Tafsir As-Saadi
69:9 - 69:12

اور ارتکاب کیا تھا فرعون نے اور جو اس سے پہلے تھے اور الٹ جانے والی(بستیوں والوں)نے گناہوں کا(9) پس انھوں نے نافرمانی کی اپنے رب کے رسول کی تو اس (رب) نے پکڑا ان کو پکڑنا نہایت سخت (10) بلاشبہ، جب طغیانی کی پانی نے تو سوار کیا ہم نے تمھیں کشتی میں (11) تاکہ کریں ہم اس (فعل) کو تمھارے لیے نصیحت اور (تاکہ) یاد رکھیں اسے کان یاد رکھنے والے (12)

[10,9] اسی طرح ان دو سرکش قوموں، عاد و ثمود کے علاوہ بھی سرکش اور نافرمان لوگ آئے، جیسے فرعون مصر جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمرانu کو مبعوث کیا اور انھیں واضح نشانیاں دکھائیں جن کی بنا پر انھیں حق کا یقین آ گیا مگر انھوں نے ظلم اور تکبر سے ان کار کر دیا اور کفر کا رویہ اختیار کیا، اور اس سے پہلے بھی جھٹلانے والے آئے۔ ﴿ وَالۡمُؤۡتَفِكٰتُ﴾ ’’اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔‘‘ یعنی حضرت لوط u کی قوم کی بستیاں، سب گناہ کا کام کرتے تھے ﴿ بِالۡخَاطِئَةِ﴾ یعنی سرکشی کے افعال کرتے تھے، اس سے مراد کفر، تکذیب، ظلم اور عناد ہے، نیز فسق و معاصی کی دیگر اقسام بھی اس میں شامل ہے۔ ﴿ فَعَصَوۡا رَسُوۡلَ رَبِّهِمۡ﴾ یہ اسم جنس ہے ، یعنی ان تمام قوموں نے اپنے رسول کو جھٹلایا جو ان کی طرف بھیجا گیا تھا۔ ﴿ فَاَخَذَهُمۡ﴾ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو پکڑ لیا ﴿ اَخۡذَةً رَّابِيَةً﴾ یعنی حد اور مقدار سے بڑھ کر ان کی گرفت کی جس سے وہ تباہ و برباد ہو گئے۔
[12,11] منجملہ ان قوموں کے، نوحuکی قوم بھی تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے سمندر (کے سیلاب) میں غرق کر ڈالا جب پانی سرکشی کر کے زمین پر پھیل گیا اور بلند مقامات سے بھی بلند ہو گیا۔ حضرت نوحu کی سرکش قوم کے غرق ہونے کے بعد جو مخلوق موجود تھی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ ان کو سوار کیا﴿ فِي الۡجَارِيَةِ﴾’’کشتی میں ‘‘جبکہ یہ اپنے آباء اور ماؤ ں کی صلب میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے طوفان سے نجات دی تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو، اس کا شکرکرو جس نے تمھیں اس وقت نجات دی جب اس نے سرکش لوگوں کو ہلاک کر ڈالا ۔۔ اور اس کی آیات سے عبرت حاصل کرو جو اس کی توحید پر دلالت کرتی ہیں۔﴿ لِنَجۡعَلَهَا﴾ ’’تاکہ ہم اس کو بنادیں۔‘‘ یعنی کشتی کواور اس سے مراد اسم جنس ہے، تمھارے لیے ﴿ تَذۡكِرَةً﴾ ’’یادگار‘‘ جو تمھیں اولین کشتی کی صنعت اور اس کے قصے کی یاد دلاتی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اس کشتی پر سوار ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور اپنے رسول کی اتباع کی اور روئے زمین کے دیگر تمام لوگوں کو ہلاک کر ڈالا، کیونکہ اشیاء کی جنس اپنی اصل کی یاد دلاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ وَّتَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ﴾ ’’اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھیں۔‘‘ یعنی خرد مند لوگ ہی اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس سے مقصود کی معرفت اور اس کے ذریعے سے نشانی و معجزے کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ اور اہل غفلت، کند ذہن اور ذہانت سے محروم لوگوں کا معاملہ اس کے برعکس ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتوں کو یاد نہ رکھنے اور اس کی آیات میں غور و فکر نہ کرنے کے سبب سے آیات الٰہی سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہیں۔