Tafsir As-Saadi
68:17 - 68:33

بلاشبہ ہم نے آزمایا ہے ان کو جیسے آزمایا تھا ہم نے باغ والوں کو جب انھوں نے قسمیں کھائیں کہ وہ ضرور کاٹ (توڑ) لیں گے (پھل) اس کا صبح ہوتے ہی (17) اور نہیں کہتے تھے وہ ان شاء اللہ (18) پس پھر گیا اس باغ پر ایک (عذاب) پھرنے والا آپ کے رب کی طرف سے جب کہ وہ سو رہے تھے(19) تو ہو گیا وہ باغ مانند کٹی ہوئی کھیتی کے (20) پس ایک دوسرے کو پکارا انھوں نے صبح ہوتے ہی (21) یہ کہ سویرے (سویرے) چلو تم اپنی کھیتی پر اگر ہو تم (پھل) توڑنے والے (22) چنانچہ وہ چل پڑے اور وہ چپکے چپکے آپس میں کہہ رہے تھے (23) کہ (قطعًا) نہ داخل ہونے پائے باغ میں آج تم پر کوئی مسکین (24) اور وہ صبح سویرے نکلے (مسکین کو) روکنے پر قادر (سمجھتے ہوئے)(25) پس جب انھوں نے دیکھا اس کو تو کہا، یقیناً ہم البتہ (راہ) بھول گئے ہیں (26)(نہیں)بلکہ ہم تو محروم ہو گئے (27)کہا ان میں سے بہتر نے، کیا نہیں کہا تھا میں نے تمھیں کیوں نہیں تم تسبیح کرتے؟ (28) انھوں نے کہا: پاک ہے ہمارا رب،بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم(29) پس متوجہ ہوا ایک ان کا، دوسرے پر آپس میں ملامت کرتے ہوئے (30) انھوں نے کہا: ہائے افسوس ہم پر! بلاشبہ ہم ہی تھے سرکش (31) امید ہے ہمارا رب، یہ کہ بدلے میں دے وہ ہمارے لیے بہتر اس سے، بے شک ہم اپنے رب کی طرف رغبت کرنےوالے ہیں (32) اسی طرح ہوتا ہے عذاب اور البتہ عذاب آخرت (اس سے) بہت بڑا ہے، کاش کہ ہوتے وہ جانتے (33)

[18,17] اللہ تعالیٰ فرماتا ہےہم نے ان جھٹلانے والوں کو بھلائی کے ساتھ آزمایا ، ہم نے انھیں مہلت دی اور ہم نے ان کی خواہشات نفس کے موافق مال و دولت اور لمبی عمر وغیرہ سے جس سے چاہا، انھیں نوازا۔ اس کا سبب یہ نہ تھا کہ ہمارے نزدیک ان کی کرامت تھی بلکہ بسا اوقات یہ سب کچھ انھیں استدراج کے طور پر عطا کیا جاتا ہےجس کا انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ پس ان کا ان نعمتوں کی وجہ سے دھوکے میں مبتلا ہونا، اس باغ والوں کی فریب خوردگی کی مانند ہے جو باغ کی ملکیت میں شریک تھے جب درختوں کے پھل لگ گئے اور پھلوں نے رنگ پکڑ لیا اور ان کی برداشت کا وقت آن پہنچا، انھیں یقین تھا کہ باغ کی فصل ان کے ہاتھ میں ہے اور کوئی ایسا مانع نہیں جو باغ کی فصل برداشت کرنے سے روکے، اس لیے ان تمام شرکاء نے قسم کھائی اور کسی استثنا (ان شاء اللہ کہنے) کے بغیر حلف اٹھایا کہ وہ فصل کاٹیں گے ، یعنی صبح کے وقت ان کا پھل چنیں گے۔ انھیں اس بات کا ہرگز علم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی گھات میں ہے اور عذاب ان کو پیچھے چھوڑ دے گا اور ان سے آگے بڑھ کر باغ کو جا لے گا۔
[20,19]﴿ فَطَافَ عَلَيۡهَا طَآىِٕفٌ مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’پس تمھارے رب کی طرف سے اس پر ایک آفت پڑ گئی۔‘‘ یعنی ایک عذاب جو رات کے وقت اس باغ پر نازل ہوا ﴿ وَهُمۡ نَآىِٕمُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ محو خواب تھے‘‘ پس اس عذاب نے اسے تباہ و برباد کر دیا ﴿ فَاَصۡبَحَتۡ كَالصَّرِيۡمِ﴾ ’’پس وہ ایسے ہوگیا جیسے کٹی ہوئی کھیتی۔‘‘ یعنی اندھیری رات کی مانند، تمام درخت اور پھل ملیامیٹ ہو گئے۔
[22,21] مگر انھیں نازل ہونے والی اس مصیبت کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا، اس لیے جب صبح ہوئی تو انھوں نے ایک دوسرے کو یہ کہتے ہوئے آواز دی:﴿ اَنِ اغۡدُوۡا عَلٰى حَرۡثِكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰرِمِيۡنَ﴾ ’’اگر تم کو کاٹنا ہے تو اپنی کھیتی پر سویرے ہی جا پہنچو۔‘‘
[24,23]﴿فَانۡطَلَقُوۡا﴾ ’’پس وہ چل پڑے ۔‘‘ باغ کا قصد کر کے ﴿ وَهُمۡ يَتَخَافَتُوۡنَ﴾ اور ان کی حالت یہ تھی کہ وہ آپس میں چپکے چپکے اللہ تعالیٰ کے حق سے ایک دوسرے کو روکتے جا رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ﴿ اَنۡ لَّا يَدۡخُلَنَّهَا الۡيَوۡمَ عَلَيۡكُمۡ مِّسۡكِيۡنٌ﴾ ’’آج تمھارے پاس کوئی فقیر نہ آنے پائے۔‘‘ یعنی لوگوں کے پھیلنے سے پہلے، صبح صبح گھروں سے نکل پڑو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ فقراء اور مساکین کو محروم کرنے کے لیے باہم تلقین کرتے جا رہے تھے۔
[25]﴿ وَّغَدَوۡا ﴾ انتہائی بری، قساوت اور بے رحمی کی حالت میں انھوں نے صبح کی ﴿ عَلٰى حَرۡدٍ قٰدِرِيۡنَ ﴾ یعنی گویا کہ وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو روکنے پر قادر ہیں اور انھیں پختہ یقین ہے کہ وہ اس باغ پر قدرت رکھتے ہیں۔
[27,26]﴿ فَلَمَّا رَاَوۡهَا ﴾ جب انھوں نے باغ کو اس وصف پر دیکھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کٹی ہوئی کھیتی کی مانند تھا۔ ﴿ قَالُوۡۤا ﴾ تو انھوں نے حیرت اور بے قراری سے کہا: ﴿ اِنَّا لَضَآلُّوۡنَ﴾ ہم باغ سے بھٹک گئے ہیں، شاید یہ کوئی اور باغ ہو۔ پس جب متحقق ہو گیا کہ یہ وہی باغ ہے اور ان کے عقل و حواس لوٹے تو کہنے لگے:﴿ بَلۡ نَحۡنُ مَحۡرُوۡمُوۡنَ ﴾ ہم اس باغ سے محروم ہیں۔ اس وقت وہ پہچان گئے کہ یہ سزا ہے۔
[28]﴿ قَالَ اَوۡسَطُهُمۡ ﴾ یعنی ان میں سے سب سے زیادہ انصاف پسند اور سب سے اچھا طریقہ رکھنے والے نے کہا: ﴿ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّـكُمۡ لَوۡلَا تُسَبِّحُوۡنَ﴾ کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کو ان اوصاف سے منزہ کیوں قرار نہیں دیتے جو اس کے لائق نہیں؟ ان میں سے ایک یہ کہ تمھارا گمان ہے کہ تمھاری قدرت ایک مستقل حیثیت رکھتی ہے، تم نے ’’ان شاء اللّٰہ‘‘ کہہ کر استثنا کیا ہوتا اور اپنی مشیت کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع کیا ہوتا، تو تمھارے ساتھ وہ کچھ نہ ہوتا جو ہوا ہے۔
[29]﴿ قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’وہ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہم ہی قصوروار تھے۔‘‘ اس کے بعد انھوں نے اپنی کوتاہی کا تدارک کیا مگر اس وقت جب ان کے باغ پر عذاب نازل ہو چکا تھا جو اٹھایا نہیں جا سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے ان کی یہ تسبیح، اپنی جانوں پر ظلم کرنے کا اقرار، تخفیف گناہ میں کوئی فائدہ دے اور توبہ بن جائے۔
[32-30] اس لیے وہ سخت نادم ہوئے۔ ﴿ فَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَلَاوَمُوۡنَ۠ ﴾ جو کچھ ان سے صادر ہوا اور جو کچھ انھوں نے کیا اس بارے میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ ﴿ قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِيۡنَ ﴾’’کہنے لگے، ہائے شامت، ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے۔‘‘ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کے حق اور اس کے بندوں کے حق کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے والے تھے۔﴿ عَسٰؔى رَبُّنَاۤ اَنۡ يُّبۡدِلَنَا خَيۡرًا مِّؔنۡهَاۤ اِنَّـاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰؔغِبُوۡنَ ﴾ پس انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ انھیں اس سے بہتر عطا کرے گا اور انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف راغب ہوں گے اور اس دنیا میں اس کے سامنے اصرار کے ساتھ التجائیں کرتے رہیں گے پس اگر وہ ایسے ہی ہیں جیسے وہ کہتے ہیں تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کے حال کو بدل دیا ہوگا کیونکہ جو کوئی صدق دل سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے، اس کی طرف راغب ہوتا ہے اور اس کے ساتھ امید وابستہ کرتا ہے تو وہ جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے وہ اسے عطا کرتا ہے۔
[33] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو کچھ وقوع پذیر ہوا، اسے بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ كَذٰلِكَ الۡعَذَابُ ﴾ یعنی اس شخص کے لیے اسی طرح دنیاوی عذاب ہے جو عذاب کے اسباب کو اختیار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے وہ چیز سلب کر لے جس کی بنیاد پر اس نے سرکشی اور بغاوت کا رویہ اپنایا اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی،نیز یہ کہ وہ اس سے وہ چیز زائل کر دے جس کا وہ سب سے زیادہ ضرورت مند ہے ﴿ وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَكۡبَرُ ﴾ دنیا کے عذاب سے آخرت کا عذاب زیادہ بڑا ہے ﴿ لَوۡ كَانُوۡا يَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’کاش انھیں سمجھ ہوتی۔‘‘ کیونکہ جو کوئی اس حقیقت کو جانتا ہے تو یہ علم اسے ہر اس سبب سے باز رکھتا ہے جو عذاب کا موجب اور ثواب سے محروم رکھنے والا ہے۔