پس بے شک ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک ڈول(حصہ عذاب)ہے مثل ڈول(حصے)ان کے ساتھیوں کے پس نہ جلدی طلب کریں وہ مجھ سے(عذاب)(59) پس ہلاکت ہے ان کے لیے جنھوں نے کفر کیا، ان کے اس دن (کے آنے) سے جس کا وہ وعدہ دیے جاتے ہیں (60)
[59] وہ لوگ جنھوں نے محمد ﷺ کی تکذیب کر کے ظلم کا ارتکاب کیا، ان کے لیے عذاب اور سزا ہے۔ ﴿ ذَنُوۡبًا﴾ یعنی ان کے لیے بھی اسی طرح حصہ ہے جس طرح ان کے ساتھی اہل ظلم اور اہل تکذیب کے ساتھ کیا گیا۔ ﴿ فَلَا يَسۡتَعۡجِلُوۡنِ۠﴾ اس لیے وہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچائیں، کیونکہ قوموں کے بارے میں سنت الٰہی ایک ہی ہے۔ پس ہر جھٹلانے والا شخص جو اپنی تکذیب پر جما ہوا ہے جو توبہ کرتا ہے نہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے، اس پر عذاب ضرور واقع ہو گا، خواہ کچھ مدت کے لیے موخر ہو جائے۔
[60] بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان کو قیامت کی وعید سنائی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿ فَوَيۡلٌ لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ يَّوۡمِهِمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’پس کافروں کے لیے اس دن ہلاکت ہے جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے ۔جس میں ان کو مختلف قسم کے عذاب، سزاؤ ں، بیڑیوں کی وعید سنائی گئی ہے، ان کا کوئی مددگار ہو گا نہ کوئی ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا ہو گا۔ ہم اس عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