Tafsir As-Saadi
69:25 - 69:37

اور لیکن جو شخص کہ دیا گیا وہ اپنا نامۂ اعمال اپنے بائیں ہاتھ میں تو وہ کہے گا، اے کاش! نہ دیا جاتا میں اپنا نامہ ٔ اعمال (25) اور نہ جانتا میں، کیا ہے میرا حساب؟ (26) اے کاش! ہوتی وہ (موت) فیصلہ کر دینے والی (27) نہیں فائدہ دیا مجھے میرے مال نے (28) فنا ہو گئی مجھ سے میری سلطنت(29)(حکم ہو گا) پکڑو اس کو، پس طوق ڈال دو اسے (30) پھر دہکتی (بھڑکتی) آگ میں جھونک دو اس کو (31) پھر ایک زنجیر میں کہ لمبائی اس کی ستر ہاتھ ہے، پس (اس میں) جکڑ (یا پَرُو) دو اسے (32) بلاشبہ وہ تھا، نہیں ایمان لاتا تھا اللہ عظمت والے پر (33) اور نہ وہ شوق دلاتا تھا کھانا کھلانے پر، مسکین کو (34) پس نہیں ہے اس کے لیے آج یہاں کوئی غم خوار دوست (35) اور نہیں کوئی کھانا (اس کے لیے) سوائے زخموں کے دھووَن کے (36) نہیں کھائیں گے اس کو مگر گناہ گار ہی (37)

[29-25] یہی وہ لوگ ہیں جو بدبخت ہیں جن کو امتیاز، رسوائی، عار اور فضیحت کے طور پر ان کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے جن میں اعمال بد درج ہوں گے، پس ان میں سے کوئی حزن و غم سے کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَنِيۡ لَمۡ اُوۡتَ كِتٰبِيَهۡ﴾ ’’اے کاش مجھے کتاب نہ دی گئی ہوتی۔‘‘ کیونکہ یہ کتاب جہنم میں داخلے اور ابدی خسارے کی ’’خوشخبری‘‘ سناتی ہے۔ ﴿ وَلَمۡ اَدۡرِ مَا حِسَابِيَهۡ﴾ اور کاش میں بھولا بسرا ہو گیا ہوتا، مجھے دوبارہ زندہ کیا جاتا نہ مجھ سے حساب لیا جاتا، اس لیے وہ کہے گا:﴿ يٰلَيۡتَهَا كَانَتِ الۡقَاضِيَةَ﴾ کاش میری موت، ایسی موت ہوتی جس کے بعد مجھے دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا۔ پھر وہ اپنے مال اور سلطنت کی طرف التفات کرے گا تو وہ اس کے لیے وبال ہی وبال ہوں گے، اس نے اس میں سے کچھ بھی آگے روانہ نہ کیا، (اب) یہ مال، خواہ اسے فدیے میں دے دے، اسے عذاب سے نہیں بچا سکے گا، پس وہ کہے گا ﴿ مَاۤ اَغۡنٰؔى عَنِّيۡ مَالِيَهۡ﴾ یعنی اس مال نے مجھے دنیا میں کوئی فائدہ نہیں دیا کیونکہ میں نے اس میں سے کچھ بھی آگے نہیں بھیجا اور نہ یہ مال آخرت ہی میں میرے کام آیا کیونکہ اس کے نفع مند ہونے کا وقت گزر گیا۔ ﴿ هَلَكَ عَنِّيۡ سُلۡطٰنِيَهۡ﴾ یعنی سلطنت چلی گئی اور مٹ گئی، پس لشکروں نے کوئی فائدہ دیا نہ کثرت اور تعداد نے، ساز و سامان کوئی کام آیا نہ جاہ و جلال بلکہ سب کچھ رائیگاں گیا، اس کے سبب سے تمام منافع کھو گئے اور اس کے بدلے میں غم و ہموم اور محتاجی نے آ گھیرا۔
[37-30] پس اس وقت اسے عذاب میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا، انتہائی سخت اور نہایت درشت خو فرشتوں سے کہا جائے گا:﴿ خُذُوۡهُ فَغُلُّوۡهُ﴾ یعنی اس کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈال دو جو اس کا گلا گھونٹ دے۔ ﴿ ثُمَّ الۡؔجَحِيۡمَ صَلُّوۡهُ﴾ پھر جہنم کے انگاروں اور اس کے شعلوں پر اسے الٹ پلٹ کرو ، ﴿ثُمَّ فِيۡ سِلۡسِلَةٍ ذَرۡعُهَا سَبۡعُوۡنَ ذِرَاعًا ﴾’’پھر زنجیر سے جس کی ناپ سترگز ہے۔