تکذیب کی (قوم) عاد نے، پس (دیکھو) کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (18) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پرشاں شاں کرتی یخ ہوا ایک دن دائمی نحوست والے میں(19) وہ اکھاڑ پھینکتی تھی لوگوں کو گویا کہ وہ تنے ہیں جڑ سے اکھڑی ہوئی، کھجور کے (20) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا (21) اور یقیناً آسان کیا ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (22)
[18، 19] عاد یمن کا ایک معروف قبیلہ ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ہودu کو مبعوث فرمایا جو انھیں توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے حضرت ہودu کو جھٹلایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر ﴿ رِيۡحًا صَرۡصَرًا﴾ سخت طوفانی ہوا بھیجی ﴿ فِيۡ يَوۡمِ نَحۡسٍ﴾ ’’منحوس دن میں۔‘‘ جس کا عذاب بہت سخت اور ان کے لیے بہت بدبختی والا تھا۔ ﴿ مُّسۡتَمِرٍّ﴾ جو ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دنوں تک انھیں فنا کرنے کے لیے چلتی رہی۔
[20]﴿تَنۡزِعُ النَّاسَ﴾ وہ اپنے شدت کی وجہ سے لوگوں کی بیخ کنی کر رہی تھی، انھیں آسمان کی طرف اٹھا کر زمین پر دے مارتی تھی اور یوں انھیں ہلاک کر ڈالتی تھی اور ان کی یہ حالت ہو گئی تھی ﴿كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ مُّنۡقَعِرٍ﴾ ’’گویا کہ وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہیں۔‘‘ یعنی ان کی ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں ایسے دکھائی دے رہی تھیں جیسے گری ہوئی کھجور کے تنے جنھیں سخت ہوا نے جڑ سے اکھاڑ دیا ہو اور وہ زمین پر گری پڑی ہوں، جب مخلوق اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتی ہے تو وہ اس کے ہاں کتنی حقیر ہو جاتی ہے۔
[21]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’ پھر میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟۔‘‘ اللہ کی قسم! درد ناک عذاب اور تنبیہ تھی جس نے کسی کے لیے اللہ تعالیٰ پر کوئی حجت باقی نہ رہنے دی۔
[22]﴿ وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِنۡ مُّدَّؔكِرٍ﴾ ’’اور یقیناً ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے، پس کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمت اور عنایت کی بنا پر اس فقرے کو بتکرار بیان کیا اور انھیں اس امر کی طرف بلایا ہے جو ان کی دنیا اور آخرت کی اصلاح کرتا ہے۔