔
[3] اگر تم یہ دلیل دیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم قرابت داری اور اموال کی خاطر کفار سے موالات رکھتے ہیں تو ﴿ لَنۡ تَنۡفَعَكُمۡ اَرۡحَامُكُمۡ وَلَاۤ اَوۡلَادُؔكُمۡ﴾ اللہ کے مقابلے میں تمھارے رشتے ناتے اور تمھاری اولاد کچھ کام نہیں آئے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِيۡرٌ﴾ ’’ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمھیں کفار کی موالات سے بچنے کے لیے کہا ہے جن کی موالات تمھیں نقصان دے گی۔
[4] اے مومنوں کے گروہ! تمھارے لیے ﴿ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ اچھا نمونہ اور ایسی راہ نمائی ہے جو تمھیں فائدہ دے گی ﴿ فِيۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗ﴾ ’’ابرہیم (u) میں اور ان کے (مومن) رفقاء میں ہے۔‘‘ تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ تم یکسو ہو کر ملت ابراہیم کی اتباع کرو۔ ﴿ اِذۡ قَالُوۡا لِقَوۡمِهِمۡ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنۡكُمۡ وَمِمَّا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ﴾ یعنی جب حضرت ابراہیمu اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں نے اپنی مشرک قوم اور ان کے معبودوں سے براء ت کا اعلان کیا، جنھیں وہ(مشرک)اللہ کے سوا پوجتے تھے۔ پھر پوری صراحت سے ان کے ساتھ اپنی عداوت کی تصریح کی ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ كَفَرۡنَا بِكُمۡ وَبَدَا﴾ ’’ہم تمھارا انکار کرتے ہیں اور ظاہر ہو گیا۔‘‘ یعنی پوری طرح ظاہر اور واضح ہو گیا کہ ﴿ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُ الۡعَدَاوَةُ وَالۡبَغۡضَآءُ﴾ ہمارے اور تمھارے درمیان دلوں کا بغض اور ابدان کی عداوت، دلوں میں سے مودت زائل ہو گئی اور اس بغض اور عداوت کے لیے کوئی وقت اور حد مقرر نہیں بلکہ یہ عداوت ﴿ اَبَدًا﴾ اس وقت تک ہمیشہ برقرار رہے گی جب تک کہ تم اپنے کفر پر قائم ہو ﴿ حَتّٰى تُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗۤ﴾ یعنی جب تم اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آؤ گے تو عداوت اور بغض زائل ہو جائے گا، عداوت مودت اور دوستی میں بدل جائے گی ۔پس اے مومنو! ایمان، توحید اور اس کے لوازم و مقتضیات کو قائم کرنے میں ابراہیم uاور ان کے اصحاب میں تمھارے لیے نمونہ ہے، ہر چیز میں اسی کو نمونہ بنا کر اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ﴿ اِلَّا﴾ سوائے ایک خصلت کے اور وہ ہے ﴿ قَوۡلَ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ﴾ حضرت ابراہیمu کے اپنے مشرک، کافر اور معاندِ حق باپ کے بارے میں قول، جب آپ نے اپنے باپ کو ایمان اور توحید کی دعوت دی اور اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ نے اس سے کہا تھا :﴿ لَاَسۡتَغۡفِرَنَّ لَكَ وَ﴾ ’’میں تیرے لیے مغفرت طلب کروں گا۔ اور حال یہ ہے کہ ‘‘ ﴿ مَاۤ اَمۡلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’میں اللہ کے سامنے تمھارے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ مگر میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا، ہو سکتا ہے کہ میں اپنے رب سے دعا کر کے محروم نہ رہوں۔اس حال میں تم ابراہیم (u) کی اقتدانہ کرو جس میں انھوں نے اپنے مشرک (باپ)کے لیے دعا کی تھی۔ تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم مشرکین کے لیے دعا کرو اور پھر کہو کہ ہم تو ملت ابراہیم کی پیروی کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ابراہیمu کا عذر ان الفاظ میں بیان فرما دیا ہے: ﴿وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ١ؕ اِنَّ اِبۡرٰؔهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ﴾(التوبۃ:9؍114) ’’اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا، صرف ایک وعدے کے سبب سے تھا جو وہ اپنے باپ سے کر چکے تھے، جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ہے تو انھوں نے اس سے براء ت کا اظہار کر دیا بلاشبہ ابراہیم بہت نرم دل اور بردبار تھے۔