Tafsir As-Saadi
6:27 - 6:29

اور اگر آپ دیکھیں جبکہ کھڑے کیے جائیں گے وہ اوپر آگ کے تو کہیں گے، اے کاش! ہم لوٹا دیے جائیں تو نہ جھٹلائیں گے ہم آیات اپنے رب کی اور ہوں گے ہم مومنوں سے(27)بلکہ ظاہر ہو جائے گا ان کے لیے جو تھے وہ چھپاتے پہلےاور اگر وہ لوٹا دیے جائیں تب بھی کریں گے وہ ، پھر وہی کام کہ روکے گئے تھے وہ ان سےاور یقینا وہ جھوٹے ہیں (28) اور کہتے ہیں وہ کہ نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا کی اور نہیں ہم اٹھائے جائیں گے(29)

[27] اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کے حال اور جہنم کے سامنے ان کو کھڑے کیے جانے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ تَرٰۤى اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَى النَّارِ ﴾ ’’اگر آپ دیکھیں جس وقت کھڑے کیے جائیں گے وہ دوزخ پر‘‘ تاکہ ان کو زجر و توبیخ کی جائے.... تو آپ بہت ہولناک معاملہ اور ان کا بہت برا حال دیکھتے نیز آپ یہ دیکھتے کہ یہ لوگ اپنے کفر و فسق کا اقرار کرتے ہیں اور تمنا کرتے ہیں کہ کاش ان کو دنیا میں پھر واپس بھیجا جائے ﴿ فَقَالُوۡا يٰلَيۡتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ کہیں گے، اے کاش ہم پھر بھیج دیے جائیں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہو جائیں ہم ایمان والوں میں سے‘‘
[28]﴿ بَلۡ بَدَا لَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُخۡفُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ بلکہ ظاہر ہو گیا جو وه چھپاتے تھے پہلے‘‘ اس لیے کہ وہ اپنے دل میں اس حقیقت کو چھپاتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان کے دلوں کا جھوٹ بسا اوقات ظاہر ہو جاتا تھا۔ مگر ان کی فاسد اغراض ان کو حق سے روک دیتی تھیں اور ان کے دلوں کو بھلائی سے پھیر دیتی تھیں ، وہ اپنی ان تمناؤں میں جھوٹے ہیں ، ان کا مقصد محض اپنے آپ کو عذاب سے ہٹانا ہے۔ ﴿ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’اگر ان کو واپس لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا ہے۔ اور بے شک یہ سخت جھوٹے ہیں ۔‘‘
[29]﴿وَقَالُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کہتے ہیں ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے۔‘‘ یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ ہمیں وجود میں لانے کا اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠ ﴾ ’’ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