Tafsir As-Saadi
66:9 - 66:9

اے نبی! آپ جہاد کیجیے کفار و منافقین سے اور سختی کیجیے ان پر اور ٹھکانا ان کا جہنم ہے اور بری ہے وہ جگہ پھرنے کی(9)

[9] اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کرنے اور اس بارے میں ان پر سختی کرنے کا حکم دیتا ہے اس میں ان کے ساتھ دلیل کے ذریعے سے جہاد کرنا، ان کو اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دینا، گمراہی کی مختلف اقسام پر مبنی ان کے موقف کا ابطال کرنا اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی دعوت کو قبول کرنے اور اس کے فیصلے کی اطاعت کرنے سے انکار کر دے، اس کے خلاف اسلحہ اور جنگ کے ذریعے سے جہاد کرنا، سب شامل ہے۔ پس ایسے لوگوں کے خلاف جہاد کیا جائے اور ان پر سختی کی جائے۔رہا جہاد کا پہلا مرتبہ، تو وہ اس ذریعے سے ہو جو بہترین ہے، پس کفار اور منافقین پر اور ان کے خلاف جہاد پر اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول ﷺ اور آپ کی جماعت کو لگانا دنیا کے اندر ان کے لیے عذاب ہے اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہو گا جو بہت بری جگہ ہے جس کی طرف ہر بدبخت اور خائب و خاسر شخص لوٹے گا۔
یہ دو مثالیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کے لیے بیان کی ہیں تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ کافر کا مومن کے ساتھ اتصال اور مومن کا قرب کافر کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور مومن کا کافر کے ساتھ اتصال، مومن کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا اگر مومن فرائض کو پورا کرتا ہے۔ گویا اس میں ازواج مطہرات کے لیے معصیت سے بچنے کی تنبیہ ہے نیز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اتصال ان کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا اگر انھوں نے برائی کی ہے، چنانچہ فرمایا: