Tafsir As-Saadi
69:1 - 69:8

ثابت ہونے والی(1) کیا ہے ثابت ہونے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے ثابت ہونے والی؟(3) جھٹلایا تھا ثمود و عاد نے کھڑ کھڑانے والی کو(4) پس لیکن ثمود، تو ہلاک کیے گئے وہ حد سے گزر جانے والی (خوفناک آواز) سے(5) اور لیکن عاد! تو ہلاک کیے گئے وہ یخ ہوا، سرکش (آندھی) سے(6) مسلط کر دیا تھا (اللہ) نے اسے ان پر سات راتیں اور آٹھ دن جڑ کاٹ دینے (فنا کرنے) کے لیے پس تو دیکھتا اس قوم کو اس میں پچھاڑے (ہلاک کیے) ہوئے، گویا کہ وہ کھوکھلے تنے ہیں گری ہوئی کھجوروں کے(7) تو کیا تو دیکھتا ہے ان میں سے کوئی بھی باقی؟(8)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1]﴿ اَلۡحَآقَّةُ﴾ یہ قیامت کے ناموں میں سے ہے، کیونکہ یہ ثابت اور واجب ہے اور مخلوق پر نازل ہو گی، اس میں تمام امور کے حقائق اور سینوں کے بھید ظاہر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿ اَلۡحَآقَّةُۙ۰۰ مَا الۡحَآقَّةُۚ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحَآقَّةُ﴾ کے تکرار کے ذریعے سے اس کی عظمتِ شان اور تفخیم بیان فرمائی ہے۔ اس کی شان بہت عظیم ہے ۔
[4] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے احوال کے نمونے کا ذکر فرمایا جو دنیا میں موجود ہے جس کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ سخت عقوبتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سرکش قوموں پر نازل فرمائیں، چنانچہ فرمایا:﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ثمود ایک مشہور قبیلہ ہے جو حجر کے علاقے میں آباد تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف اپنے رسول حضرت صالح uکو مبعوث کیا جو ان کو شرک سے روکتے تھے اور ان کو توحید کا حکم دیتے تھے، پس انھوں نے حضرت صالح کی دعوت کو ٹھکرا دیا، ان کو جھٹلایا اور قیامت کے روز کو جھٹلایا جس کے بارے میں حضرت صالحu نے خبر دی تھی اور وہی یہی کھڑکھڑانے والی ہے جو مخلوق کو اپنی ہولناکیوں سے ہلاک کر ڈالے گی۔اسی طرح عاد اولیٰ کو ہلاک کر ڈالا جو حضر موت کے باشندے تھے جب اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف اپنے رسول ہودu کو بھیجا جو انھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے پس انھوں نے جناب ہود کی تکذیب کی اور قیامت کے متعلق حضرت ہود نے جو خبر دی تھی اس کا انکار کیا، پس اللہ تعالیٰ نے فوری عذاب کے ذریعے سے دونوں قوموں کو ہلاک کر ڈالا۔
[5]﴿ فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ﴾ ’’پس ثمود تو کڑک سے ہلاک کردیے گئے۔‘‘ اور وہ ایک زبردست اور انتہائی کرخت چنگھاڑ تھی، جس نے ان کے دلوں کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کی روحیں پرواز کر گئیں اور وہ مردہ پڑے رہ گئے کہ ان کی رہائش گاہوں اور ان کی لاشوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔
[6]﴿ وَاَمَّا عَادٌ فَاُهۡلِكُوۡا بِرِيۡحٍ صَرۡصَرٍ ﴾ ’’اور رہے عاد تو انھیں نہایت تیز آندھی سے ہلاک کردیا گیا۔‘‘ یعنی بہت طاقت ور اور طوفانی ہوا جس کی آواز، بادل کی کڑک سے زیادہ تھی ﴿ عَاتِيَةٍ ﴾ بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ ہوا اپنے داروغوں کے سامنے سرکش تھی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ قوم عاد پر نہایت سرکشی کے ساتھ چلتی رہی اور حد سے بڑھ گئی۔ اور یہی صحیح قول یہی ہے۔
[7]﴿ سَخَّرَهَا عَلَيۡهِمۡ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَ يَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا ﴾ ’’اس نے اس کو سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلائے رکھا۔‘‘ یعنی یہ ایام نہایت منحوس، برے اور ان کے لیے انتہائی سخت تھے، اس ہوا نے ان کو تباہ و برباد کر کے ہلاک کر ڈالا ﴿ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى ﴾ یعنی آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ ہلاک ہو کر مردہ پڑے ہیں ﴿ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾ یعنی گویا کہ وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے ہیں جن کے سروں کو کاٹ دیا گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر گرے پڑے ہیں۔
[8]﴿ فَهَلۡ تَرٰى لَهُمۡ مِّنۢۡ بَاقِيَةٍ ﴾ ’’پس کیا تو ان میں سے کسی کو بھی باقی دیکھتا ہے؟‘‘یہ استفہام نفیٔ متقرر کے معنیٰ میں ہے۔