‘‘ یعنی انتہائی حرارت میں، جہنم کی زنجیروں کے ساتھ ﴿فَاسۡلُكُوۡهُ﴾ ’’اسے جکڑ دو‘‘ یعنی ان زنجیروں میں پرو دو، وہ اس طرح کہ زنجیروں کو اس کی دبر میں داخل کر کے منہ کی طرف سے نکالا گیا ہو اور پھر ان زنجیروں میں لٹکادیا گیا ہو، پس اسے ہمیشہ یہ انتہائی برا عذاب ملتا رہے گا۔ یہ بہت برا عذاب اور بہت بری سزا ہے، ہائے اس کے لیے حسرت ہے اس زجر و توبیخ اور عتاب پر۔ وہ سبب جس نے اسے مقام پر پہنچایا یہ ہے کہ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِ﴾ وہ اپنے رب کا انکار کرنے والا اس کے رسولوں سے عناد رکھنے والا اور رسول جو حق لے کر آئے ہیں اس کو ٹھکرانے والا تھا ﴿ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾یعنی اس کے دل میں رحم نہیں تھا کہ اس بنا پر فقراء اور مساکین پر رحم کرتا۔ وہ اپنے مال میں سے ان کو کھانا کھلاتا ہے نہ دوسروں کو ترغیب دیتا تھا کہ وہ ان کو کھانا کھلائیں کیونکہ اس کا دل ملامت کرنے والے ضمیر سے خالی تھا۔ سعادت اور اس کے مادے کا دار و مدار دو امور پر ہے۔(۱): اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص جس کی بنیاد ایمان باللہ ہے۔ (۲): احسان کی تمام اقسام کے ذریعے سے مخلوق پر احسان کرنا جن میں سے سب سے بڑا احسان محتاجوں کو کھانا کھلا کر ان کی ضرورت پوری کرنا ہے … مگر ان لوگوں کے پاس اخلاص ہے نہ احسان، اس لیے وہ اسی چیز کے مستحق ہیں جس کا استحقاق انھوں نے ثابت کیا ہے۔ ﴿ فَلَيۡسَ لَهُ الۡيَوۡمَ هٰهُنَا﴾ ’’پس نہیں ہے آج یہاں اس کے لیے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن ﴿حَمِيۡمٌ ﴾ کوئی قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست جو اس کی سفارش کرے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے یا اللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَلَا تَنۡفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنۡدَهٗۤ اِلَّا لِمَنۡ اَذِنَ لَهٗ﴾(سبا: 34؍23) ’’اللہ کے ہاں، کسی کے لیے سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لیے جس کے بارے میں خود سفارش کی اجازت دے۔‘‘ نیز فرمایا:﴿ مَا لِلظّٰلِمِيۡنَ مِنۡ حَمِيۡمٍ وَّلَا شَفِيۡعٍ يُّطَاعُ﴾(المؤمن:40؍18)’’ظالموں کا کوئی جگری دوست ہو گا نہ کوئی سفارش کرنے والا کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔‘‘﴿ وَّلَا طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ غِسۡلِيۡنٍ﴾ ’’اور نہ غسلین کے سوا ان کا کوئی کھانا ہے۔‘‘ یہ اہل جہنم کی پیپ ہے جو حرارت، کڑواہٹ بدبو اور بدذائقہ ہونے میں انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ نہیں کھائیں گے یہ قابل مذمت کھانا ﴿ اِلَّا الۡخَاطِــُٔوۡنَ﴾ مگر خطاکار ہی جو سیدھے راستے سے ہٹ گئے اور ہر اس راستے پر چل پڑے جو انھیں جہنم تک پہنچاتا ہے، اس لیے وہ درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہرے۔