Tafsir As-Saadi
65:6 - 65:7

تم رکھو انھیں جہاں تم (خود) رہتے ہو اپنی طاقت کے مطابق اور نہ تکلیف دو تم انھیں تاکہ تنگی کرو تم ان پر اور اگر ہوں وہ (مطلقات) حمل والیاں تو تم خرچ کرو ان پر یہاں تک کہ جن لیں وہ اپنا حمل ، پھر اگر وہ (بچے کو) دودھ پلائیں تمھارے لیے تو دو تم انھیں ان کی اجرت اور مشورہ کرو تم آپس میں دستور کے مطابق اور اگر تم آپس میں تنگی کرو تو دودھ پلائے گی اسے کوئی دوسری عورت(6) چاہیے کہ خرچ کرے وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق اور جو شخص کہ تنگ کیا گیا ہو اس پر رزق اس کا تو چاہیے کہ وہ خرچ کرے اس میں سے جو دیا ہے اس کو اللہ نے، نہیں تکلیف دیتا اللہ کسی نفس کو بھی مگر (اسی قدر) جو اس نے دیا ہے اس (نفس) کو عنقریب کر دے گا اللہ بعد تنگی کے آسانی(7)

[6] پیچھے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتیوں کو گھروں سے نکالنے سے روکا ہے اور اس نے طلاق یافتہ عورتوں کو سکونت مہیا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو معروف طریقے سے سکونت مہیا کرنا مقرر فرمایا اور اس سے مراد ایسا گھر ہے جس میں شوہر کی تونگری یا عسرت کے مطابق ان کے ہم مرتبہ لوگ رہتے ہیں۔ ﴿ وَلَا تُضَآرُّوۡهُنَّ۠ لِتُضَيِّقُوۡا عَلَيۡهِنَّ﴾ یعنی ان کی سکونت کے دوران ان کو اپنے قول و فعل کے ذریعے سے، اس غرض سے تکلیف نہ پہنچاؤ کہ وہ عدت پوری ہونے سے پہلے تنگ آ کر گھروں سے نکل جائیں، اس صورت میں تم ان کو اپنے گھروں سے نکالنے والے شمار ہو گے۔آیت کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مطلقات کو گھروں سے نکالنے سے روکا ہے اور مطلقات کو بھی گھروں سے نکلنے سے منع کیا ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح سکونت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے کہ مطلقات کو کوئی ضرر اور مشقت لاحق نہ ہو اور یہ عرف عام کی طرف راجع ہے۔ ﴿ وَاِنۡ كُنَّ﴾ ’’اور اگر ہوں وہ۔‘‘ یعنی مطلقات ﴿ اُولَاتِ حَمۡلٍ فَاَنۡفِقُوۡا عَلَيۡهِنَّ حَتّٰى يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ﴾ ’’حمل والیاں تو وضع حمل تک ان پر خرچ کرو۔‘‘ اگر طلاق بائنہ ہے تو یہ نان و نفقہ اس حمل کی وجہ سے ہے جو اس کے پیٹ میں ہے اور اگر طلاق رجعی ہے تو یہ نفقہ خود اس کے لیے اور اس کے حمل کے لیے ہے۔ نان و نفقہ کی انتہا وضع حمل تک ہے۔ جب وضع حمل ہو جائے تو وہ اپنے بچوں کو دودھ پلائیں گی یا نہیں پلائیں گی ؟ ﴿ فَاِنۡ اَرۡضَعۡنَ لَكُمۡ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ﴾ ’’پس اگر وہ بچے کو تمھارے کہنے سے دودھ پلائیں تو ان کو ان کی اجرت دو۔‘‘ یعنی طے شدہ اجرت اگر طے کی گئی ہو ورنہ وہ اجرت ادا کی جائے جو اس کے ہم مرتبہ لوگ ادا کرتے ہیں ﴿ وَاۡتَمِرُوۡا بَيۡنَكُمۡ بِمَعۡرُوۡفٍ﴾یعنی میاں بیوی اور دیگر لوگ ایک دوسرے کو معروف کا حکم دیں اور معروف سے مراد ہر وہ کام ہے جس میں دنیا و آخرت کی کوئی منفعت اور مصلحت ہو کیونکہ باہم ایک دوسرے کو معروف کی تلقین کرنے میں غفلت برتنے سے ضرر اور شر کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ نیز باہم معروف کا حکم دینے میں نیکی اور تقویٰ پر تعاون ہے۔اس مقام پر اس بات کا تذکرہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہےکہ اتمام عدت پر، مفارقت کے وقت شوہر اور بیوی کے درمیان، خاص طور پر جب ان دونوں کا مشترکہ بچہ ہو، غالب حالات میں بیوی اور بچے کے نفقہ کے بارے میں جدائی کے ساتھ ساتھ تنازع اور جھگڑا واقع ہو جاتا ہے، جدائی عموماً بغض اور کینہ سے مقرون ہوتی ہے، جس سے بہت سی چیزیں متاثر ہوتی ہیں، لہٰذا دونوں میں سے ہر ایک کو نیکی، حسن معاشرت، عدم مشقت اور عدم منازعت کا حکم دیا جائے اور ان امور میں خیر خواہی کی جائے۔