اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب اذان دی جائے نماز کے لیے دن جمعہ کے، تو دوڑو تم طرف ذکر اللہ کے اور چھوڑ دو خرید و فروخت کرنا، یہ بہت بہتر ہے تمھارے لیے اگر ہو تم جانتے(9) پھر جب ادا کر لی جائے نماز تو پھیل جاؤ تم زمین میں اور تلاش کرو فضل اللہ کا، اور یاد کرو اللہ کو خوب، شاید کہ تم فلاح پاؤ (10) اور جب دیکھا انھوں نے (سامان) تجارت یا کوئی تماشہ تو وہ دوڑ پڑے اس کی طرف اور چھوڑ دیا انھوں نے آپ کو کھڑا ہوا ،کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے (وہ) بہت بہتر ہے تماشے سے اور (سامان) تجارت سے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے (11)
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو جمعہ کی نماز میں شریک ہونے، اور اس کے لیے جب اذان دی جائے تو اس کی طرف جلدی کرنے اور کوشاں ہونے کا حکم دیا ہے۔ یہاں ’’سعی‘‘ سے مراد جلدی کرنا ، اہتمام کرنا اور جمعہ کی نماز کو سب سے اہم کام قرار دینا ہے، اس سے مراد دوڑنا نہیں جس کو نماز کے لیے جاتے وقت ممنوع کیا گیا ہے۔ فرمایا:﴿ وَذَرُوا الۡبَيۡعَ﴾ یعنی جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان دے دی جائے تو خرید و فروخت چھوڑ دو اور نماز کے لیے چل پڑو۔ ﴿ ذٰلِكُمۡ خَيۡرٌ لَّكُمۡ ﴾ کیونکہ جمعہ کی نماز تمھارے خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے اور تمھارے فرض نماز کو ضائع کرنے سے بہتر ہے، جوتمام فرائض سے زیادہ مؤکد ہے۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ اگر تم اس حقیقت کو جانتے ہو کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، وہ بہتر اور زیادہ باقی رہنے والا ہے اور جو کوئی دنیا کو دین پر ترجیح دیتا ہے وہ حقیقی خسارے میں پڑتا ہے جبکہ وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ نفع حاصل کر رہا ہے ۔
[10] خرید و فروخت کو چھوڑ دینے کا یہ حکم صرف جمعہ کی نماز کی مدت تک کے لیے ہے۔﴿ فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانۡتَشِرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’پس جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ۔‘‘ کام کاج اور تجارت کے لیے ، چونکہ تجارت میں مشغول ہونا، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہونے کا مقام ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کی کثرت کا حکم دیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے تلافی ہو جائے، چنانچہ فرمایا :﴿ وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ كَثِيۡرًا﴾ یعنی اپنے کھڑے ہونے، بیٹھنے اور اپنے لیٹنے کے احوال میں کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ ﴿ لَّعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾ ’’تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘ کیونکہ ذکر الٰہی کی کثرت فلاح کا سب سے بڑا سبب ہے۔
[11]﴿ وَاِذَا رَاَوۡا تِجَارَةً اَوۡ لَهۡوَنِا انۡفَضُّوۡۤا اِلَيۡهَا﴾ ’’جب وہ کوئی سودا بکتا یا لہو ولعب دیکھتے ہیں تو اس لہو ولعب یا تجارت کی حرص میں مسجد سے باہر نکل جاتے ہیں اور بھلائی کو چھوڑ دیتے ہیں ﴿ وَتَرَؔكُوۡكَ قَآىِٕمًا﴾ اور آپ لوگوں کو کھڑے خطاب کرتے رہ جاتے ہیں۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا، نبی اکرمﷺ لوگوں کو (جمعہ کا) خطبہ دے رہے تھے کہ مدینہ منورہ میں ایک تجارتی قافلہ آیا۔ جب لوگوں نے مسجد میں قافلے کی آمد کے بارے میں سنا تو وہ مسجد سے نکل گئے اور ایک ایسے معاملے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسول اللہﷺ کو خطبہ دیتے چھوڑ دیا، جس کے لیے عجلت میں ادب کو ترک کر مناسب نہ تھا۔﴿قُلۡ مَا عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾ ’’کہہ دیجیے! جو اللہ کے پاس ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اس شخص کے لیے جو بھلائی کا التزام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت پر اپنے نفس کو صبر کا خوگر بناتا ہے، جو اجر و ثواب ہے ﴿ خَيۡرٌ مِّنَ اللَّهۡوِ وَمِنَ التِّؔجَارَةِ﴾ وہ لہو و لعب اور اس تجارت سے بہتر ہے جس سے اگر چہ بعض مقاصد حاصل ہوتے ہیں تاہم وہ بہت قلیل، ختم ہونے والے رزق اور آخرت کی بھلائی کو فوت کر دینے والے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر رزق کو فوت نہیں کرتا کیونکہ اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے، جہاں سے اس کے وہم و گمان میں نہیں ہوتا۔
ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں:(۱)اہل ایمان پر جمعہ کی نماز فرض ہے، اس میں شرکت کے لیے جلدی کرنا، اس کے لیے کوشش کرنا اور اس کا اہتمام کرنا واجب ہے۔(۲)ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن دو خطبے فرض ہیں اور ان میں حاضر ہونا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر کی تفسیر دوخطبوں سے کی ہے، اور اس کی طرف کوشش کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے۔(۳)اس سورۂ مبارکہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت ممنوع اور حرام ہے، اور یہ صرف اس وجہ سے ہے تاکہ واجب سے غافل ہو کر خرید و فروخت میں مشغول ہونے سے واجب فوت نہ ہوجائے ۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ کام جو اصل میں مباح ہو، مگر جب اس سے کسی واجب کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو اس حال میں یہ کام جائز نہیں ہے۔(۴)ان آیات کریمہ میں، جمعہ کے دن دونوں خطبوں میں حاضر ہونے کا حکم ہے اور جو حاضر نہیں ہوتا اس کی مذمت مستفاد ہوتی ہے، دونوں خطبوں میں خاموش رہنا اس کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔(۵) وہ بندہ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ نفس کے لہو و لعب، تجارت اور شہوات میں حاضر ہونے کے دواعی نفس کو وہ بھلائیاں یاد کرائے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی رضا کو اس کی خواہشات پر ترجیح دیتی ہیں۔