Tafsir As-Saadi
61:1 - 61:3

تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست خوب حکمت والا ہے(1) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیوں کہتے ہو تم وہ جو نہیں کرتے تم؟(2) بڑی ہے باعتبار ناراضی کے نزدیک اللہ کے یہ (بات) کہ کہو تم وہ جو نہیں کرتے تم(3)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور غلبے کا بیان ہے، نیز اس حقیقت کا بیان ہے کہ تمام اشیاء اس کے سامنے سرافگندہ ہیں اور آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والے، اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں، اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے اپنی حوائج طلب کرتے ہیں۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ﴾ ’’اور وہ غالب ہے۔‘‘ یعنی اپنے غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے تمام اشیاء پر قاہر ہے۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ وہ اپنے خلق و امر میں حکمت والا ہے۔
[2، 3]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾ اے ایمان والو! تم نیکی کی باتیں کیوں کرتے ہو اور کیوں لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہو، بسا اوقات اس پر تمھاری تعریف بھی کی جاتی ہے اور حال تمھارا یہ ہے کہ تم خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ تم لوگوں کو بدی سے روکتے ہو اور بسا اوقات تم خود اپنے آپ کو اس سے پاک قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اس بدی میں ملوث اور اس سے متصف ہو۔ کیا یہ مذموم حالت مومنوں کے لائق ہے یا یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑی ناراضی کی بات ہے کہ بندہ ایسی بات کہے جس پر خود عمل نہ کرتا ہو؟ اس لیے نیکی کا حکم دینے والے کے لیے مناسب یہی ہے کہ لوگوں میں سب سے پہلے اس نیکی کی طرف سبقت کرنے والا ہو اور بدی سے روکنے والا، لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس بدی سے دور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَتَاۡمُرُوۡنَؔ النَّاسَ بِالۡـبِرِّ وَتَنۡسَوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ وَاَنۡتُمۡ تَتۡلُوۡنَؔ الۡكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَؔ﴾(البقرۃ:2؍44) ’’کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہوباوجود یکہ تم کتاب پڑھتے ہو، کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں؟‘‘ حضرت شعیب uنے فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اُخَالِفَكُمۡ اِلٰى مَاۤ اَنۡهٰؔىكُمۡ عَنۡهُ﴾(ھود:11؍88) ’’میں نہیں چاہتا کہ جس کام سے میں تمھیں منع کرتا ہوں، اسے خود کرنے لگوں۔‘‘