Tafsir As-Saadi
42:32 - 42:35

اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں چلنے والی کشتیاں سمندر میں، مانند پہاڑوں کے (32) اگر وہ چاہے تو ٹھہرا دے ہوا کو، تو ہو جائیں وہ (کشتیاں)کھڑی ہونے والی اس (سمندر) کی سطح پر، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں واسطے ہر صابر، شاکرکے (33) یا (چاہے تو) تباہ کر دے ان کو بسبب اس کےجو انھوں نے کمایا اور (چاہے تو) درگزر کر دے بہت سوں سے (34) اور (تاکہ) جان لیں وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں ہماری آیتوں میں کہ نہیں ہے ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ (35)

[32] یعنی اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کے جملہ دلائل میں سے ایک دلیل ﴿الۡجَوَارِ فِي الۡبَحۡرِ ﴾ ’’سمندر میں جہاز‘‘ کشتیاں، دخانی اور بادبانی جہاز ہیں جو اپنی بڑی جسامت کی بنا پر ﴿كَالۡاَعۡلَامِ﴾ بڑے بڑے پہاڑ دکھائی دیتے ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو مسخر کر دیا اور متلاطم موجوں سے ان کی حفاظت کی، یہ کشتیاں انھیں اور ان کے سامان تجارت کو دور دور ملکوں اور شہروں تک لے جاتی ہیں اور ان کے لیے ایسے اسباب مہیا کیے جو ان کو ان ملکوں اور شہروں تک جانے میں مدد دیتے ہیں۔
[33، 34] پھر اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُسۡكِنِ الرِّيۡحَ ﴾ ’’اگر وہ (اللہ) چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے۔‘‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کشتیوں کے چلنے کا سبب بنایا ہے، ﴿فَيَظۡلَلۡنَ ﴾ ’’اور وہ رہ جائیں۔‘‘ یعنی مختلف انواع کی کشتیاں ﴿رَوَاكِدَ ﴾ سطح سمندر پر ٹھہر جائیں، آگے بڑھیں نہ پیچھے ہٹیں۔ یہ چیز دخانی کشتیوں کے متناقض نہیں ہے کیونکہ دخانی کشتیوں کے چلنے کے لیے ہوا کا موجود ہونا شرط ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کشتیوں کو، ان پر سوار ہونے والوں کے کرتوتوں کے سبب سے تباہ کر دے یعنی سمندر میں غرق کر کے تلف کر دے، مگر وہ حلم سے کام لیتا ہے اور بہت سے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ ﴾ ’’بے شک صبر شکر کرنے والوں کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔‘‘ یعنی جو ان امور پر بہت صبر کرنے والا ہے جن کو اس کا نفس ناپسند کرتا ہے اور اس پر یہ امور شاق گزرتے ہیں وہ اپنے نفس کو اس مشقت اور اطاعت پر مجبور کرتا ہے، معصیت کے داعی کو اور مصیبت کے وقت نفس کو اللہ تعالیٰ پر ناراضی سے روکتا ہے ﴿شَكُوۡرٍ﴾ نعمتوں اور آسودہ حالی میں شکر ادا کرتا ہے، وہ اپنے رب کی نعمتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے سامنے سرنگوں ہوتا ہے اور ان نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق صرف کرتا ہے۔ پس یہی وہ شخص ہے جو آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ رہا وہ شخص جو صبر سے بہرہ ور ہے نہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر کرتا ہے تو یہ شخص یا تو آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والا یا ان سے عناد رکھنے والا ہے، وہ آیات الٰہی سے مستفید نہیں ہوسکتا۔
[35] پھر فرمایا: ﴿وَّيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ يُجَادِلُوۡنَ فِيۡۤ اٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘تاکہ اپنے باطل نظریے کے ذریعے سے انھیں جھٹلاتے ہیں۔ ﴿مَا لَهُمۡ مِّنۡ مَّحِيۡصٍ ﴾ اس عذاب سے انھیں کوئی بچا نہیں سکے گا جو ان پر نازل ہو گا۔