Tafsir As-Saadi
55:43 - 55:45

(انھیں کہا جائے گا:) یہی ہے جہنم وہ جو جھٹلاتے تھے اس کو مجرم لوگ (43) وہ چکر لگائیں گے درمیان اس (جہنم) کے اور درمیان سخت گرم کھولتے پانی کے (44) پس (کون) کون سی نعمتوں کو اپنے رب کی، تم دونوں جھٹلاؤ گے؟ (45)

[45-43] جنھوں نے وعد و وعید کو جھٹلایا، جب ان پر جہنم کی آگ بھڑکے گی، تو ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡ يُكَذِّبُ بِهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ﴾’’ یہی وہ جہنم ہے جسے گناہ گار جھٹلاتے تھے۔‘‘ پس ان کی تکذیب ان کو رسوا کرے گی اور اب وہ اس کے عذاب، اس کی سزا، اس کی بھڑکتی ہوئی آگ اور اس کی بیڑیوں کا مزا چکھیں، یہ ان کے لیے ان کی تکذیب کی جزا ہے۔ ﴿يَطُوۡفُوۡنَ بَيۡنَهَا﴾ ’’وہ جہنم کے درمیان گھومیں گے۔‘‘ یعنی جہنم اور اس کے شعلوں کے طبقوں میں گھومتے پھریں گے۔ ﴿وَبَيۡنَ حَمِيۡمٍ اٰنٍ﴾ اور وہ سخت کھولتے ہوئے پانی کے درمیان بھی گھومیں گے جس کی حرارت انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی اور زمہریر جس کی ٹھنڈک بہت شدید ہو گی۔ ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ ’’پھر (اے جن و انس!) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘

جب اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ وہ مجرموں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے تقویٰ شعار لوگوں کی جزا کا بھی ذکر فرمایا: