اے نبی! جب طلاق دو تم عورتوں (بیویوں) کو تو طلاق دو تم انھیں ان کی عدت کے (آغاز) میں اور شمار کرو تم عدت کو، اور ڈرو تم اللہ ( یعنی ) اپنے رب سے، نہ نکالو تم انھیں ان کے گھروں سے اور نہ وہ (خود) نکلیں مگر یہ کہ کریں وہ کوئی بے حیائی ظاہر اور یہ حدیں ہیں اللہ کی، اور جو کوئی تجاوز کرے حدود اللہ سے تو تحقیق اس نے ظلم کیا اپنے نفس پر، (طلاق دینے والے!) نہیں جانتا تو شاید کہ اللہ پیدا کر دے بعد اس (طلاق) کے کوئی (نئی) بات(1) پس جب پہنچیں وہ اپنی عدت (ختم ہونے) کو تو تم روک رکھو انھیں معروف طریقے سے یا جدا کر دو انھیں معروف طریقے سے اور گواہ بنا لو تم دو صاحب عدل آدمی اپنے میں سے، اور قائم کرو گواہی اللہ کے لیے یہ (حکم ہے وہ کہ) نصیحت کی جاتی ہے اس کی اس شخص کو جو ایمان لاتا ہے ساتھ اللہ اور دن قیامت کے، اور جو کوئی ڈرتا ہے اللہ سے تو وہ بنا دیتا ہے اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ(2) اور رزق دیتا ہے اسے جہاں سے نہیں گمان کرتا وہ، اور جو کوئی توکل کرے گا اللہ پر تو وہ کافی ہے اسے، بلاشبہ اللہ پورا کرنے والا ہے اپنا کام تحقیق مقرر کیا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور اہل ایمان سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ﴾ ’’اے نبی! جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو۔‘‘ یعنی طلاق دینے کا ارادہ کرو۔ ﴿فَـــ﴾’’پس‘‘تم ان کو طلاق دینے کے لیے مشروع وجۂ طلاق تلاش کرو، جب طلاق کا سبب مل جائے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی رعایت رکھے بغیر طلاق دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ ﴿ طَلِّقُوۡهُنَّ۠ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ ’’انھیں ان عدت کے (آغاز) وقت میں طلاق دو۔‘‘ یعنی ان کو ان کی عدت کے لیے طلاق دو، وہ اس طرح کہ شوہر اپنی بیوی کو اس کے طاہر ہونے کی حالت میں، نیز اس طہر میں اس سے مجامعت کیے بغیر طلاق دے۔ پس یہی وہ طلاق ہے جس میں عدت واضح ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اگر اس نے اپنی بیوی کے حیض کی حالت میں طلاق دی تو وہ اس حیض کو شمار نہیں کرے گی جس کے دوران طلاق واقع ہوئی ہے تو اس سبب سے اس پر عدت کا عرصہ طویل ہو جائے گا۔اس طرح اگر اس نے ایسے طہر میں طلاق دی ہو جس میں مجامعت کی گئی ہو تو اس طرح وہ حمل سے مامون نہ ہو گی، لہٰذا واضح نہ ہو گا کہ وہ کون سی عدت شمار کرےجبکہ اللہ تعالیٰ نے عدت شمار کرنے کا حکم دیا ہے ﴿وَ اَحۡصُوا الۡعِدَّۃَ﴾یعنی اسے حیض کے ذریعے سے شمار کیا جائے۔ اگر بیوی کو حیض آتا ہے تو عدت کو حیض سے ضبط کرنا ہے اور اگر اس کو حیض نہ آتا ہو اور وہ حاملہ بھی نہ ہو تو اس کی عدت مہینوں کے ساتھ شمار کی جائے گی۔ عدت کے شمار کرنے میں اللہ تعالیٰ، طلاق دینے والے شوہر اور بعد میں نکاح کرنے والے شوہر کے حقوق کی ادائیگی ہے، نیز اس میں مطلقہ کے نان و نفقہ وغیرہ کے حق کی ادائیگی ہے۔ پس جب عدت کو ضبط میں لایا جائے گا تو اس (کے حمل یا حیض وغیرہ) کا حال واضح طور پر معلوم ہو گا اور اس عدت پر مرتب ہونے والے حقوق معلوم ہوں گے۔عدت شمار کرنے کے اس حکم کا رخ شوہر اور بیوی کی طرف ہے، اگر بیوی مکلف ہے، ورنہ اس کے سر پرست کی طرف ہے۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمۡ﴾ یعنی اپنے تمام امور میں تقویٰ اختیار کرو اور مطلقہ بیویوں کے حق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿ لَا تُخۡرِجُوۡهُنَّ مِنۢۡ بُيُوۡتِهِنَّ﴾ عدت کی مدت کے دوران ان کو اپنے گھروں سے نہ نکالو بلکہ مطلقہ اس گھر میں رہے جس گھر میں شوہر نے اس کو طلاق دی ہے ﴿ وَلَا يَخۡرُجۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ خود نکلیں۔‘‘ یعنی مطلقہ بیویوں کے لیے ان گھروں سے نکلنا جائز نہیں ہے۔مطلقہ کو گھر سے نکالنے کی ممانعت کا سبب یہ ہے کہ بیوی کو گھر فراہم کرنا شوہر پر واجب ہے تاکہ وہ اس گھر میں رہ کر عدت پوری کر سکے، جو شوہر کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔ اور مطلقہ بیوی کے خود گھر سے نکلنے کی ممانعت اس لیے ہے کہ اس کا گھر سے نکلنا شوہر کے حق کو ضائع کرنا اور اس کی عدم حفاظت ہے۔ طلاق یافتہ عورتوں کا خود گھر سے نکلنے یا ان کو نکالے جانے کا حکم عدت کو پورا ہونے تک باقی رہے گا۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يَّاۡتِيۡنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ﴾ ’’مگر یہ کہ وہ صریح بے حیائی کریں۔‘‘ یعنی ان سے کوئی واضح طور پر قبیح فعل سرزد ہو جو ان کو گھر سے نکالنے کا موجب ہو اور مطلقہ کو گھر سے نہ نکالنے سے گھر والوں کو ضرر پہنچتا ہو، مثلاً: فحش اقوال و افعال کے ذریعے سے اذیت وغیرہ۔ اس صورت حال میں مطلقہ کو گھر سے نکال دینا، گھر والوں کے لیے جائز ہے، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو گھر سے نکالنے کا سبب بنی ہے، حالانکہ گھر میں سکونت کی اجازت دینا مطلقہ کی دل جوئی اور اس کے ساتھ نرمی ہے اور اپنے آپ پر اس ضرر کا سبب وہ خود بنی ہے۔ یہ حکم اس مطلقہ کے لیے ہے جو رجعی طلاق کی عدت گزار رہی ہو۔ رہی وہ مطلقہ جس کی طلاق بائنہ ہو، اس کو سکونت فراہم کرنا واجب نہیں کیونکہ سکونت نان و نفقہ کے تابع ہے اور نان و نفقہ صرف اس مطلقہ کے لیے ہے جسے رجعی طلاق دی گئی ہو اور جس کو طلاق بائنہ دی گئی ہو، اس کے لیے نان و نفقہ نہیں ہے۔ ﴿ تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’یہ اللہ کی حدیں ہیں۔‘‘ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کر کے مشروع کیا ہے اور ان حدود کا التزام کرنے اور ان پر ٹھہرنے کا ان کو حکم دیا ہے ﴿ وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے۔‘‘ وہ اس طرح کہ وہ ان مقرر کردہ حدود پر نہ ٹھہرے بلکہ ان حدود سے تجاوز یا کوتاہی کرے ﴿ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ﴾ ’’تو یقیناً اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنا حق کم کیا اور اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی اتباع میں سے، جن میں دنیا و آخرت کی اصلاح ہے، اپنے حصے کو ضائع کیا۔ ﴿ لَا تَدۡرِيۡ لَعَلَّ اللّٰهَ يُحۡدِثُ بَعۡدَ ذٰلِكَ اَمۡرًا﴾ ’’تجھے کیا معلوم شاید اللہ اس کے بعد کوئی سبیل پیدا کردے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے عظیم حکمتوں کی بنا پر طلاق کو مشروع کر کے، اس کو عدت کے ذریعے سے محدود کیا ہے۔ان حکمتوں میں سے چند درج ذیل ہیں:(۱) عدت کی حکمت میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ طلاق دینے والے کے دل میں رحمت اور مودت پیدا کر دے اور طلاق دینے والا اس سے رجوع کر لے اور نئے سرے سے اس کے ساتھ رہنا سہنا شروع کر دے۔ یہ چیز ( یعنی مطلقہ سے رجوع کرنا)عدت کی مدت کی معرفت ہی سے ممکن ہے۔(۲)ہو سکتا ہے شوہر نے بیوی کی طرف سے کسی سبب کی بنا پر اس کو طلاق دی ہو اور عدت کی مدت میں وہ سبب دور ہو جائے تو وہ اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کر لے کیونکہ طلاق کا سبب ختم ہو گیا ہے۔(۳) ان حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ ہے کہ عدت کی مدت کے دوران اس خاوند کے حمل سے مطلقہ کے رحم کی براء ت معلوم ہو جائے گی۔
[2]﴿ فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ﴾ یعنی جب طلاق یافتہ عورتیں عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں کیونکہ اگر انھوں نے عدت پوری کر لی تو شوہر کے پاس مطلقہ کو روک رکھنے یا جدا کر دینے کا اختیار نہیں رہتا۔ ﴿ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی ضرر پہنچانے کے لیے یا برائی اور محض محبوس رکھنے کے ارادے سے نہیں بلکہ حسن معاشرت اور صحبت جمیلہ کے طور پر ان کو روک لو، کیونکہ برائی اور محبوس رکھنے کے ارادے سے مطلقہ کو روکے رکھنا جائز نہیں۔ ﴿ اَوۡ فَارِقُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾ یعنی اس طرح سے جدا کرنا کہ اس میں کوئی محذور امر نہ ہو، باہم گالی گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے بغیر اور نہ مطلقہ کے مال میں سے کچھ لینے ہی کے لیے اس پر کوئی سختی ہو۔ ﴿ وَّاَشۡهِدُوۡا﴾ اور اس کی طلاق اور رجوع پر گواہ بنا لو ﴿ ذَوَيۡ عَدۡلٍ مِّؔنۡكُمۡ﴾ اپنے (مسلمانوں) میں سے دو عادل مردوں کو، کیونکہ مذکورہ گواہی میں مخاصمت کا اور ان دونوں کی طرف سے ایسے امور کے کتمان کا سدباب ہے جن کو بیان کرنا لازم ہے ﴿ وَاَقِيۡمُوا﴾ اے گواہو! ٹھیک ٹھیک ادا کرو۔ ﴿ الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ﴾’’گواہی اللہ کے لیے۔‘‘ یعنی کسی کمی بیشی کے بغیر گواہی کو اسی طرح ادا کرو جس طرح کہ وہ حقیقت میں ہے اور گواہی دینے میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھو اور گواہی میں کسی رشتہ دار کی، اس کی رشتہ داری اور کسی دوست کی، اس کی محبت کی وجہ سے رعایت نہ رکھو۔﴿ ذٰلِكُمۡ﴾ ’’یہ‘‘ جو تمھارے سامنے احکام اور حدود بیان کی ہیں ﴿ يُوۡعَظُ بِهٖ مَنۡ كَانَ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ﴾ ’’ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان، صاحب ایمان پر واجب ٹھہراتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ سے نصیحت حاصل کرے اور جتنے بھی نیک اعمال ممکن ہیں ،اپنی آخرت کے لیے آگے بھیجے۔ اس شخص کے برعکس جس کے دل سے ایمان کوچ کر گیا، پس اسے کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اس نے کیا برائی آگے بھیجی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے مواعظ کی تعظیم نہیں کرتا کیونکہ اس کا موجب معدوم ہے۔چونکہ طلاق کبھی کبھی تنگی، کرب اور غم میں مبتلا کر دیتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا ہے اور اس شخص کے ساتھ، جو طلاق وغیرہ میں تقویٰ پر مبنی رویہ اختیار کرتا ہے، وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کے لیے کشادگی اور (رنج و غم سے) نجات کی راہ نکالے گا۔