Tafsir As-Saadi
65:8 - 65:12

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ سرکشی کی انھوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے امر سے تو ہم نے حساب لیا ان سے حساب سخت اور عذاب دیا ہم نے انھیں عذاب ہولناک(8) پس چکھا (ان بستیوں نے) وبال اپنے کام کا اور تھا انجام ان کے کام کا خسارہ ہی(9) تیار کیا ہے اللہ نے ان کے لیے عذاب شدید، پس ڈرو تم اللہ سے اے عقل مندو ! وہ لوگ جو ایمان لائے، تحقیق نازل کیا ہے اللہ نے تمھاری طرف ذکر (10)(یعنی ) رسول، وہ تلاوت کرتا ہے تم پر آیتیں اللہ کی واضح تاکہ وہ نکالے ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، اندھیروں سے نور کی طرف اور جو کوئی ایمان لائے ساتھ اللہ کے اور عمل کرے نیک تو وہ داخل کرے گا اسے ایسے باغات میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، تحقیق اچھا دیا اللہ نے اس کو رزق (11) اللہ وہ ذات ہے جس نے پیدا کیے سات آسمان اور زمینیں بھی مثل ان (آسمانوں) کی،نازل ہوتا ہے (اس کا) حکم ان کے درمیان تاکہ تم جان لو بلاشبہ اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے اور بلاشبہ اللہ نے تحقیق گھیر رکھا ہے ہر چیز کو باعتبار علم کے (12)

[10-8] اللہ تبارک و تعالیٰ سرکش قوموں اور رسولوں کی تکذیب کرنے والے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں آگاہ فرماتے ہیں کہ جب سخت اور درد ناک عذاب کا وقت آیا تو ان کی کثرت اور قوت ان کے کسی کام نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کا مزہ چکھایا جو ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا۔ دنیا کے عذاب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ يٰۤاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾ ’’پس ڈرو اللہ سے اے عقل رکھنے والو!‘‘ یعنی ایسی عقل جو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کی عبرتوں اور اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ اسی ہستی نے گزرے ہوئے زمانے کے لوگوں کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کیا تو ان کے بعد آنے والے انھی کی مانند ہیں، دونوں گروہوں میں کوئی فرق نہیں۔
[11] پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کا ذکر کیا جو اس کتاب پر ایمان لائے جو اس نے ان پر نازل کی، جو اس نے اپنے رسول محمد مصطفیﷺ پر اتاری تاکہ وہ مخلوق کو کفر، جہالت اور معصیت کی تاریکیوں سے نکال کرعلم و ایمان اور اطاعت کی روشنی میں لائے، پس کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئے اور ان میں سے کچھ لوگ ایمان نہیں لائے۔ ﴿ وَمَنۡ يُّؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَيَعۡمَلۡ صَالِحًا﴾ ’’اور جو ایمان لائے اللہ پر اور نیک عمل کرے ۔‘‘ یعنی واجبات و مستحبات پر عمل کرے ﴿ يُّدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اس کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ایسی ایسی نعمتیں ہوں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان کا تصور آیا ہے۔ ﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ قَدۡ اَحۡسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزۡقًا﴾ ’’وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ نے انھیں خوب رزق دیا ہے۔‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو یہی لوگ جہنمی ہیں وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔
[12] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ اس نے تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والوں، ساتوں زمینوں اور ان پر بسنے والوں اور ان تمام چیزوں کو پیدا کیا جو ان کے درمیان ہیں، اور اس نے اپنا امر نازل فرمایا اور وہ ہیں شرائع اور دینی احکام، جن کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو وعظ و نصیحت کے لیے اپنے رسولوں پر وحی کیا۔ اسی طرح اس نے تکوینی اور قدری احکام نازل فرمائے، جن کے ذریعے سے وہ تمام مخلوق کی تدبیر کرتا ہے، یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ بندے اس کو پہچانیں اور جان لیں کہ اس کی قدرت تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے۔ جب وہ اس کو اس کے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف مقدسہ کے ذریعے سے پہچان لیں گے تو وہ اس کی عبادت کریں گے، اس سے محبت کریں گے اور اس کے حقوق کو ادا کریں گے۔ خلق و امر کا یہی مقصد ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول اور اس کی عبادت، پس اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں میں سے جن کو توفیق سے بہرہ مندہ کیا گیا ہے وہ اس مقصد کو پورا کر رہے ہیں جبکہ ظالم اور روگردانی کرنے والے لوگ اس سے روگرداں ہیں۔