Tafsir As-Saadi
66:10 - 66:12

بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جنھوں نے کفر کیا، نوح کی بیوی کی اور لوط کی بیوی کی، تھیں وہ دونوں زیر نکاح دو بندوں کے ہمارے بندوں میں سے (جو) نیک تھے، پس خیانت کی ان دونوں (عورتوں) نے ان کی تو نہ فائدہ دیا ان دونوں نے ان کو اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور کہہ دیا گیا، داخل ہو جاؤ تم دونوں (عورتیں) آگ میں ساتھ داخل ہونے والوں کے (10) اور بیان فرمائی اللہ نے ایک مثال ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، فرعون کی بیوی کی، جب کہا اس نے، اے میرے رب! بنا میرے لیے اپنے ہاں ایک گھر جنت میں، اور نجات دے مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے اور نجات دے مجھے ظالم قوم سے (11) اور (مثال بیان فرمائی) مریم بنت عمران کی وہ جس نے حفاظت کی اپنی عصمت کی تو پھونکی ہم نے اس (کے گریبان) میں اپنی روح، اور تصدیق کی اس نے اپنے رب کے کلمات اور اس کی کتابوں کی، اور تھی وہ فرماں برداروں میں سے (12)

[10]﴿ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّامۡرَاَتَ لُوۡطٍ١ؕ كَانَتَا﴾ ’’اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے، یہ دونوں تھیں۔‘‘ یعنی دونوں عورتیں ﴿ تَحۡتَ عَبۡدَيۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَيۡنِ﴾ ’’ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے گھر میں۔‘‘ اور یہ تھے حضرت نوح اور حضرت لوطi ﴿فَخَانَتٰهُمَا﴾ ’’پس انھوں نے دونوں کی خیانت کی۔‘‘ یعنی دین میں (ان دونوں نے نبیوں کی خیانت کی) دونوں اپنے شوہروں کے دین کے سوا کسی اور دین پر تھیں۔ خیانت سے یہی معنیٰ مراد ہے اور اس سے نسب اور بستر کی خیانت مراد نہیں، کیونکہ کسی نبی کی بیوی بدکاری کی مرتکب نہیں ہوئی اور نہ اللہ تعالیٰ نے کسی بدکار عورت کو انبیائے کرام میں سے کسی کی بیوی ہی بنایا ہے۔ ﴿ فَلَمۡ يُغۡنِيَا عَنۡهُمَا﴾ ’’پس نہ کام آئے وہ دونوں ان دونوں کے۔‘‘یعنی حضرت نوح اور لوطi اپنی بیویوں کے کچھ کام نہ آئے۔﴿ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔؔا وَّقِيۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيۡنَ﴾ ’’اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور انھیں کہا گیا کہ وہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجائیں۔‘‘
[11]﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ﴾ ’’اور اللہ نے مومنوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی۔‘‘اور وہ تھیں آسیہ بنت مزاحمr ﴿ اِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ابۡنِ لِيۡ عِنۡدَكَ بَيۡتًا فِي الۡجَنَّةِ وَنَجِّنِيۡ مِنۡ فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّنِيۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’جب اس نے کہا: اے میرے رب! میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل (شر) سے نجات دے، اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ کا وصف بیان کیا کہ وہ ایمان رکھتی تھیں، اپنے رب کے سامنے گڑ گڑاتی تھیں، اللہ تعالیٰ سے مطالب جلیلہ کا سوال کرتی تھیں اور وہ ہے جنت میں دخول اور رب کریم کی مجاورت کا سوال، نیز وہ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرتی تھیں کہ وہ اسے فرعون کے فتنے، اس کے اعمال بد اور ہر ظالم کے فتنہ سے نجات دے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آسیہ r کی دعا قبول فرما لی، چنانچہ وہ ایمان کامل اور اس پر ثابت قدمی کے ساتھ زندہ رہیں اور تمام فتنوں سے بچی رہیں۔ بنابریں نبی مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: ’’مردوں میں سے مرتبۂ کمال کو پہنچنے والے لوگ تو بہت ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم اور خدیجہ بنت خویلد کے سوا کوئی عورت مرتبۂ کمال کو نہیں پہنچی، اور عائشہ rکی تمام عورتوں پر فضیلت ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔‘‘(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی:﴿ وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا امۡرَاَتَ فِرۡعَوۡنَ....﴾(التحریم: 12,11/66، حديث: 3411، و صحيح مسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل خديجة أم المؤمنينr، حديث: 2431، والبداية والنهاية: 127/3)
[12]﴿ وَمَرۡيَمَ ابۡنَتَ عِمۡرٰنَ الَّتِيۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا﴾ ’’اور عمران کی بیٹی مریم ، جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنی کامل دیانت، عفت اور پاکیزگی کی بنا پر ہر فحش کام سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔ ﴿ فَنَفَخۡنَا فِيۡهِ مِنۡ رُّوۡحِنَا﴾ ’’پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔‘‘ جبریلu نے اس کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری اور ان کی یہ پھونک حضرت مریم تک پہنچی، چنانچہ اس طرح حضرت مریم [سے رسول کریم اور سید عظیم حضرت عیسیٰu متولد ہوئے ﴿ وَصَدَّقَتۡ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَؔكُتُبِهٖ﴾ ’’اور انھوں نے اپنے رب کے کلام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی۔‘‘ یہ حضرت مریم[ کو علم اور معرفت سے موصوف کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کی تصدیق اس کے کلمات دینی اور قدری کی تصدیق کو شامل ہے، اس کی کتابوں کی تصدیق ان امور کا تقاضا کرتی ہے جن کے ذریعے سے تصدیق حاصل ہوتی ہے اور یہ علم و عمل کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَكَانَتۡ مِنَ الۡقٰنِتِيۡنَ﴾ ’’اور وہ فرماں برداروں میں سے تھیں۔‘‘ یعنی وہ خشیت اور خشوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مداومت کرنے والوں میں سے تھیں، یہ ان کے کمال عمل کا وصف ہے کیونکہ وہ صدیقہ تھیں اور صدیقیت کمال علم و عمل کا نام ہے۔