Tafsir As-Saadi
34:10 - 34:11

اور تحقیق دی ہم نے داؤ د کو اپنی طرف سے فضیلت ، (ہم نے حکم دیا) اے پہاڑو! تسبیح دہراؤ اس کےساتھ اور پرندوں کو (بھی کہا) اور نرم کر دیا ہم نے اس کے لیے لوہا(10) یہ کہ بنا (زرہیں)کامل کشادہ اور (مناسب) اندازہ رکھ کڑیاں جوڑنے میں اور تم (سب) عمل کرو نیک، بے شک میں، ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب دیکھنے والا ہوں(11)

[10، 11] یعنی ہم نے اپنے بندے اور رسول داؤ دu پر احسان کیا اور ہم نے انھیں علم نافع اور عمل صالح میں فضیلت بخشی اور انھیں دینی اور دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرمایا۔ یہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت ہے کہ اس نے پہاڑوں، حیوانات اور پرندوں کو حکم دیا کہ وہ داؤ دu کی حمدوتسبیح کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملائیں۔ یہ ایسی نعمت ہے جو آپ کے خصائص میں شمار ہوتی ہے اور یہ خصوصیت آپ سے پہلے کسی کو عطا کی گئی نہ آپ کے بعد۔ یہ آواز آپ کو اور دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی تسبیح پر آمادہ کرتی تھی۔ جب وہ دیکھتے کہ یہ جمادات، پہاڑ اور حیوانات حضرت داؤ دu کی آواز کا جواب دیتے ہوئے اپنے رب کی تسبیح و تکبیر اور تمجیدوتحمید کرتے ہیں تو یہ چیز ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر پر آمادہ کرتی۔بہت سے علماء کہتے ہیں کہ یہ نعمت داؤ دu کی آواز کی طرب خیزی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت خوبصورت آواز سے سرفراز فرمایا تھا اور انھیں اس میدان میں سب پر فوقیت حاصل تھی۔ جب آپ تسبیح و تہلیل اور تمجید وتحمید میں اپنی طرب انگیز آواز بلند کرتے تو جن وانس، پرندے اور پہاڑ آپ کی آواز پر جھوم اٹھتے اور اپنے رب کی تحمید وتسبیح بیان کرنے لگتے ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمت تھی کہ آپ کی آواز پر طرب میں آکر تسبیح و تحمید بیان کرنے والے جمادات و حیوانات کی تسبیح کا اجر بھی آپ کو حاصل ہوتا تھا کیونکہ آپ ان کی تسبیح و تحمید کا سبب تھے۔اللہ تعالیٰ کا یہ بھی آپ پر فضل و کرم تھا کہ اس نے لوہے کو آپ کے لیے نرم کر دیا تاکہ وہ زر ہیں تیار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زرہ کی صنعت کی تعلیم دی اور ان کو زرہ کے حلقوں کو اندازے پر رکھنا سکھایا یعنی وہ اندازے کے ساتھ زرہ کا حلقہ بناتے تھے ، پھر وہ ان کو ایک دوسرے میں داخل کر دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۢۡ بَاۡسِكُمۡ١ۚ فَهَلۡ اَنۡتُمۡ شٰكِرُوۡنَ ﴾(الانبیاء:21؍80) ’’اور ہم نے تمھارے لیے ان کو زرہ بنانا سکھا دیا تاکہ یہ زرہیں تمھیں ایک دوسرے کی ضرب سے محفوظ رکھیں، تو پھر کیا تم شکر گزار ہو گے؟‘‘ حضرت داؤ دu اور آل داؤ د پر اپنے احسان کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر کرنے کا حکم دیا، نیز انھیں یہ حکم بھی دیا کہ وہ نیک عمل کریں، وہ اپنے عمل کی اصلاح اور مفسدات سے اس کو محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے ڈریں کیونکہ وہ ان اعمال کو دیکھتا ہے، ان کی اطلاع رکھتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں۔