اے نبی! کیوں حرام کرتے ہیں آپ اس چیز کو جو حلال کی ہے اللہ نے آپ کے لیے ؟ چاہتے ہیں آپ رضا مندی اپنی بیویوں کی، اور اللہ خوب بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے(1) تحقیق فرض کر دیا ہے اللہ نے تمھارے لیے کھولنا (توڑنا) تمھاری قسموں کا اور اللہ کارساز ہے تمھارا، اور وہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے(2) اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی بعض بیویوں سے ایک بات،پس جب خبر دی اس (بیوی) نے اس (بات) کی اور ظاہر کر دیا اس کو اللہ نے اس (نبی) پر تو اس (نبی) نے بتلا دی کچھ (بات) اس میں سے اور اعراض کیا کچھ سے ، پس جب خبر دی نبی نے اس (بیوی) کو اس کی تو اس نے کہا، کس نے خبر دی ہے آپ کو اس (بات ) کی؟نبی نے فرمایا، خبر دی ہے مجھے (اللہ) علیم خبیر نے(3) اگر توبہ کرو تم دونوں اللہ کی طرف (تو بہتر ہے) پس تحقیق ہٹ گئے ہیں تمھارے دل ،اور اگر تم دونوں ایک دوسری کی مدد کرو گی آپ کے مقابلے میں تو بلاشبہ اللہ وہی ہے مدد گار آپ کا اور جبریل اور صالح ایمان دار، اور (تمام) فرشتے (بھی) بعد اس کےمدد گار ہیں(4) امید ہے کہ آپ کا رب، اگر وہ (نبی) طلاق دے دے تمھیں، یہ کہ بدلے میں دے دے اس کو بیویاں افضل تم سے مسلمان، مومن، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزے دار، شوہر دیدہ اور کنواریاں(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد ﷺ پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ r یا شہد کو ایک معروف واقعے کے مطابق اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ﴾ اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ﴿ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾ آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ ﴿ تَبۡتَغِيۡ﴾ ’’آپ چاہتے ہیں ‘‘ اس تحریم کے ذریعے سے ﴿ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِكَ١ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌؔ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اپنی بیویوں کی رضامندی، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺکو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کر دیا اور آپ پر رحم فرمایا۔
[2] اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی، چنانچہ فرمایا :﴿ قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ﴾ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری قسمیں کھولنا (توڑنا)، فرض کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کر دیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلا جا سکے اور وہ کفارہ بتلادیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے:﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ ۰۰ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَيِّبًا١۪ وَّاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ۰۰لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغۡوِ فِيۡۤ اَيۡمَانِكُمۡ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ١ۚ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ ﴾(المائدہ:5؍87 ، 89) ’’اے ایمان والو! تم ان پاک چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ، جن کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور حد سے نہ بڑھو اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اللہ تمھاری قسموں میں سے لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو، تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو، یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، پھر جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے، جب تم قسم کھاؤ (اور توڑ دو) تو یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے۔‘‘ پس ہر وہ شخص جو کسی حلال طعام، مشروب یا لونڈی کو حرام ٹھہرائے یا کسی فعل یا ترک پر اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، پھر وہ قسم کو توڑ دے یا توڑنے کا ارادہ کرے تو اس پر یہ مذکورہ کفارے کی ادائیگی واجب ہے۔فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ مَوۡلٰىكُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے امور کی سرپرستی کرنے والا ہے اور تمھارے دین و دنیا کے امور میں تمھاری بہترین طریقے سے تربیت کرنے والا ہے، جس کے سبب سے تم سے شر دور ہوتا ہے۔ بنابریں اس نے تمھاری قسمیں حلال کرنے کے لیے تمھارے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا، تاکہ تم پر جو ذمہ داری ہے وہ پوری ہو جائے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ﴾ جس کے علم نے تمھارے ظواہر اور بواطن کا احاطہ کر رکھا ہے اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اور اس نے حکم دیا ہے، وہ اس میں حکمت کو ملحوظ رکھنے والا ہے اس لیے اس نے تمھارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ تمھارے مصالح کے موافق اور تمھارے احوال کے لیے مناسب ہیں۔
[3]﴿ وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا﴾ ’’اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی)۔‘‘ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنین حضرت حفصہrہیں، ان کو نبی ٔاکرم ﷺ نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں، پس انھوں نے یہ بات حضرت عائشہr کو بتا دی۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہr نے افشا کر دی تھی، نبی اکرم ﷺ کو آگاہ کر دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنے حلم اور کرم کی بنا پر اس بات میں سے جو انھوں نے افشاء کی تھی کچھ بات حضرت حفصہr کو بتا دی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا ﴿قَالَتۡ﴾ حضرت حفصہ r نے آپ سے عرض کیا: ﴿ مَنۡ اَنۢۡبـَاَكَ هٰؔذَا﴾ یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگا ہ کیا، جو ہم سے باہر نہیں نکلی؟ ﴿ قَالَ نَبَّاَنِيَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ﴾ ’’مجھے علیم وخبیر نے خبر دی ہے ۔‘‘ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے۔
[4]﴿ اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُكُمَا﴾ خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ w کی طرف ہے، جو اس بات کا سبب بنیں، کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا، ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انھیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہو گئے جو ان کے لائق تھی ، یعنی ورع اور رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ﴿ وَاِنۡ تَظٰهَرَا عَلَيۡهِ﴾ اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی، جو آپ پر شاق گزرتا ہے اور تمھاری طرف سے یہ رویہ دائم رہا ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰىهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ١ۚ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ بَعۡدَ ذٰلِكَ ظَهِيۡرٌ﴾ ’’تو اللہ اور جبریل نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔‘‘ یہ سب رسول ﷺ کے اعوان و مددگار ہیں، اور جس کے اعوان و انصار یہ لوگ ہوں وہ مدد یافتہ ہے اور دوسرے لوگ، جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بے یار و مددگار چھوڑے ہوئے ہیں۔یہ سیدالمرسلین رسول مصطفیٰﷺ کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا شرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم ﷺ کے اعوان و انصار مقرر فرمایا۔ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے۔
[5] پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عورتوں پر بے حد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے، اس لیے فرمایا :﴿ عَسٰؔى رَبُّهٗۤ اِنۡ طَلَّقَكُنَّ اَنۡ يُّبۡدِلَهٗۤ اَزۡوَاجًا خَيۡرًا مِّؔنۡؔكُنَّ﴾ یعنی تم رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اگر وہ تمھیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہو گا اور نہ وہ تمھارے محتاج ہی ہوں گے کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ (تمھارے بدلے میں) آپ کو ایسی بیویاں عطا کر دے گا جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں گی۔ یہ ایسی تعلیق کے باب میں سے ہے جس کا وجود نہیں اور نہ اس کا وجود لازم ہے۔ کیونکہ آپ نے ان ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور اگر آپ طلاق دے دیتے تو وہی ہوتا جو ان ازواج مطہرات کے بارے میں ذکر فرمایا ہے، وہ اسلام جو کہ ظاہری شریعت کو قائم کرنے کا نام ہے اور ایمان جو باطنی شریعت عقائد اور اعمال قلوب کو کرنے کا نام ہے، دونوں کی جامع ہوتیں۔ (قَنُوت)سے مراد دائمی اطاعت اور اطاعت پر استمرار ہے ۔﴿ تٰٓؔىِٕبٰؔتٍ﴾ وہ ان امور سے توبہ کرنے والی ہوں گی جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے امور کو قائم کرنے سے موصوف فرمایا جن کو وہ پسند کرتا ہے اور ان کو ایسے امور سے اجتناب کرنے سے موصوف فرمایا جو اسے ناپسند ہیں ﴿ثَيِّبٰؔتٍ وَّاَبۡكَارًا﴾ یعنی ان میں بعض ثیبہ (بیوہ) ہوں گی اور بعض کنواری تاکہ آپ کو اپنی پسند کے مطابق تنوع حاصل ہو۔پس جب ازواج مطہراتg نے یہ تخویف اور تادیب سنی تو وہ رسول اللہ ﷺ کی رضا جوئی کے لیے جلدی سے آگے بڑھیں، پس یہ مذکور اوصاف ان پر منطبق ہوئے اور وہ مومن عورتوں میں سب سے افضل قرار پائیں۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے مکمل احوال اور اعلی امور کا انتخاب کرتا ہے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے مذکورہ خواتین کو اپنے رسول کے حرم کے لیے باقی رکھنا پسند کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر اور کامل ہیں۔