Tafsir As-Saadi
50:38 - 50:40

اور البتہ تحقیق پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، چھ دن میں، اور نہیں چھوا ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے (38) پس آپ صبر کریں اس پر جو وہ کہتے ہیں، اور تسبیح کریں ساتھ حمد کے اپنے رب کی پہلے طلوع شمس سے اور پہلے اس کے غروب سے (39) اور کچھ حصہ رات میں، پس آپ تسبیح کریں اس کی اور سجود (نمازوں) کے بعد بھی (40)

[38] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنی قدرت عظیم اور مشیت نافذہ کے بارے میں خبر ہے، جن کے ذریعے سے اس نے سب سے بڑی مخلوق کو وجود بخشا۔ ﴿ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا فِيۡ سِتَّةِ اَيَّامٍ﴾ ’’آسمانوں اور زمین اور جو ان کے دمیان ہے، چھ دن میں (پیدا کیا)۔‘‘ پہلا دن اتوار تھا اور آخری یعنی چھٹا دن جمعہ تھا، اس کو کسی مشقت کا سامنا کرنا پڑا نہ تھکن کا، اور نہ اسے کوئی لاغری لاحق ہوئی اور نہ لاچاری۔ پس وہ اللہ، جو زمین و آسمان کو، ان کے اتنے بڑے ہونے کے باوجود وجود میں لایا، اس کا مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونا زیادہ اولیٰ اور زیادہ لائق ہے۔
[40،39]﴿ فَاصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ﴾ ’’پس جو کچھ یہ کہتے ہیں، اس پر صبر کیجیے۔‘‘ وہ آپ کی مذمت کرتے ہیں اور آپ جو کتاب لے کر آئے ہیں اس کی تکذیب کرتے ہیں، آپ ان کو نظر انداز کر کے اپنے رب کی اطاعت کیجیے اور صبح ، شام، رات کے اوقات میں اور نمازوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کیجیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نفس کو تسلی دیتا، اس کو سکون عطا کرتا اور صبر کو آسان بناتا ہے۔