﴿ وَاِنۡ تَعَاسَرۡتُمۡ﴾ ’’اور اگر تم باہم ضد (اور نااتفاقی) کرو۔‘‘ یعنی اگر دونوں میاں بیوی اس امر پر متفق نہ ہوں کہ (مطلقہ) بیوی اپنے بچے کو دودھ پلائے ﴿ فَسَتُرۡضِعُ لَهٗۤ اُخۡرٰى﴾ تو اس مطلقہ بیوی کے علاوہ کوئی دوسری عورت بچے کو دودھ پلائے ۔فرمایا: ﴿ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اِذَا سَلَّمۡتُمۡ مَّاۤ اٰتَيۡتُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ﴾(البقرہ:2؍233) ’’اگر تمھارا ارادہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں، جب تم وہ اجرت معروف طریقے سے ادا کر دو جو تم نے طے کی تھی۔‘‘ یہ اس صورت میں ہے جب بچہ اپنی ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت کا دودھ قبول کرتا ہو۔ اگر بچہ اپنی ماں کے سوا کسی عورت کا دودھ قبول نہ کرتا ہو، تو اس کی ماں رضاعت کے لیے متعین ہو گی اور ماں پر رضاعت واجب ہو گئی اور اگر وہ دودھ پلانے سے انکار کرے تو اس کو دودھ پلانے پر مجبور کیا جائے گا، اور اگر دونوں میں اجرت پر اتفاق نہ ہو سکے تو اس کے لیے ہم مرتبہ دودھ پلانے والی کی اجرت ہے۔یہ حکم اس آیت کریمہ کے معنیٰ سے ماخوذ ہے کیونکہ بچہ جب حمل کی مدت کے دوران اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور وہ تو باہر نہیں آ سکتا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بچے کے ولی پر نفقہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ اور جب بچہ متولد ہوتا ہے اور وہ خوراک اپنی ماں سے یا ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت سے حاصل کر سکتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دونوں صورتیں مباح کر دی ہیں۔ چنانچہ بچہ اگرچہ ایسی حالت میں ہو کہ وہ اپنی ماں کے سوا کہیں سے خوراک نہ لیتا ہوں تو وہ بمنزلہ حمل کے ہے اور اس کی خوراک کے لیے اس کی ماں کو مقرر کیا جائے گا۔
[7] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شوہر کی حیثیت کے مطابق نفقہ مقرر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ لِيُنۡفِقۡ ذُوۡ سَعَةٍ مِّنۡ سَعَتِهٖ﴾ ’’وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔‘‘یعنی دولت مند اپنی دولت کے مطابق خرچ کرے اور اس طرح خرچ نہ کرے جس طرح فقراء خرچ کرتے ہیں۔ ﴿ وَمَنۡ قُدِرَ عَلَيۡهِ رِزۡقُهٗ﴾ ’’اور جسے اس کا رزق نپا تلا ملے۔‘‘ یعنی جو تنگ دستی کا شکار ہو ﴿ فَلۡيُنۡفِقۡ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ﴾ ’’تو وہ اسی (رزق) میں خرچ کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے۔‘‘ ﴿ لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا﴾ ’’اللہ کسی پر اتنی ہی ذمے داری ڈالتا ہے جتنا اس نے اسے دیا۔‘‘ اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت اور رحمت سے مناسبت رکھتی ہے کہ اس نے ہر ایک کو اس کے حسب حال مکلف کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو صرف اتنا ہی مکلف کرتا ہے جتنا اس کو رزق عطا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کسی جان کو نفقہ وغیرہ کے ضمن میں اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔ ﴿ سَيَجۡعَلُ اللّٰهُ بَعۡدَ عُسۡرٍ يُّسۡرًا﴾ یہ تنگ دست لوگوں کے لیے بشارت ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ ان پر سختی کو دور کر دے گا اور مشقت کو اٹھالے گا۔ کیونکہ ﴿ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرًا۰۰ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ يُسۡرً﴾’’ (الانشراح: 94/4، 5) ’’بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔بلاشبہ ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔‘‘