‘‘ تمھارے لیے حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب میں نمونہ اس وقت (کے طرز عمل میں)ہے جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا، اس پر بھروسہ کیا، اس کی طرف رجوع کیا اور اپنے عجز و تقصیر کا اعتراف کیا اور کہا :﴿ رَبَّنَا عَلَيۡكَ تَوَكَّؔلۡنَا﴾ ایسے امور کے حصول میں جو ہمیں فائدہ دیتے ہیں ا ور ایسے امور کو دور کرنے میں، جو ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں، اے ہمارے رب! ہم تجھ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِلَيۡكَ اَنَبۡنَا﴾ یعنی ہم تیری اطاعت، تیری رضا، اور ان تمام امور کی طرف لوٹتے ہیں جو تیرا قرب عطا کرتے ہیں۔ نیک اعمال کے ذریعے سے اس قرب کے حصول میں کوشاں ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے تیری طرف لوٹنا ہے، ہم تیری خدمت میں حاضر ہونے کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ اعمال سر انجام دے رہے ہیں جو تیرے قریب کرتے ہیں۔
[5]﴿ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ یعنی اے ہمارے رب! ہمارے گناہوں کے سبب سے تو کفار کو ہم پر مسلط نہ کرنا، ایسا نہ ہو کہ وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کر دیں اور ہمیں ان امورِ ایمان سے روک دیں جن پر عمل کرنے پر ہم قادر ہیں۔ وہ اپنے آپ کو بھی فتنے میں مبتلا کریں گے کیونکہ جب وہ دیکھیں گے کہ انھیں غلبہ حاصل ہے تو سمجھیں گے کہ وہ حق پر ہیں اور ہم باطل پر ہیں اس طرح وہ کفر اور سرکشی میں اور زیادہ بڑھ جائیں گے۔ ﴿ وَاغۡفِرۡ لَنَا﴾ ہم نے جن گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب کیا ہے اور مامورات کی تعمیل میں ہم سے جو تقصیر سرزد ہوئی ہے، وہ ہمیں معاف کر دے۔ ﴿ رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ ’’اے ہمارے رب! بے شک تو ہر چیز پر غالب ہے۔‘‘ ﴿الۡحَكِيۡمُ﴾ جو تمام اشیاء کو اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے، پس اپنی عزت و غلبے اور اپنی حکمت کے وسیلے سےہمارے دشمنوں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما، ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے عیوب کی اصلاح کر۔
[6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے دوبارہ حضرت ابراہیمu اور ان کے اصحاب کی پیروی کی ترغیب دی اور فرمایا: ﴿ لَقَدۡ كَانَ لَكُمۡ فِيۡهِمۡ اُسۡوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ ’’تحقیق تمھارے لیے انھی لوگوں میں ایک اچھا نمونہ ہے۔‘‘ اور ہر شخص کے لیے اس نمونہ کی پیروی کرنا آسان نہیں، یہ صرف اسی شخص کے لیے آسان ہے ﴿ لِّمَنۡ كَانَ يَرۡجُوا اللّٰهَ وَالۡيَوۡمَ الۡاٰخِرَ﴾ ’’جو اللہ (سے ملنے) اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہو۔‘‘ کیونکہ ایمان اور اجر و ثواب کی امید، بندے کے لیے ہر مشکل کام کو آسان اور ہر کثیر کو اس کے سامنے قلیل کر دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا کی موجب بنتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو اس کا بے انتہا محتاج اور ضرورت مند سمجھتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّ﴾ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور انبیاء و مرسلین کی اقتدا سے منہ موڑتا ہے، وہ خود اپنے سوا کسی کو نقصان نہیں دیتا اور وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡغَنِيُّ ﴾ ’’بے شک اللہ ہی بے پروا ہے۔‘‘ جو ہر لحاظ سے غنائے مطلق کا مالک ہے اور کسی بھی پہلو سے وہ مخلوق میں سے کسی کا محتاج نہیں۔ ﴿ الۡحَمِيۡدُ﴾ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں قابل ستائش ہے اور ان تمام امور میں اس کی ستائش کی جاتی ہے۔
