Tafsir As-Saadi
63:1 - 63:6

جب آتے ہیں آپ کے پاس منافق تو وہ کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ رسول ہیں اللہ کے اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ رسول ہیں اس کےاور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یقیناً منافق البتہ جھوٹے ہیں(1) انھوں نے بنایا ہے اپنی قسموں کو ڈھال، پس روکا انھوں نے (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے، بلاشبہ وہ برا ہے جو ہیں وہ عمل کرتے(2) یہ اس لیے کہ بلاشبہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو مہر لگا دی گئی اوپر ان کے دلوں کے، پس وہ نہیں سمجھتے(3) اور جب دیکھتے ہیں آپ ان کو تو اچھے لگتے ہیں آپ کو ان کے جسم اور اگر وہ (کوئی بات) کہیں تو آپ کان لگائیں ان کی بات پر گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں ٹیک لگائی ہوئیں وہ گمان کرتے ہیں ہر بلند آواز کو اپنے خلاف ہی وہ دشمن ہیں (پورے) پس آپ بچیں ان سے، ہلاک کرے ان کو اللہ کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(4) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، آؤ استغفار کریں تمھارے لیے رسول اللہ تو موڑ لیتے ہیں وہ اپنے سر اور آپ دیکھیں گے انھیں کہ وہ رکتے ہیں اس حال میں کہ وہ تکبر کرتے ہیں(5) برابر ہے ان پر کیا آپ استغفار کریں ان کے لیے یا نہ استغفار کریں ان کے لیے، ہرگز نہیں بخشے گا اللہ ان کو، بلاشبہ اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق قوم کو(6)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] جب نبی ٔ کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے اور یہاں اسلام نہایت کثرت سے پھیل گیا اور اسے غلبہ حاصل ہوا تو اہل مدینہ، یعنی بنواوس اور بنوخزرج میں سے کچھ لوگ اسلام ظاہر کرنے اور باطن میں کفر رکھنے لگے تاکہ ان کا جاہ باقی، ان کی جان محفوظ اور ان کا مال سلامت رہے ،پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کے ذریعے سے وہ پہچانے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان سے بچیں اور لوگوں کو ان کے بارے میں بصیرت حاصل ہو، چنانچہ فرمایا:﴿ اِذَا جَآءَؔكَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا﴾ جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿ نَشۡهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾ ’’ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ منافقین کی یہ گواہی جھوٹ اور نفاق پر مبنی ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی تائید کے لیے ان کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوۡلُهٗ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں۔‘‘ وہ اپنے قول اور دعوے میں جھوٹے ہیں اور ان کے قول میں کوئی حقیقت نہیں۔
[2]﴿ اِتَّؔخَذُوۡۤا اَيۡمَانَهُمۡ جُنَّةً ﴾ یعنی انھوں نے اپنی قسموں کو ایک ڈھال بنا رکھا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو نفاق سے منسوب ہونے سے بچاتے ہیں ﴿ فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ﴾ انھوں نے خود کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روک رکھا اور دوسرے لوگوں کو بھی روکتے ہیں جن پر ان کا حال مخفی ہے۔ ﴿اِنَّهُمۡ سَآءَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ کچھ شک نہیں یہ جو کام کرتے ہیں، وہ برے ہیں۔‘‘ کہ انھوں نے ایمان ظاہر کیا اور کفر کو چھپایا، اپنے ایمان پر قسمیں کھائیں اور اپنی صداقت کا تأثر دیا۔
[3]﴿ ذٰلِكَ﴾ وہ چیز جس نے ان کے سامنے نفاق کو مزین کر دیا ﴿ بِاَنَّهُمۡ﴾ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم نہیں ہیں، بلکہ ﴿ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’وہ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی۔‘‘ کہ بھلائی ان کے دلوں میں کبھی بھی داخل نہیں ہو سکے گی۔ ﴿ فَهُمۡ لَا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ پس وہ سمجھتے نہیں کہ کون سی چیز انھیں فائدہ دیتی ہےاور وہ یاد نہیں رکھتے کہ کیا چیز ان کے مصالح کے لیے فائدہ مند ہے؟
