وہ، وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ نہ خرچ کرو تم ان پر جو پاس ہیں رسول اللہ کے یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں اور اللہ ہی کے لیے ہیں خزانے آسمانوں اور زمین کے اور لیکن منافق نہیں سمجھتے(7) وہ کہتے ہیں، البتہ اگر لوٹ کر گئے ہم مدینہ کی طرف تو ضرور نکال ديں گے، معزز ترین لوگ اس (مدینہ) سے ذلیل ترین لوگوں کو، اور اللہ ہی کے لیے ہے عزت اور اس کے رسول کے لیے اور مومنوں کے لیے اور لیکن منافق (اس حقیقت کو) نہیں جانتے(8)
[7] یہ ان کی نبی ٔاکرم ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ شدت عداوت ہے کہ جب انھوں نے صحابہ کرام y کا اتحاد، ان کی باہمی الفت اور رسول اللہ ﷺ کی رضا کی طلب میں ان کی مسارعت کو دیکھا تو اپنے زعم فاسد کے مطابق کہنے لگے:﴿ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰى مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنۡفَضُّوۡا﴾ ’’تم ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ (خود بخود) بھاگ جائیں۔‘‘ کیونکہ... ان کے زعم باطل کے مطابق... اگر منافقین کے اموال اور نفقات نہ ہوتے تو مسلمان اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے اکٹھے نہ ہوتے۔ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ یہ منافقین، جو دین کی مدد چھوڑنے اور مسلمانوں کو اذیت دینے کی لوگوں میں سب سے زیادہ خواہش رکھتے ہیں، اس قسم کا دعویٰ کریں جس کو صرف وہی شخص قبول کر سکتا ہے جس کو حقائق کا علم نہیں۔اس لیے الله تعالى نے ان کی بات کو رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے۔‘‘ پس وہ جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے رزق سے محروم کر دیتا ہے، جسے چاہتا ہے اس کے لیے رزق کے ذرائع آسان بنا دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے رزق کے ذرائع بہت مشکل کر دیتا ہے ﴿ وَلٰكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’لیکن منافق نہیں سمجھتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے یہ بات کہی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ رزق کے خزانے ان کے قبضۂ قدرت اور ان کی مشیت کے تحت ہیں۔
[8]﴿ يَقُوۡلُوۡنَ لَىِٕنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾ ’’وہ کہتے تھے: ’’البتہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو معزز ترین لوگ وہاں سے ذلیل ترین لوگوں کو نکال دیں گے۔‘‘ یہ واقعہ غزوۂ مریسیع میں پیش آیا، جب کچھ مہاجرین اور انصار کے درمیان تلخ کلامی اور شکر رنجی پیدا ہوئی، اس وقت منافقین کا نفاق سامنے آ گیا اور ان کے دلوں میں جو کچھ تھا ظاہر ہوا۔ ان کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا: ’’ہماری اور ان کی ( یعنی مہاجرین کی) مثال تو بس وہ ہے جیسا کہ کسی کا قول ہے: اپنے کتے کو موٹا کرو تجھے ہی کھائے گا۔‘‘ اور کہنے لگا : ﴿ لَىِٕنۡ رَّجَعۡنَاۤ اِلَى الۡمَدِيۡنَةِ لَيُخۡرِجَنَّ الۡاَعَزُّ مِنۡهَا الۡاَذَلَّ﴾ ’’اگر ہم لوٹ کر مدینے پہنچے تو عزت والا ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ ‘‘ اس کے زعم باطل کے مطابق وہ اور اس کے بھائی دیگر منافقین باعزت لوگ ہیں، اور رسول مصطفیﷺ اور آپ کی اتباع کرنے والے ذلیل ہیں، حالانکہ معاملہ اس منافق کے قول کے برعکس تھا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ الۡعِزَّةُ وَلِرَسُوۡلِهٖ وَلِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ۠﴾ ’’حالانکہ عزت اللہ کے لیے ہے، اس کے رسول کے لیے ہے اور مومنوں کے لیے ہے۔‘‘ پس یہی عزت والے ہیں، منافقین اور ان کے بھائی ہی ذلیل ہیں۔ ﴿ وَلٰكِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’مگر منافقین اس حقیقت کو نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ اپنے باطل موقف کے فریب میں مبتلا ہو کر سمجھتے ہیں کہ وہی عزت والے ہیں۔