[7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ عداوت جس کے بارے میں اس نے اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے ساتھ رکھیں، اور اہل ایمان کو اس وصف سے موصوف کیا کہ جب تک مشرکین اپنے شرک اور کفر پر قائم ہیں، وہ ان کی دشمنی پر قائم ہیں اور اگر مشرکین دائرہ ایمان سے منتقل ہو جائیں گے تو حکم بھی اپنی علت کے مطابق ہو گا اور مودت ایمانی لوٹ آئے گی۔پس اے مومنو! تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہو جاؤ ﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ مَّوَدَّةً﴾ ’’عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کرے۔‘‘ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے﴿ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اس کی قدرت کے تحت ہے ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ ﴿ قُلۡ يٰؔعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ﴾(الزمر:39؍53) ’’(اے نبی!) ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں بعض کفار کے اسلام لانے کی طرف اشارہ اور اس کی بشارت ہے جو اس وقت کافر اور اہل ایمان کے دشمن تھے۔ اور یہ بشارت پوری ہوئی۔وَلِلہِ الْحَمْدُ .
[8] جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں، نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا، انھوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات و مودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ ﴿ لَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھیں اپنے مشرک عزیز و اقارب وغیرہ سے حسن سلوک، صلہ رحمی، ان کو معروف طریقے سے انصاف کے ساتھ بدلہ دینے سے نہیں روکتا، مگر اس صورت میں کہ انھوں نے دین کے معاملے میں تمھارے ساتھ جنگ کی ہو نہ تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہو۔ اس لیے تم پر کوئی گناہ نہیں، اگر تم ان کے ساتھ صلہ رحمی کرتے ہو، کیونکہ ان حالات میں صلہ رحمی ممنوع نہیں اور نہ ایسا کرنے میں کوئی تاوان ہی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر والدین کے بارے میں، جبکہ ان کا بیٹا مسلمان ہو، فرمایا:﴿ وَاِنۡ جَاهَدٰؔكَ عَلٰۤى اَنۡ تُشۡرِكَ بِيۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ١ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا وَصَاحِبۡهُمَا فِي الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا﴾(لقمان:31؍15) ’’اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کی اطاعت نہ کر، البتہ دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک کرتا رہ۔‘‘
[9]﴿ اِنَّمَا يَنۡهٰؔىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ قٰتَلُوۡؔكُمۡ فِي الدِّيۡنِ﴾ ’’اللہ تو تمھیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمھارے دین کی وجہ سے ﴿ وَاَخۡرَجُوۡؔكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ وَظٰهَرُوۡا ﴾ ’’اور انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکال دیا اور انھوں نے مدد کی۔‘‘ یعنی انھوں نے دوسروں کی مدد کی ﴿ عَلٰۤى اِخۡرَاجِكُمۡ ﴾ ’’تمھیں تمھارے گھروں سے نکالنے میں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں روک دیا ہے ﴿ اَنۡ تَوَلَّوۡهُمۡ ﴾ اس بات سے کہ قول و فعل میں تم نصرت و مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو، رہا تمھارا (اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور احسان، جو مشرکین کے ساتھ موالات کے زمرے میں نہ آتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے تمھیں اس سے نہیں روکا۔ بلکہ یہ حکم اقارب وغیرہ انسانوں اور دیگر مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے عمومی حکم کے تحت آتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم میں سے جو لوگ ان سے دوستی کریں گے تو وہ ظالم ہیں۔‘‘ اور یہ ظلم موالات کے مطابق ہو گا۔ اگر کسی نے پوری پوری موالات اور دوستی رکھی ہے تو یہ کفر ہے جو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتی ہے، اس سے نیچے بہت سے مراتب ہیں جن میں بعض بہت سخت اور بعض نرم ہیں۔