بے شک جنتی آج (اپنے) شغل میں خوش ہوں گے (55) وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے (56) ان کے لیے اس میں میوہ ہو گا(ہر قسم کا) اور ان کے لیے وہ ہو گا جو وہ مانگیں گے (57) سلام کہا جائے گا (انھیں) نہایت مہربان رب کی طرف سے (58)
[55، 56] جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ہر شخص کو صرف اس کے اعمال کی جزا ملے گی تو دونوں فریقوں کی جزا و سزا کا ذکر بھی کیا۔ پہلے اہل جنت کی جزا کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ اہل جنت اس روز ﴿فِيۡ شُغُلٍ فٰكِهُوۡنَ﴾ ’’لطف اٹھانے میں مشغول ہوں گے۔‘‘ یعنی ایسے مشاغل میں مشغول ہوں گے جن سے نفس کو لطف اور لذت محسوس ہو گی، ہر وہ چیز جو نفس چاہیں گے، آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تمنا کرنے والے تمنا کریں گے۔ ان نعمتوں میں خوبصورت دوشیزاؤ ں سے ملاقات شامل ہے، جیسا کہ فرمایا:﴿هُمۡ وَاَزۡوَاجُهُمۡ ﴾ ’’وہ اور ان کی بیویاں‘‘ خوبصورت آنکھوں والی جو خوبصورت چہروں اور خوبصورت بدنوں والی ہونے کے ساتھ ساتھ خوب سیرت بھی ہوں گی۔ ﴿فِيۡ ظِلٰلٍ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ ﴾ ’’سایوںمیں مسہریوں میں ہوں گے‘‘ یعنی وہ ایسی مسندوں پر بیٹھیں گے جو خوبصورت لباس سے مزین ہوں گی۔ ﴿مُتَّـكِــُٔوۡنَ ﴾ مسند پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے ان کا تکیہ لگانا، کمال راحت، طمانیت اور لذت پر دلالت کرتا ہے۔
[57]﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ ﴾ اس میں ان کے لیے تمام قسم کے لذیذ پھل اور میوے بکثرت ہوں گے ، مثلاً: انگور، انجیر اور انار وغیرہ۔ ﴿وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ بھی وہ طلب کریں گے اور تمنا کریں گے، پا لیں گے۔
[58] نیز ان کو ﴿سَلٰمٌ ﴾ ’’سلام‘‘ حاصل ہوگا ﴿مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِيۡمٍ ﴾ ’’مہربان رب کی طرف سے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کے ساتھ کلام فرمائے گا اور ان پر اس کا سلام ہو گا اور اسے اپنے ارشاد ﴿قَوۡلًا ﴾ کے ذریعے سے مؤکد کیا اور جب رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام بھیجا جائے گا تو انھیں ہر لحاظ سے مکمل سلامتی حاصل ہو گی۔ انھیں سلام کہا جائے گا جس سے بڑھ کر کوئی سلام نہیں اور اس جیسی کوئی نعمت نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے بادشاہوں کے بادشاہ، رب عظیم اور رؤ ف و رحیم کی طرف سے اکرام و تکریم کے گھر میں رہنے والے ان لوگوں کو بھیجا گیا سلام کیسا ہو گا، جن پر اس کی رضا سایہ کناں اور ناراضی ہمیشہ کے لیے دور ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے موت مقدر کی ہوتی یا فرحت و سرور کی وجہ سے حرکت قلب کا بند ہو جانا مقرر کیا ہوتا تو وہ خوشی سے ضرور مر جاتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہیں کرے گا اور ہمیں اپنے چہرۂ اقدس کا دیدار کرائے گا۔