پس جو کوئی طلاق کا ارادہ کرے تو وہ شرعی طریقے سے طلاق دے اور وہ یہ ہے کہ ایک ہی طلاق دے اور وہ حیض میں ہونہ ایسے طہر میں جس میں اس نے مطلقہ کے ساتھ مجامعت کی ہو، تو اس کے لیے معاملہ تنگی کا حامل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے فراخی اور وسعت پیدا کرتا ہے، جب اسے طلاق پر ندامت ہوتی ہے تو نکاح کے لیے مطلقہ کی طرف رجوع کرنا ممکن ہوتا ہے۔آیت کریمہ اگرچہ طلاق اور رجوع کے سیاق میں ہے مگر اعتبار عمومِ لفظ کا ہے ،پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اپنے احوال میں اس کی رضا کا التزام کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اسے ثواب سے بہرہ مند کرتا ہے۔ منجملہ اس کا ثواب یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی سختی اور مشقت میں سے اس کے لیے فراخی اور نجات کا راستہ پیدا کرتا ہے، جیسا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے فراخی اور نجات کی راہ نکالتا ہے اور جو کوئی اس سے نہیں ڈرتا وہ بوجھ تلے اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا پڑا رہتا ہے جن سے گلو خلاصی اور ان کے ضرر سے نکلنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ طلاق کے معاملے میں اس پر غور کیجیے کیونکہ جب بندہ طلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، بلکہ حرام کردہ طریقے سے طلاق دیتا ہے، مثلاً: یک بارگی تینوں طلاقیں دے دیناوغیرہ تو اسے ایسی پشیمانی ہو گی کہ جس کا تدارک کرنا اور اس سے نجات حاصل کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو گا۔
[3] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّيَرۡزُقۡهُ مِنۡ حَيۡثُ لَا يَحۡتَسِبُ﴾ اللہ تعالیٰ متقی شخص کے لیے ایسی جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے رزق کا آنا اس کے وہم و گمان میں ہوتا ہے نہ اسے اس کا شعور ہوتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ يَّتَوَؔكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ﴾ اور جو کوئی اپنے دین اور دنیا کے معاملات میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتا ہے، یعنی کسی چیز کے حصول میں جو اس کے لیے نفع مند ہو اور کسی چیز کو دور ہٹانے میں جو اس کے لیے ضرر رساں ہو، اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور اس میں آسانی پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے ﴿ فَهُوَ حَسۡبُهٗ﴾ تو وہ اس معاملے میں اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے ، جس میں اس نے اس پر بھروسہ کیا تھا۔ جب معاملہ غنی، قوی، غالب اور نہایت رحم والی ہستی کی کفالت میں ہے تو وہ ہستی بندے کے ہر چیز سے زیادہ قریب ہے۔ مگر بسا اوقات حکمت الٰہیہ مناسب وقت تک اس کی تاخیر کا تقاضا کرتی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمۡرِهٖ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے کام کو پورا کردیتا ہے۔‘‘ یعنی اس کی قضا و قدر کا نافذ ہونا لازمی امر ہے، مگر ﴿قَدۡ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَيۡءٍ قَدۡرًؔا﴾ اس نے ایک وقت اور ایک مقدار مقررکر رکھی ہے جس سے یہ چیز تجاوز کرتی ہے نہ کوتاہی کرتی ہے۔