[4]﴿ وَاِذَا رَاَيۡتَهُمۡ تُعۡجِبُكَ اَجۡسَامُهُمۡ﴾ ’’اور جب آپ انھیں دیکھتے ہیں تو ان کے جسم آپ کو اچھے معلوم ہوتے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی خوش نمائی اور تروتازگی کی وجہ سے ﴿ وَاِنۡ يَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِهِمۡ﴾ یعنی آپ ان کے حسن کلام کی وجہ سے ان کی باتوں کو سن کر لذت حاصل کرتے ہیں۔ پس ان کے اقوال اور اجسام بہت اچھے لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اخلاق فاضلہ ہیں نہ اچھا لائحہ عمل، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ كَاَنَّهُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾ ’’گویا کہ وہ لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگائی گئی ہیں۔‘‘ جن میں کوئی منفعت نہیں ہوتی اور ان سے صرف نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ﴿ يَحۡسَبُوۡنَ كُلَّ صَيۡحَةٍ عَلَيۡهِمۡ﴾ ’’وہ ہر زور کی آواز کو سمجھتے ہیں کہ انھی پر (بلا آئی) ہے۔‘‘ اور یہ ان کی بز دلی، خوف ، دلی کمزوری اور دلوں میں شکوک و شبہات کے سبب سے ہے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں ان باتوں کا پتہ نہ چل جائے۔یہی لوگ ہیں ﴿ هُمُ الۡعَدُوُّ﴾ جو حقیقی دشمن ہیں کیونکہ ظاہر اور پہچاناہوا دشمن اس دشمن کی نسبت کم نقصان دہ ہے جس کے بارے میں معلوم نہ ہو، وہ دھوکے باز اور چالاک ہو اور وہ یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ دوست ہے، حالانکہ وہ کھلا دشمن ہے۔ ﴿ فَاحۡذَرۡهُمۡ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١ٞ اَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾’’پس آپ ان سے بچیں، اللہ انھیں ہلاک کرے، یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں؟‘‘ دین اسلام کے دلائل واضح ہو جانے اور اس کے کارنامے نمایاں ہو جانے کے بعد بھی دین اسلام کو چھوڑ کر کفر کی طرف کیسے مائل ہو رہے ہیں ، جو انھیں خسارے اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
[5]﴿ وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ﴾ یعنی جب ان منافقین سے کہا جاتا ہے ﴿ تَعَالَوۡا يَسۡتَغۡفِرۡ لَكُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ﴾آؤ تاکہ رسول تمھارے ان گناہوں کے بارے میں تمھارے لیے استغفار کریں جو تم سے صادر ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے احوال درست اور تمھارے اعمال قبول ہوں مگر وہ نہایت شدت سے ایسا کرنے سے رکے رہے۔ ﴿ لَوَّوۡا رُءُوۡسَهُمۡ﴾ ’’تو اپنے سر ہلادیتے ہیں۔‘‘ رسول سے دعا طلب کرنے سے بچنے کے لیے۔ ﴿ وَرَاَيۡتَهُمۡ يَصُدُّوۡنَ﴾ ’’اور آپ انھیں دیکھتے کہ وہ حق کے ساتھ بغض کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے رک جاتے ہیں ﴿ وَهُمۡ مُّسۡتَكۡبِرُوۡنَ﴾ اور وہ سرکشی ، عناد اور تکبر کی بنا پر حق کی اتباع نہیں کرتے۔جب رسول اللہ ﷺ سے مغفرت کی دعا کرانے کے لیے ان کو بلایا جاتا ہے تو ان کی یہ حالت ہوتی ہے (جس کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے)۔
[6] اور یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ پر لطف و کرم ہے کہ وہ آپ سے مغفرت کی دعا کروانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ رسول اللہﷺ ان کے لیے مغفرت طلب کریں یا نہ کریں، ان پر برابر ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نافرمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکلے ہوئے اور ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں، اس لیے رسول (ﷺ) کا استغفار انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ١ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡ﴾(التوبہ: 9؍80) ’’آپ ان کے لیے استغفار کریں، یا ان کے لیے استغفار نہ کریں، اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں اللہ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ﴾ ’’اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرتا۔‘‘