البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا، بے شک اللہ وہی مسیح ابن مریم ہے۔ اور کہا مسیح نے اے بنی اسرائیل! عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی۔ تحقیق جو شریک ٹھہراتا ہے ساتھ اللہ کے تو یقینا حرام کر دی اللہ نے اوپر اس کے جنت اور اس کا ٹھکانا آگ ہےاور نہیں ہے ظالموں کے لیے کوئی مددگار(72) البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ جنھوں نے کہا، بے شک اللہ تیسرا ہے تین میں سے اور نہیں کوئی معبود مگر معبود ایک۔ اور اگر وہ باز نہ آئے اس سے جو کہتے ہیں تو ضرور پہنچے گا، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، عذاب دردناک(73) کیا پس نہیں توبہ کرتے طرف اللہ کی اور بخشش مانگتے اس سےاور اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے(74) نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول ہی، گزر چکے ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول اور ان کی ماں صدیقہ تھی، تھے وہ دونوں کھاتے کھانا۔ دیکھیے! کیسے ہم بیان کرتے ہیں ان کے لیے نشانیاں ، پھر دیکھیے! کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ؟(75)
[72] اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ﴾ ’’بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے‘‘ اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے... دراں حالیکہ عیسیٰu نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا:﴿ يٰبَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيۡ وَرَبَّكُمۡ﴾ ’’اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے‘‘ مسیحu نے اپنے لیے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لیے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ ﴾ ’’جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی، (خواہ وہ عیسیٰu ہوں یا کوئی اور...) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔‘‘﴿ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ الۡجَنَّةَ وَمَاۡوٰىهُ النَّارُ﴾ ’’تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے‘‘ کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔۔، یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت.... اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کر دیا... اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ﴾ ’’اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہو گا‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کر سکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے۔
[73]﴿ لَقَدۡ كَفَرَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ﴾ ’’یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے‘‘ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ، عیسیٰ اور مریم... اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے ... یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انھوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کر لیا؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہو گئے؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا؟اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ﴾ ’’اور نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی معبود‘‘ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا:﴿ وَاِنۡ لَّمۡ يَنۡتَهُوۡا عَمَّؔا يَقُوۡلُوۡنَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ ’’اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انھیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا‘‘
[74] پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے‘‘ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰu اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔﴿ وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَهٗ﴾ اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا ہے ﴿اَفَلَا يَتُوۡبُوۡنَ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے۔‘‘
[75] پھر اللہ تعالیٰ نے جناب مسیحu اور ان کی والدہ ماجدہ کی حقیقت بیان فرمائی جو کہ حق ہے۔ فرمایا: ﴿ مَا الۡمَسِيۡحُ ابۡنُ مَرۡيَمَ اِلَّا رَسُوۡلٌ١ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ﴾ ’’نہیں ہیں مسیح بن مریم مگر ایک رسول ہی، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزرے‘‘ یعنی جناب مسیح کے معاملے کی غایت و انتہا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندوں اور رسولوں میں سے ایک ہیں جن کو کسی معاملے میں کوئی اختیار نہیں اور نہ وہ تشریع کا کوئی اختیار رکھتے ہیں سوائے اس چیز کے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو مبعوث فرمایا ہے۔ جناب مسیح بھی ان رسولوں کی جنس سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کو دوسرے رسولوں پر کوئی ایسی فضیلت حاصل نہیں جو انھیں بشریت سے نکال کر ربوبیت کے مرتبے پر فائز کر دے ﴿ وَاُمُّهٗ ﴾ ’’اور ان کی ماں ‘‘ یعنی مریم[ ﴿ صِدِّيۡقَةٌ﴾ ’’صدیقہ ہیں۔‘‘ یعنی جناب مریم[ کی بھی غایت و انتہا یہ ہے کہ صدیقین میں ان کا شمار ہوتا ہے جو انبیا و مرسلین کے بعد مخلوق میں سب سے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں ۔صدیقیت وہ علم نافع ہے جس کا ثمرہ یقین اور عمل صالح ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جناب مریم نبی نہ تھیں ۔ ان کا بلند ترین حال صدیقیت ہے اور فضیلت اور شرف کے لیے یہی کافی ہے۔اسی طرح عورتوں میں سے کوئی عورت نبی مبعوث نہیں ہوئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کامل تر صنف یعنی مردوں ہی میں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ ﴾(یوسف:12؍109) ’’اور ہم نے تم سے پہلے مرد ہی بھیجے تھے جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے۔‘‘جب حضرت عیسیٰu انبیا و مرسلین کی جنس میں سے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں اور ان کی والدہ ماجدہ صدیقہ تھیں تو نصاریٰ نے کس بنا پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان دونوں کو بھی الٰہ قرار دے دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿ كَانَا يَاۡكُلٰنِ الطَّعَامَ﴾ ’’وہ دونوں کھانا کھاتے تھے‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے فقیر اور محتاج بندے تھے جیسا کہ انسان کھانے پینے کے محتاج ہوتے ہیں ۔ پس اگر جناب عیسیٰ اور مریمi الٰہ ہوتے تو وہ کھانے پینے سے بے نیاز ہوتے اور کسی چیز کے بھی محتاج نہ ہوتے۔ کیونکہ معبود بے نیاز اور قابل تعریف ہوتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دلیل اور برہان واضح کر دی تو فرمایا: ﴿اُنۡظُرۡ كَيۡفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم کیسے ان کے لیے آیات بیان کرتے ہیں ‘‘ جو حق کو واضح کرتی ہیں اور یقین کو منکشف کرتی ہیں بایں ہمہ انھیں کوئی چیز فائدہ نہیں دیتی بلکہ وہ اپنی بہتان طرازیوں ، جھوٹ اور افترا پردازی پر بضد ہیں اور یہ ان کا ظلم اور عناد ہے۔