Tafsir As-Saadi
68:8 - 68:16

پس نہ اطاعت کریں آپ تکذیب کرنے والوں کی(8) وہ چاہتے ہیں کہ آپ نرمی اختیار کریں تو وہ بھی نرم پڑ جائیں(9) اور نہ اطاعت کریں آپ ہر قسمیں کھانے والے نہایت حقیر کی (10) جو بڑا ہی عیب جو، چلتا پھرتا چغل خور ہے (11) بہت روکنے والا بھلائی سے، حد سے گزرنے والا سخت گناہ گار ہے (12) اُجَڈ علاوہ اس کے حرام زادہ ہے (13) یہ اس لیے کہ (وہ) مال اور بیٹوں والا ہے (14) جب تلاوت کی جاتی ہیں اس پر ہماری آیات تو کہتا ہے، (یہ)افسانے ہیں پہلوں کے (15) عنقریب ہم داغ لگائیں گے اسے (اس کی) سونڈ (ناک) پر (16)

[8] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ فَلَا تُطِعِ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ جنھوں نے آپ کو جھٹلایا اور حق کے ساتھ عناد رکھا یہ لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے کیونکہ یہ صرف اسی بات کا حکم دیتے ہیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہوتی ہے اور یہ باطل کے سوا کچھ نہیں چاہتے، پس ان کی اطاعت کرنے والا اس چیز کی طرف بڑھتا ہے جو اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہ آیت کریمہ ہر جھٹلانے والے اور ہر اس اطاعت کے لیے عام ہے جو تکذیب سے جنم لیتی ہے اگرچہ اس کا سیاق ایک خاص معاملے میں ہے، اور وہ یہ ہے کہ کفار نے آپ سے مطالبہ کیا تھا کہ آپ ان کے معبودوں اور ان کے دین کے بارے میں خاموش ہو جائیں، وہ بھی آپ کے بارے میں خاموش رہیں گے۔
[9] لہٰذا فرمایا: ﴿ وَدُّوۡا﴾ یعنی مشرکین چاہتے ہیں ﴿ لَوۡ تُدۡهِنُ﴾ کہ آپ ان کے موقف سے موافقت کریں قول کے ذریعے سے یا فعل کے ذریعے سے، یا جہاں کلام کرنا ضرور ٹھہرتا ہو وہاں خاموش رہیں ﴿ فَيُدۡهِنُوۡنَ﴾ ’’تو وہ بھی نرم ہوجائیں۔‘‘ مگر آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حق کو کھلم کھلا بیان کیا اور دین اسلام کا اظہار کیا کیونکہ اس کا کامل اظہار، اس کی ضد کے نقض اور اس کے متناقض نظریات کے عیب کا اظہار ہے۔
[10]﴿ وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٍ ﴾ ’’اور کسی ایسے شخص کی بات نہ ماننا جو بہت قسمیں کھانے والا ہو۔‘‘ کیونکہ اتنی زیادہ قسمیں کھانے والا جھوٹا ہی ہو سکتا ہے، اور آدمی جھوٹا نہیں ہو سکتا جب تک وہ ﴿ مَّهِيۡنٍ﴾ خسیس النفس اور دانائی سے تہی دست نہ ہو اور اسے بھلائی میں کوئی رغبت نہ ہو بلکہ اس کا ارادہ اس کے خسیس نفس کی شہوات پر مرتکز ہو۔
[11]﴿ هَمَّازٍ﴾ یعنی جو لوگوں کی بہت زیادہ عیب چینی کرتا ہے اور غیبت و استہزا کے ذریعے سے طعنہ زنی کرتا ہے ﴿ مَّشَّآءٍۭؔ بِنَمِيۡمٍ﴾ یعنی لوگوں کے درمیان چغل خوری کرتا پھرتا ہے۔چغل خوری یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے اور عداوت اور بغض پیدا کرنے کی غرض سے ایک کی بات دوسرے تک پہنچائی جائے۔
[12]﴿ مَّنَّاعٍ لِّلۡخَيۡرِ﴾ بھلائی ، یعنی نفقات واجبہ، کفارہ، زکاۃ وغیرہ سے منع کرنے والا ہے۔ ﴿ مُعۡتَدٍ﴾ مخلوق پر زیادتی کرنے والا، لوگوں کی جان و مال اور ان کی ناموس میں ظلم کرنے والا ﴿ اَثِيۡمٍ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متعلق بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والا ہے۔
[13]﴿عُتُلٍّۭؔ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ یعنی درشت خو، بدخلق اور سخت طبیعت رکھنے والا جو حق کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ﴿زَنِيۡمٍ﴾ ’’بدذات ہے‘‘ یعنی مجہول النسب جس کی کوئی اصل ہونہ ایسا مادہ کہ جس سے کوئی بھلائی منتج ہوتی ہے بلکہ اس کے اخلاق بدترین اخلاق ہیں۔ اس سے فلاح کی امید نہیں اور اس میں شر کی علامت ہے جس سے وہ پہچانا جاتا ہے۔
[14] ان تمام آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کی اطاعت سے روکا ہے جو نہایت کثرت سے قسمیں کھانے والا، سخت جھوٹا، خسیس النفس، نہایت بداخلاق، خاص طور پر وہ ایسے برے اخلاق کا مالک ہے جو خود پسند، مخلوق اور حق کے مقابلے میں تکبر و استکبار، غیبت چغلی اور طعنہ زنی کے ذریعے سے لوگوں سے حقارت کا رویہ رکھنے اور گناہوں کی کثرت کے متضمن ہیں۔
[15] یہ آیات کریمہ....بعض مشرکین کے بارے میں نازل ہوئیں، مثلاً: ولید بن مغیرہ وغیرہ کیونکہ اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ اَنۡ كَانَ ذَا مَالٍ وَّبَنِيۡنَؕ۰۰ اِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِ اٰيٰتُنَا قَالَ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ کیونکہ اپنے مال اور اولاد کی وجہ سے اس نے سرکشی اختیار کی، حق کے مقابلے میں تکبر و استکبار کا مظاہرہ کیا، جب حق اس کے پاس آیا تو اس کو ٹھکرا دیا اور اسے پہلوں کے قصے کہانیاں قرار دیاجن میں سچ اور جھوٹ دونوں ممکن ہیں ...لیکن یہ آیات کریمہ ہر اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو اس وصف سے متصف ہو کیونکہ قرآن کریم تمام مخلوق کی ہدایت کے لیے نازل ہوا اور اس میں امت کے اولین و آخرین سب داخل ہیں۔بسا اوقات بعض آیات کسی شخص کے سبب سے نازل ہوتی ہیں تاکہ ان سے عام قاعدہ واضح ہو جائے اور عام قضیوں میں داخل جزئیات کی مثالوں کی معرفت حاصل ہو جائے۔
[16] پھر اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو وعید سنائی ہے جس سے یہ سب کچھ واقع ہوا جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ عذاب میں اس کی ناک پر داغ لگائے گا اور اسے ظاہری عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اس کے چہرے پر داغ اور علامت لگی ہوگی جہاں داغ کا لگایا جانا سب سے زیادہ شاق گزرتا ہے۔