Tafsir As-Saadi
67:1 - 67:4

بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات کہ اس کےہاتھ میں ہے (تمام) بادشاہی، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(1) وہ جس نے پیدا کیا موت و حیات کو تاکہ وہ آزمائے تمھیں، کون تم میں سے اچھا ہے عمل میں؟ اور وہ بڑا زبردست، خوب بخشنے والا ہے(2) وہ جس نے پیدا کیے سات آسمان اوپر نیچے، نہیں دیکھے گا تو رحمن کے پیدا کرنے میں کوئی فرق پس لوٹا تو نگاہ کو، کیا تو دیکھتا ہے، کوئی شگاف؟(3) پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ (بار بار)، لوٹ آئے گی تیری طرف نگاہ ذلیل ہو کر اس حال میں کہ وہ تھکی ماندی ہو گی(4)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿ تَبٰرَكَ الَّذِيۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ﴾ یعنی بہت عظمت والی اور بہت بلند ہے وہ ہستی، اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے، وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے، وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے، جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں۔اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے، اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات ، مثلاً: آسمان اور زمین کو وجود بخشا۔
[2] اور ﴿ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ ﴾ ’’اس نے موت و حیات کو پیدا کیا۔‘‘ یعنی اس نے اپنے بندوں کے لیے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے ، پھر موت سے ہم کنار کرے ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا﴾ تاکہ وہ آزمائے کہ تم میں سے کون سب سے زیادہ صاحبِ اخلاص اور کون سب سے زیادہ راہ صواب پر ہے۔ یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پیدا کر کے ان کو اس دنیا میں بھیجا، انھیں یہ بھی بتا دیا کہ انھیں عنقریب یہاں سے منتقل کیا جائے گا، ان کو اوامر و نواہی دیے اور اپنے ان اوامر کی معارض شہوات کے ذریعے سے ان کو آزمایا۔ پس جس کسی نے اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بہترین جزا دے گا اور جو کوئی شہوات نفس کی طرف مائل ہوا اور اللہ تعالیٰ کے اوامر کو دور پھینک دیا تو اس کے لیے بدترین سزا ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ تمام غلبہ اسی کا ہے جس کے ذریعے سے وہ تمام چیزوں پر غالب ہے اور مخلوقات اس کی مطیع ہے۔ ﴿ الۡغَفُوۡرُ﴾ وہ بدکاروں، کوتاہی کرنے والوں اور گناہ گاروں کو بخش دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، وہ ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے، خواہ وہ آسمان کے کناروں تک پہنچے ہوئے ہوں، وہ ان کے عیوب کو چھپاتا ہے، خواہ وہ زمین بھر ہوں۔
[3]﴿ الَّذِيۡ خَلَقَ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ﴾ یعنی اس نے آسمانوں کو ایک ہی طبق نہیں بنایا بلکہ ان کو ایک دوسرے کے اوپر بنایا، ان کو انتہائی خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ پیدا کیا ﴿ مَا تَرٰؔى فِيۡ خَلۡقِ الرَّحۡمٰنِ مِنۡ تَفٰوُتٍ ﴾ ’’تم رحمٰن کی تخلیق میں کوئی بے ربطی نہیں دیکھوگے۔‘‘ یعنی خلل اور نقص۔ جب نقص کی ہر لحاظ سے نفی ہو گئی تو وہ ہر لحاظ سے خوبصورت، کامل اور متناسب بن گئے، یعنی اپنے رنگ میں، اپنی ہیئت میں، اپنی بلندی میں، اپنے سورج، کواکب، ثوابت اور سیارات میں خوبصورت اور متناسب ہیں۔چونکہ اس کا کمال معلوم ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بار بار دیکھنے اور اس کے کناروں میں غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ ﴿ فَارۡجِـعِ الۡبَصَرَ ﴾ عبرت کی نظر سے دیکھنے کے لیے، اس پر دوبارہ نگاہ ڈال ﴿ هَلۡ تَرٰى مِنۡ فُطُوۡرٍ ﴾ کیا تجھے کوئی نقص اور خلل نظر آتا ہے؟
[4]﴿ ثُمَّ ارۡجِـعِ الۡبَصَرَؔ كَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ پھر لوٹا تو نگاہ کو دوبارہ بار بار۔‘‘ اس سے مراد کثرت تکرار ہے ﴿ يَنۡقَلِبۡ اِلَيۡكَ الۡبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيۡرٌ ﴾ ’’نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی۔‘‘ یعنی کوئی خلل اور کوئی نقص دیکھنے سے عاجز آکر واپس لوٹے گی اور خواہ وہ خلل دیکھنے کی بے انتہا خواہش رکھتی ہو ،
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے نہایت صراحت کے ساتھ آسمانوں کی خوبصورتی کا ذکر کیا ، چنانچہ فرمایا: